لاريب اخلاص — جولائی 22، 2020 2:34 صبح
ماشاءاللہ!
بہت عمدہ!
عاطف ملک — جولائی 22، 2020 7:15 صبح
اک نقشِ سطحِ آبِ رواں ہے یہ زندگی
اے موج ِتیز گام! کہاں ہے یہ زندگی
کل تک تھی اپنے آپ پہ نازاں یہ زندگی
کیوں آج خود پہ نوحہ کناں ہے یہ زندگی
شعلے میں شمع کے جو مسلسل تھی اک صدا
پروانے کہہ رہے تھے یہاں ہے یہ زندگی
جن کے بیاں کو قفل پڑے ہیں زبان پہ
ان کہنہ حسرتوں کا نشاں ہے یہ زندگی
کروبیءاجل کو ذرا دے کوئی صدا
شانوں پہ اب تو بار گراں ہے یہ زندگی
دو بھی قدم ٹھہرنا جہاں پر محال ہے
ایک ایسا کاروانِ رواں ہے یہ زندگی
مشہود میں ہو فرق نہ شاہد سے کچھ جہاں
ایسے مشاہدے میں نہاں ہے یہ زندگی
ہے پائمال ِکوشش ِ روزینہءِ بقا
یوں مدتوں سے سربگریباں ہے زندگی
عاطف تجھے گماں تھا یقیں زندگی میں ہو
آخر ہوا یقیں کہ گماں ہے یہ زندگی
سید عاطف علی
13 جولائی 2020
واہ۔۔۔۔کمال است۔
کِرّوبی یعنی فرشتہ ۔ (kirrobi) ۔ یہ تو عام لفظ ہے ، زیادہ اجنبی نہیں ۔
مجھ ایسوں کیلیے تو یہ لفظ اجنبی ہی تھا۔بہرحال اب نہیں رہا۔اس کے لیے الگ سے شکریہ

سید عاطف علی — جولائی 23، 2020 9:56 شام
بہت بہت شکریہ ڈاکٹر عاطف ملک صاحب ۔ سدا سلامتی ہو آپ پر ۔
محمد شکیل خورشید — جولائی 25، 2020 10:25 شام
اعلیٰ نہایت خوبصورت
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 25، 2020 10:30 شام
اک نقشِ سطحِ آبِ رواں ہے یہ زندگی
اے موج ِتیز گام! کہاں ہے یہ زندگی
کل تک تھی اپنے آپ پہ نازاں یہ زندگی
کیوں آج خود پہ نوحہ کناں ہے یہ زندگی
شعلے میں شمع کے جو مسلسل تھی اک صدا
پروانے کہہ رہے تھے یہاں ہے یہ زندگی
جن کے بیاں کو قفل پڑے ہیں زبان پہ
ان کہنہ حسرتوں کا نشاں ہے یہ زندگی
کروبیءاجل کو ذرا دے کوئی صدا
شانوں پہ اب تو بار گراں ہے یہ زندگی
دو بھی قدم ٹھہرنا جہاں پر محال ہے
ایک ایسا کاروانِ رواں ہے یہ زندگی
مشہود میں ہو فرق نہ شاہد سے کچھ جہاں
ایسے مشاہدے میں نہاں ہے یہ زندگی
ہے پائمال ِکوشش ِ روزینہءِ بقا
یوں مدتوں سے سربگریباں ہے زندگی
عاطف تجھے گماں تھا یقیں زندگی میں ہو
آخر ہوا یقیں کہ گماں ہے یہ زندگی
سید عاطف علی
13 جولائی 2020
خوبصورت خوبصورت!!!
سید عاطف علی — جولائی 26، 2020 3:40 صبح
شکریہ شکیل خورشید بھائی۔ سامت رہیں ۔
سیما علی — جولائی 26، 2020 5:45 صبح
اک نقشِ سطحِ آبِ رواں ہے یہ زندگی
اے موج ِتیز گام! کہاں ہے یہ زندگی
کل تک تھی اپنے آپ پہ نازاں یہ زندگی
کیوں آج خود پہ نوحہ کناں ہے یہ زندگی
شعلے میں شمع کے جو مسلسل تھی اک صدا
پروانے کہہ رہے تھے یہاں ہے یہ زندگی
جن کے بیاں کو قفل پڑے ہیں زبان پہ
ان کہنہ حسرتوں کا نشاں ہے یہ زندگی
کروبیءاجل کو ذرا دے کوئی صدا
شانوں پہ اب تو بار گراں ہے یہ زندگی
دو بھی قدم ٹھہرنا جہاں پر محال ہے
ایک ایسا کاروانِ رواں ہے یہ زندگی
مشہود میں ہو فرق نہ شاہد سے کچھ جہاں
ایسے مشاہدے میں نہاں ہے یہ زندگی
ہے پائمال ِکوشش ِ روزینہءِ بقا
یوں مدتوں سے سربگریباں ہے زندگی
عاطف تجھے گماں تھا یقیں زندگی میں ہو
آخر ہوا یقیں کہ گماں ہے یہ زندگی
سید عاطف علی
13 جولائی 2020
سید صاحب !!!!
بہت زبردست۔
ڈھیر ساری دعائیں
سید عاطف علی — جولائی 26، 2020 1:15 شام
جزاک اللہ سیما آپا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے ۔
علم و عمل میں برکت دے ۔ صدہا آداب و تشکر آپ کے لیے ۔
سیما علی — جولائی 26، 2020 1:54 شام
جزاک اللہ سیما آپا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے ۔
علم و عمل میں برکت دے ۔ صدہا آداب و تشکر آپ کے لیے ۔
آپ کی دعاؤں کا تہ دل سے شکریہ ،جیتے رہیے شاد و آباد رہیے ،آپکا قلم دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے آمین۔
سید عاطف علی — جولائی 30، 2020 10:16 صبح
بہت آداب و تشکر خلیل بھائی ۔ سلامتی ہو ۔
سید عاطف علی — اگست 7، 2020 9:11 شام
آداب و شکریہ شکیل بھائی ، آپ کے لیے ۔
لاریب مرزا — ستمبر 6، 2020 7:30 صبح
بہت خوب غزل ہے!
سید عاطف علی — ستمبر 7، 2020 8:37 شام
شکریہ و آداب لاریب بٹیا ۔ شاد آباد رہیئے ۔
سید ذیشان — ستمبر 8، 2020 12:41 صبح
بہت خوب
سید عاطف علی بھائی! آج ہی یہ غزل نظر سے گزری۔
سید عاطف علی — ستمبر 8، 2020 3:38 صبح
آداب تشکر ۔
سید ذیشان بھائی ۔ سلامتی ہو آپ پر ۔
مقبول — ستمبر 8، 2020 5:05 صبح
عاطف تجھے گماں تھا یقیں زندگی میں ہو
آخر ہوا یقیں کہ گماں ہے یہ زندگی
بہت اعلیٰ
جاسمن — ستمبر 24، 2020 4:39 شام
عاطف تجھے گماں تھا یقیں زندگی میں ہو
آخر ہوا یقیں کہ گماں ہے یہ زندگی
خوبصورت غزل۔ بہت پیارے اشعار۔
ع:آخر ہوا یقیں کہ گماں ہے یہ زندگی
واہ واہ!
امین شارق — ستمبر 24، 2020 4:47 شام
ہے پائمال ِکوشش ِ روزینہءِ بقا
یوں مدتوں سے سربگریباں ہے زندگی yahan wazan me farq hai zara ghor karen q k hey k bad ye nahi likha
سید عاطف علی — ستمبر 24، 2020 5:03 شام
ہے پائمال ِکوشش ِ روزینہءِ بقا
یوں مدتوں سے سربگریباں ہے زندگی yahan wazan me farq hai zara ghor karen q k hey k bad ye nahi likha
شکریہ ،
امین شارق صاحب۔
وزن میں تو خیرفرق نہیں البتہ ایک دوسرے قافیے والی غزل کا شعر اس میں شامل ہو گیا ۔

بہر حال نشان دِھی کا شکریہ
میں اس کا بندوبست کرتا ہوں ۔
