مجھے بھی خزاں کا موسم بے حد پسند ہے۔ میرا بس نہیں چلتا، اگر چلے تو نجانے کہاں کہاں گھوموں۔

مجھے تو گرمیوں کی دوپہر یں بھی بہت پسند ہیں۔ ایک دور تھا کہ میں بغیر پنکھے کے گرمی کے موسم سے بھی لطف اندوز ہوتی تھی۔ اسی دور میں سویٹر کے ساتھ بس دس دن دسمبر و جنوری کے گزرتے تھے۔ باقی بغیر سویٹر کے۔
ابھی دو سال پہلے کی بات ہے کہ جنوری کے اوائل میں ہیڈ سائفن گئے اور بارش ہو رہی تھی۔ شدید سردی میں بارش میں خوب بھیگی۔ اوپر پل سے گزر کے اگلی جانب پہنچی۔ میں وہ لمحات نہیں بھول سکتی۔ اس قدر خوشی، لطف و انبساط پایا کہ جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ بارش ، بادل، پل، پل کے نیچے چلتا پانی،پانی کی بوندوں سے نظر آتا آسمان ، دونوں بازو کھولے بارش کو مکمل خوش آمدید کرتی میں۔
اس منظر میں خود کو دیکھتی ہوں تو اپنا آپ بھی اچھا لگتا ہے۔
اللہ کتنا پیارا ہے ناں!!!