ایک غزل : اک نقشِ سطحِ آبِ رواں ہے یہ زندگی

سید عاطف علی — جولائی 13، 2020 3:11 شام
اک نقشِ سطحِ آبِ رواں ہے یہ زندگی
اے موج ِتیز گام! کہاں ہے یہ زندگی
کل تک تھی اپنے آپ پہ نازاں یہ زندگی
کیوں آج خود پہ نوحہ کناں ہے یہ زندگی
شعلے میں شمع کے جو مسلسل تھی اک صدا
پروانے کہہ رہے تھے یہاں ہے یہ زندگی
جن کے بیاں کو قفل پڑے ہیں زبان پہ
ان کہنہ حسرتوں کا نشاں ہے یہ زندگی
کروبیءاجل کو ذرا دے کوئی صدا
شانوں پہ اب تو بار گراں ہے یہ زندگی
دو بھی قدم ٹھہرنا جہاں پر محال ہے
ایک ایسا کاروانِ رواں ہے یہ زندگی
مشہود میں ہو فرق نہ شاہد سے کچھ جہاں
ایسے مشاہدے میں نہاں ہے یہ زندگی
ہے پائمال ِکوشش ِ روزینہءِ بقا
کاندھے پہ ایک سنگ گراں ہے یہ زندگی
عاطف تجھے گماں تھا یقیں زندگی میں ہو
آخر ہوا یقیں کہ گماں ہے یہ زندگی
سید عاطف علی
13 جولائی 2020​
محمد احسن سمیع راحلؔ — جولائی 13، 2020 11:51 شام
ہے پائمال ِکوشش ِ روزینہءِ بقا
یوں مدتوں سے سربگریباں ہے زندگی
عاطف تجھے گماں تھا یقیں زندگی میں ہو
آخر ہوا یقیں کہ گماں ہے یہ زندگی

بہت خوب، کیا کہنے عاطف بھائی ... بہت اعلی!
سید عاطف علی — جولائی 14، 2020 5:08 صبح
بہت خوب، کیا کہنے عاطف بھائی ... بہت اعلی!
بہت شکریہ و آداب راحل بھائی ۔ذرہ نوازی آپ کی ۔ سلامت رہیں ہمیشہ ۔
عبید انصاری — جولائی 14، 2020 5:36 صبح
بہت خوب!
سید عاطف علی — جولائی 14، 2020 8:33 صبح
جی بہت شکریہ و آداب ۔ انصاری بھائی ۔ سلامتی ہو جناب پر ۔
محمد وارث — جولائی 14، 2020 8:40 صبح
عمدہ غزل ہے سید صاحب محترم، لاجواب۔
سید عاطف علی — جولائی 14، 2020 1:10 شام
عمدہ غزل ہے سید صاحب محترم، لاجواب۔
جی بہت شکریہ و آداب ۔ وارث بھائی ۔ سلامت رہیں سدا ۔
ایس ایس ساگر — جولائی 14، 2020 1:40 شام
واہ۔بہت ہی عمدہ شاعری۔خوبصورت خیالات۔ منفرد اسلوب۔ بہت خوب عاطف بھائی۔اللہ آپ پر اپنی رحمتوں کا نزول ہمیشہ جاری رکھے۔
سید عاطف علی — جولائی 15، 2020 6:21 شام
واہ۔بہت ہی عمدہ شاعری۔خوبصورت خیالات۔ منفرد اسلوب۔ بہت خوب عاطف بھائی۔اللہ آپ پر اپنی رحمتوں کا نزول ہمیشہ جاری رکھے۔
بہت شکریہ و آداب ساگر صاحب ۔ اللہ خوش رکھے آپ کو بھی ۔
ظہیراحمدظہیر — جولائی 18، 2020 10:57 شام
واہ واہ! بہت خوب ! بہت اچھے عاطف بھائی !
کیا اچھے اشعار ہیں ! لطف آیا پڑھ کر ۔ آپ کے خاص انداز کی غزل ہے ۔ واہ!
کہنہ حسرتوں والے شعر کے لفظِ اول کو دیکھ لیجئے ۔ ٹائپو ہوگیا ہے ۔
الف عین — جولائی 19، 2020 6:18 صبح
واہ، عمدہ غزل
محمد تابش صدیقی — جولائی 19، 2020 7:14 صبح
عاطف بھائی کیا کہنے۔
کمال غزل ہے۔
اور مقطع تو کیا ہی کہنے
الف نظامی — جولائی 19، 2020 12:02 شام
ماشاء اللہ ، بہت خوب۔
سید عاطف علی — جولائی 19، 2020 1:19 شام
بہت شکریہ و آداب نظامی صاحب ۔
صابرہ امین — جولائی 19، 2020 3:20 شام

کل تک تھی اپنے آپ پہ نازاں یہ زندگی
کیوں آج خود پہ نوحہ کناں ہے یہ زندگی
ہے پائمال ِکوشش ِ روزینہءِ بقا
یوں مدتوں سے سربگریباں ہے زندگی
عاطف تجھے گماں تھا یقیں زندگی میں ہو
آخر ہوا یقیں کہ گماں ہے یہ زندگی

ما شا اللہ ۔ ۔ ۔ بہت شاندار بہت اعلیٰ ۔ ۔ ۔
ڈھیروں داد قبول کیجیئے ۔ ۔
سید عاطف علی — جولائی 20، 2020 6:30 شام
واہ واہ! بہت خوب ! بہت اچھے عاطف بھائی !
کیا اچھے اشعار ہیں ! لطف آیا پڑھ کر ۔ آپ کے خاص انداز کی غزل ہے ۔ واہ!
کہنہ حسرتوں والے شعر کے لفظِ اول کو دیکھ لیجئے ۔ ٹائپو ہوگیا ہے ۔
شکریہ اور بہت آداب ظہیر بھائی ۔
کچھ وقت سر کی حد سے گزر چکا تو اب یہ اصلاح محمد تابش صدیقی بھائی یا محمد خلیل الرحمٰن بھائی ہی کر سکیں ۔ اس شعر کے شروع میں جس کے بجائے جن کردیں تو خطا سے مامون ہو جائے ۔ تصحیح کا پھر شکریہ ۔
جن کے بیاں کو قفل پڑے ہیں زبان پہ
ان کہنہ حسرتوں کا نشاں ہے یہ زندگی​
نور وجدان — جولائی 20، 2020 7:23 شام
اک نقشِ سطحِ آبِ رواں ہے یہ زندگی
اے موج ِتیز گام! کہاں ہے یہ زندگی
کل تک تھی اپنے آپ پہ نازاں یہ زندگی
کیوں آج خود پہ نوحہ کناں ہے یہ زندگی
شعلے میں شمع کے جو مسلسل تھی اک صدا
پروانے کہہ رہے تھے یہاں ہے یہ زندگی
جن کے بیاں کو قفل پڑے ہیں زبان پہ
ان کہنہ حسرتوں کا نشاں ہے یہ زندگی
کروبیءاجل کو ذرا دے کوئی صدا
شانوں پہ اب تو بار گراں ہے یہ زندگی
دو بھی قدم ٹھہرنا جہاں پر محال ہے
ایک ایسا کاروانِ رواں ہے یہ زندگی
مشہود میں ہو فرق نہ شاہد سے کچھ جہاں
ایسے مشاہدے میں نہاں ہے یہ زندگی
ہے پائمال ِکوشش ِ روزینہءِ بقا
یوں مدتوں سے سربگریباں ہے زندگی
عاطف تجھے گماں تھا یقیں زندگی میں ہو
آخر ہوا یقیں کہ گماں ہے یہ زندگی
سید عاطف علی
13 جولائی 2020​
واہ واہ واہ
لطف آگیا کافی عرصے بعد اچھی غزل پڑھ کے ۔ ابھی محترم ظہیر صاحب کی غزل کا اک جملہ گنگنا رہی تھی کہ
ع: اجلی رادائے عکس کو میلا کہیں گے لوگ
غلطی ہو لکھنے میں تو معذرت
اسکے بعد مطلع ہی بہت بڑھیا ہے
ردیف ایسی نبھی ہے کہ اک شعر بھی غیر ضروری نہیں
ماشاءاللہ
نور وجدان — جولائی 20، 2020 7:24 شام
اسکی وضاحت کر دیجیے
سید عاطف علی — جولائی 20، 2020 7:26 شام
اسکی وضاحت کر دیجیے
نور بٹیا ۔ کِرّوبی یعنی فرشتہ ۔ (kirrobi) ۔ یہ تو عام لفظ ہے ، زیادہ اجنبی نہیں ۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
نور وجدان — جولائی 20، 2020 7:28 شام
کِرّوبی یعنی فرشتہ ۔ (kirrobi) ۔ یہ تو عام لفظ ہے ، زیادہ اجنبی نہیں ۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
ہے تو لفظ عام. کروبی اجل کی اصطلاح عام نہیں تھی. پر بہت شکریہ ... کم کہتے ہیں پر اچھا اور عمدہ کہتے ۔ لاجواب کہتے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%DA%A9-%D9%86%D9%82%D8%B4%D9%90-%D8%B3%D8%B7%D8%AD%D9%90-%D8%A2%D8%A8%D9%90-%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA-%DB%81%DB%92-%DB%8C%DB%81-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C.112417/