محمد اظہر نذیر — جنوری 3، 2010 10:05 صبح
زندگی اک نصاب ہے با با
عمر بھرکاعذاب ہے بابا
روح میں درد یوں سمویا ہے
روزوشب اضطراب ہے بابا
بے وفا تو چلے ہی جاتے ہیں
تیرا جانا عذاب ہے بابا
تونے ایسا سوال پوچھا ہے
جس کا الجھا جواب ہے بابا
میری آنکھوں میں بس گیا ہے چمن
تیرا چہرا گلاب ہے بابا
یہ شاعری لا جواب ہے بابا
عمران شناور — جنوری 5، 2010 6:23 صبح
اچھی غزل ہے سلیمانصاحب!
مغزل — جنوری 5، 2010 8:16 صبح
سلیمان صاحب، بہت خوب،، اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
عبدالرحمن سید — جنوری 16، 2010 4:00 شام
زندگی اک نصاب ہے با با
عمر بھرکاعذاب ہے بابا
روح میں درد یوں سمویا ہے
روزوشب اضطراب ہے بابا
بے وفا تو چلے ہی جاتے ہیں
تیرا جانا عذاب ہے بابا
تونے ایسا سوال پوچھا ہے
جس کا الجھا جواب ہے بابا
میری آنکھوں میں بس گیا ہے چمن
تیرا چہرا گلاب ہے بابا
بہت ھی خوب، سلیمان جاذب جی!!!!! کیا جوش شباب ھے بابا،!!!!!!