نوازش ، بہت شکریہ ، خواہرم جاسمن! ذرہ نوازی ہے آپ کی ۔ اللّٰہ کریم آپ کو شاد و آباد رکھے ، آپ سلامت رہیں!
چونکہ اس غزل کا محرک ہاشم بھائی کا خوبصورت شعر تھا اس لیے اس کا پس منظر بیان کرنا ضروری سمجھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض کیفیات ، مقامات یا مناظر ایسے ہوتے ہیں کہ ہمیشہ کے لیے آپ کی یاد کا حصہ بن جاتے ہیں، جیسے تصور پر نقش ہوگئے ہوں ۔ میرے ساتھ تو خصوصاً ایسا بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ بعض شامیں ، راتیں اور دوپہریں کچھ شہروں اور بستیوں میں ایسی گزری ہیں کہ اپنی تمام تر جزئیات سمیت آج بھی تصور میں زندہ ہیں ۔
میڈیسن شہر ریاست وسکانسن کا دارالحکومت ہے اور یونیورسٹی ٹاؤن ہے ۔ وسکانسن بہت خوبصورت ریاست ہے ۔ خوبصورت فطری مناظر سے بھرپور! یہاں کا موسمِ خزاں انتہائی دیدہ زیب ہوتا ہے ۔ لوگ بہت دور دور سے دیکھنے آتے ہیں ۔ مجھے خزاں کا موسم بہت پسند ہے ۔ اکثر ہلکی گرم جیکٹ اور ٹوپ پہن کر لمبی مٹرگشت کے لیے نکل جایا کرتا تھا ۔ اور دو گھنٹے بعد واپس گھر آکر گرما گرم چائے کے ساتھ بیگم کی موسلا دھار ڈانٹ کھایا کرتا تھا ۔
مجھے بھی خزاں کا موسم بے حد پسند ہے۔ میرا بس نہیں چلتا، اگر چلے تو نجانے کہاں کہاں گھوموں۔

مجھے تو گرمیوں کی دوپہر یں بھی بہت پسند ہیں۔ ایک دور تھا کہ میں بغیر پنکھے کے گرمی کے موسم سے بھی لطف اندوز ہوتی تھی۔ اسی دور میں سویٹر کے ساتھ بس دس دن دسمبر و جنوری کے گزرتے تھے۔ باقی بغیر سویٹر کے۔
ابھی دو سال پہلے کی بات ہے کہ جنوری کے اوائل میں ہیڈ سائفن گئے اور بارش ہو رہی تھی۔ شدید سردی میں بارش میں خوب بھیگی۔ اوپر پل سے گزر کے اگلی جانب پہنچی۔ میں وہ لمحات نہیں بھول سکتی۔ اس قدر خوشی، لطف و انبساط پایا کہ جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ بارش ، بادل، پل، پل کے نیچے چلتا پانی،پانی کی بوندوں سے نظر آتا آسمان ، دونوں بازو کھولے بارش کو مکمل خوش آمدید کرتی میں۔
اس منظر میں خود کو دیکھتی ہوں تو اپنا آپ بھی اچھا لگتا ہے۔
اللہ کتنا پیارا ہے ناں!!!