اے فاحشہ مزاج! تماشا خرید لا ۔ فاتح الدین بشیر

فاتح — اکتوبر 20، 2012 7:19 صبح
جا اس کے در پہ عرقِ ندامت لیے ہوئے
جامِ انا کو بیچ کے کاسہ خرید لا
بہت شکریہ
فاتح — اکتوبر 20، 2012 7:20 صبح
کیا کہنے فاتح صاحب ،، بہت زبردست غزل ہے ۔
منصور بھائی! آپ ہی کا اعجاز ہے۔
فاتح — اکتوبر 20، 2012 7:24 صبح
انگریزی میں داد کا اردو میں شکریہ بیٹا :applause:
فاتح — اکتوبر 20، 2012 7:24 صبح
یوسف کو بیچ مصر کی بازار گہ کے بیچ​
یونان سے تُو زہر کا پیالہ خرید لا​
بہت عُمدہ۔۔​
بہت شکریہ
فاتح — اکتوبر 20، 2012 7:24 صبح
جا اس کے در پہ عرقِ ندامت لیے ہوئے
جامِ انا کو بیچ کے کاسہ خرید لا
یوسف کو بیچ مصر کی بازار گہ کے بیچ
یونان سے تُو زہر کا پیالہ خرید لا
واہ واہ واہ، لاجواب۔ کیا کہنے فاتح صاحب
بہت شکریہ جناب۔ آپ کی محبتیں ہیں۔
فاتح — اکتوبر 20، 2012 7:25 صبح
شکریہ
فاتح — اکتوبر 20، 2012 7:26 صبح
واہ واہ فاتح بھائی کیا بات ہے۔
ہمیشہ کی طرح لاجواب غزل کہی ہے آپ نے۔
بہت 'سی' داد حاضرِ خدمت ہے۔ :)
خوش رہیے۔
محمداحمد بھائی اس پذیرائی پر ممنون ہوں۔
باباجی — اکتوبر 20، 2012 7:29 صبح
واہ بہت خوب@فاتح
انتہا — اکتوبر 20، 2012 7:35 صبح
سبحان اللہ، کیا کہنے!
بہت عمدہ فاتح بھائی،
تخیل کی عجیب پرواز پائی ہے آپ نے
ناعمہ عزیز — اکتوبر 20، 2012 7:42 صبح
انگریزی میں داد کا اردو میں شکریہ بیٹا :applause:
:tongue::hatoff:
فاتح — اکتوبر 20، 2012 7:58 صبح
بہت شکریہ
فاتح — اکتوبر 20، 2012 7:58 صبح
سبحان اللہ، کیا کہنے!
بہت عمدہ فاتح بھائی،
تخیل کی عجیب پرواز پائی ہے آپ نے
ذرہ نوازی ہے آپ کی۔ ممنون ہوں
محمد بلال اعظم — اکتوبر 20، 2012 8:04 صبح
اے فاحشہ مزاج! تماشا خرید لا​
گھنگرو سجا لے پاؤں میں، باجا خرید لا​
میرے جنون عشق کی رانی تو مر چکی​
بازار سے تُو جا کوئی راجا خرید لا​
جذباتِ عشق گہرے سمندر میں ڈال دے​
تف ایسی بے بسی پہ، کنارا خرید لا​
نیلام کر دے رات کی یہ زرد چاندنی​
سورج کے دام صبح کا تارا خرید لا​
جا اس کے در پہ عرقِ ندامت لیے ہوئے​
جامِ انا کو بیچ کے کاسہ خرید لا​
ارزانیوں پہ اپنی پشیماں ہے کس قدر​
اے میرے خواب! اس کا سراپا خرید لا​
یوسف کو بیچ مصر کی بازار گہ کے بیچ​
یونان سے تُو زہر کا پیالہ خرید لا​
فاتح الدین بشیرؔ​

پسند
لاجواب
زبردست
زبردست
زبردست
رانا — اکتوبر 20، 2012 9:16 صبح
بہت شکریہ رانا صاحب۔
ویسے یقین کیجیے ہمیں پہلے ہی معلوم تھا کہ آپ کو یہی شعر پسند آئے گا۔ :)
ارے واہ! حیرت انگیز۔ :rolleyes:
ویسے اتنے یقین کی وجہ کیا تھی۔ کہیں آپ ہمارے مزاج شناس تو نہیں بن گئے؟:)
فاتح — اکتوبر 20، 2012 9:32 صبح
ارے واہ! حیرت انگیز۔ :rolleyes:
ویسے اتنے یقین کی وجہ کیا تھی۔ کہیں آپ ہمارے مزاج شناس تو نہیں بن گئے؟:)
آپ کے مراسلوں میں کہیں نماز شماز کا تذکرہ تھا تو ہمیں لگا کہ اللہ والے لوگ ہوں گے۔۔۔ ہم جیسے دہریے نہیں۔ :laughing: اور اللہ والوں کو یہی شعر پسند آ سکتا ہے۔ :laughing:
رانا — اکتوبر 20، 2012 11:19 صبح
آپ کے مراسلوں میں کہیں نماز شماز کا تذکرہ تھا تو ہمیں لگا کہ اللہ والے لوگ ہوں گے۔۔۔
شکر ہے کہ آپ نے صرف گمان ہی کیا ہے۔:) نماز شماز کےصرف تذکروں سے لوگوں کے اللہ والے ہونے کے اندازے درست ہونے لگیں تو قیامت ہی آجائے۔:)
ہم جیسے دہریے نہیں۔ :laughing:
آپ کی دہریت کو تو اب ہم جاننے لگے ہیں آہستہ آہستہ۔:)
حسن ترا فقط ملال، ذات مری بھی پائمال
اوجِ کمال و لازوال، کافی ہے اک خدا مجھے

:)
مقدس — اکتوبر 20، 2012 11:31 صبح
میں بھی واہ واہ کر دوں کیا بھیا
خرم شہزاد خرم — اکتوبر 20، 2012 11:50 صبح
بہت خوب جناب بہت اچھی شاعری ہے
پردیسی — اکتوبر 20، 2012 2:47 شام
واہ ۔۔خوب ہے فاتح برادر ۔۔ عمدہ کلام
فاتح — اکتوبر 20، 2012 10:37 شام
شکر ہے کہ آپ نے صرف گمان ہی کیا ہے۔:) نماز شماز کےصرف تذکروں سے لوگوں کے اللہ والے ہونے کے اندازے درست ہونے لگیں تو قیامت ہی آجائے۔:)
ہم تو حسنِ زن کے قائل ہیں۔ ;)
یہ ازمنہ قدیم کا شعر ہے۔:laughing:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%DB%92-%D9%81%D8%A7%D8%AD%D8%B4%DB%81-%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%AC-%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7-%D8%AE%D8%B1%DB%8C%D8%AF-%D9%84%D8%A7-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.55552/page-2