خلا میں غور سے دیکھوں
تو اک تصویر بنتی ہے
اور اس تصویر کا چہرہ
ترے چہرے سے ملتا ہے
وہی آنکھیں‘ وہی رنگت
وہی ہیں خال و خد سارے
مری آنکھوں سے دیکھو تو
تجھے اس عکس کے چہرے پہ
اک تل بھی دکھائی دے
جو بالکل تیرے چہرے پہ
سجے اُس تل کے جیسا ہے
جو گہرا ہے
بہت گہرا
سمندر سے بھی گہرا ہے
کہ اس گہرائی میں اکثر
شناور ڈوب جاتا ہے (عمران شناور)
محمداحمد — جولائی 27، 2009 11:45 صبح
عمران بھائی، ماشاءاللہ بہت اچھی نظم ہے ۔ خاص طور پر "شناور" کا " ڈوب جانا" بہت عمدہ اظہاریہ ہے ۔
الف عین — جولائی 27، 2009 6:29 شام
واہ، احمد نے میرے منہ کی بات چھین لی۔
محمد وارث — جولائی 27، 2009 6:37 شام
بہت اچھی نظم ہے عمران صاحب، لاجواب!
محمد نعمان — جولائی 28، 2009 8:18 صبح
عمران بھائی واقعی لاجواب اور عمدہ
خرم شہزاد خرم — جولائی 28، 2009 8:26 صبح
بہت اچھی نظم ہے جناب بہت خوب
آصف شفیع — جولائی 29، 2009 6:09 صبح
بہت اچھے عمران، عمدہ نظم ہے۔
مغزل — جولائی 29، 2009 6:47 صبح
کیا کہنے شناور صاحب، واہ ۔، واہ ۔۔ مبارک ہو جناب خوب نظم ہے واہ
احمد میاں بازی لے گئے ۔ خیر ایک شعر یاد آرہا ہے ۔۔ تھک ہار کے منجدھار میں سب ڈوب رہے تھے
مجھ ایسا سمندر کا شناور نہیں نکلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلا میں غور سے دیکھوں
تو اک تصویر بنتی ہے
اور اس تصویر کا چہرہ
ترے چہرے سے ملتا ہے
وہی آنکھیں‘ وہی رنگت
وہی ہیں خال و خد سارے
مری آنکھوں سے دیکھو تو
تجھے اس عکس کے چہرے پہ
اک تل بھی دکھائی دے
جو بالکل تیرے چہرے پہ
سجے اُس تل کے جیسا ہے
جو گہرا ہے
بہت گہرا
سمندر سے بھی گہرا ہے
کہ اس گہرائی میں اکثر
شناور ڈوب جاتا ہے (عمران شناور)
خلا میں غور سے دیکھوں
تو اک تصویر بنتی ہے
اور اس تصویر کا چہرہ
ترے چہرے سے ملتا ہے
وہی آنکھیں‘ وہی رنگت
وہی ہیں خال و خد سارے
مری آنکھوں سے دیکھو تو
تجھے اس عکس کے چہرے پہ
اک تل بھی دکھائی دے
جو بالکل تیرے چہرے پہ
سجے اُس تل کے جیسا ہے
جو گہرا ہے
بہت گہرا
سمندر سے بھی گہرا ہے
کہ اس گہرائی میں اکثر
شناور ڈوب جاتا ہے (عمران شناور)
بہت ہی خوب اور عمدہ جناب عمران شناور صاحب۔ ماشاء اللہ
عمران شناور — دسمبر 17، 2009 7:36 صبح
درویش اور کاشفی صاحب بہت شکریہ پسند فرمانے کے لیے
محمود احمد غزنوی — دسمبر 18، 2009 5:00 شام
پیاری نظم ہے۔ ۔ خوبصورت خیال اور خوبضورت اظہار
عمران شناور — دسمبر 31، 2009 6:51 صبح
محمود احمد غزنوی صاحب بہت شکریہ
مطیع الرحمٰن — دسمبر 31، 2009 7:26 صبح
ماشاءاللہ عمران بھائی بہت ہی عمدہ
میری ایک حقیر سی تجویز ہے اور وہ یہ کہ آپ جلد از جلد اپنی ذاتی سائیٹ کا اجراء ممکن بنائیں تاکہ آپ کی شاعری ایک ہی جگہ مل جائے اور "کوئی"چوری بھی نہ کرسکے۔
ایسا ممکن نہ ہوتو ایک بلاگ ہی بنا ڈالیں۔
امید ہے تجویز پرجلد از جلد عمل درآمدہوسکے گا۔
عمران شناور — دسمبر 31، 2009 7:38 صبح
بہت شکریہ مطیع الرحمنصاحب!
آپ کی تجویز بہت اچھی ہے۔ کیونکہ میں تو صرف اپنی ایک غزل جو ایف ایم پر سنائی گئی کو رو رہا تھا' کسی فیصل نامی نے میری دو تین غزلیں اپنے بلاگ پر اپنے نام سے لگائی ہوئی ہیں' مقطع میں عمران کی جگہ فیصل لکھ کر۔
اگر کوئی دوست بلاگ بنا دے یا بنانے کا طریقہ بتا دے تو نوازش ہوگی۔