بزمِ یاراں نہ رہی ، شہرِ تمنا نہ رہا

ظہیراحمدظہیر — مارچ 14، 2023 7:07 شام
احبابِ کرام ! چند ماہ پہلے یہ ارادہ لے کر عازمِ محفل ہوا تھا کہ پچھلے دو تین سالوں میں جو آٹھ دس تازہ غزلیں اور دو تین نظمیں جمع ہوگئی ہیں انہیں ایک ایک کرکے ہر ہفتے پوسٹ کروں گا لیکن درمیان میں دیگر سرگرمیاں اور دلچسپیاں آڑے آگئیں اورسخن سرائی کا سلسلہ منقطع ہوگیا ۔ اس سلسلے کو اب دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ ایک غزل پیشِ خدمت ہے ۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف!
***
بزمِ یاراں نہ رہی ، شہرِ تمنا نہ رہا
زندگی تیرا برا ہو ، کوئی میرا نہ رہا
آرزو کاسۂ حسرت میں ڈھلی جاتی ہے
دستِ امید میں باقی کوئی سکہ نہ رہا
تم سے شکوہ نہیں شکوہ ہے زمانے سے مجھے
نہ رہے تم تو کوئی پوچھنے والا نہ رہا
بام و در بھی ہیں میسر مجھے دستار بھی آج
یہ الگ بات کہ سر پر کوئی سایا نہ رہا
اس طرح اپنا بنایا غمِ الفت نے مجھے
غمِ دنیا کو بھی مجھ سے کوئی شکوہ نہ رہا
اٹھ گیا بزمِ مراسم سے دلِ زار بھی اب
ایک بے نام سا ہوتا تھا جو رشتہ ، نہ رہا
بے نوا کر گیا مجھ کو بھی فریبِ دنیا
لبِ ایقان پہ جاری کوئی کلمہ نہ رہا
کیا ملا کارِ مسیحائی سےآخر مجھ کو
غم بھی غیروں کے ہوئے درد بھی اپنا نہ رہا
خوابِ منزل تھے نشاں جس کی مسافت میں ظہیرؔ
ہم سفر مل گئے آخر تو وہ رستہ نہ رہا
***
ظہؔیراحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2022
صابرہ امین — مارچ 14، 2023 8:53 شام
خاصی اداسی ہوئی چند اشعار کو پڑھ کر۔ مگر اداسی بھی تو زندگی کا حصہ ہے ۔ مطلع و مقطع، دونوں بہت خوبصورت۔
آرزو کاسۂ حسرت میں ڈھلی جاتی ہے
دستِ امید میں باقی کوئی سکہ نہ رہا
کیا ملا کارِ مسیحائی سےآخر مجھ کو
غم بھی غیروں کے ہوئے درد بھی اپنا نہ رہا
کیا بات ہے ۔ ۔ بہت سی داد
محمد عدنان اکبری نقیبی — مارچ 15، 2023 5:33 صبح
ماشاءاللّٰه
بہت شاندار کلام
اٹھ گیا بزمِ مراسم سے دلِ زار بھی اب
ایک بے نام سا ہوتا تھا جو رشتہ ، نہ رہا
زبردست شعر بھیا
فرخ منظور — مارچ 15، 2023 11:17 صبح
واہ بہت اعلیٰ ظہیر صاحب۔
صبیح الدین شعیبی — مارچ 15، 2023 11:31 صبح
بام و در بھی ہیں میسر مجھے دستار بھی آج
یہ الگ بات کہ سر پر کوئی سایا نہ رہا
خوبصورت
داد قبول کیجیے ظہیر صاحب
سیما علی — مارچ 15، 2023 11:37 صبح
اٹھ گیا بزمِ مراسم سے دلِ زار بھی اب
ایک بے نام سا ہوتا تھا جو رشتہ ، نہ رہا
واہ واہ واہ ۔
ظہیر بھائی
ماشاء اللہ ماشاء اللہ
ڈھیروں داد و تحسین ۔
جیتے رہیے ۔
بہت شاندار کلام ۔
محمداحمد — مارچ 15، 2023 1:30 شام
سبحان اللہ !
انتہائی خوبصورت!
ایک ایک شعر لاجواب ہے ماشاء اللہ!
بہت داد قبول کیجے ظہیر بھائی! :redheart:
محمداحمد — مارچ 15، 2023 1:30 شام
اگر یہ غزل میں نوجوانی میں پڑھتا تو شاید ہفتہ بھر اداس رہتا ۔
علی وقار — مارچ 15، 2023 1:45 شام
بزمِ یاراں نہ رہی ، شہرِ تمنا نہ رہا
زندگی تیرا برا ہو ، کوئی میرا نہ رہا

آرزو کاسۂ حسرت میں ڈھلی جاتی ہے
دستِ امید میں باقی کوئی سکہ نہ رہا

بام و در بھی ہیں میسر مجھے دستار بھی آج
یہ الگ بات کہ سر پر کوئی سایا نہ رہا

اٹھ گیا بزمِ مراسم سے دلِ زار بھی اب
ایک بے نام سا ہوتا تھا جو رشتہ ، نہ رہا

خوابِ منزل تھے نشاں جس کی مسافت میں ظہیرؔ
ہم سفر مل گئے آخر تو وہ رستہ نہ رہا
ظہیر بھائی، مجھے یہ اشعار بالخصوص بہت پسند آئے۔
ایس ایس ساگر — مارچ 15، 2023 4:20 شام
واہ۔ واہ۔ بہت خوب۔
عمدہ غزل ہے ظہیر بھائی۔
ڈھیروں داد۔
سلامت رہیئے۔آمین۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 15، 2023 4:38 شام
خاصی اداسی ہوئی چند اشعار کو پڑھ کر۔ مگر اداسی بھی تو زندگی کا حصہ ہے ۔ مطلع و مقطع، دونوں بہت خوبصورت۔
آرزو کاسۂ حسرت میں ڈھلی جاتی ہے
دستِ امید میں باقی کوئی سکہ نہ رہا
کیا ملا کارِ مسیحائی سےآخر مجھ کو
غم بھی غیروں کے ہوئے درد بھی اپنا نہ رہا
کیا بات ہے ۔ ۔ بہت سی داد
بہت شکریہ ، نوازش! بہت ممنون ہوں ۔ اللّٰہ آپ کو خوش رکھے۔
بے شک خوشی اور اداسی سارے ہی رنگ زندگی کے ہیں ۔ شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک!
ظہیراحمدظہیر — مارچ 15، 2023 4:39 شام
ماشاءاللّٰه
بہت شاندار کلام
زبردست شعر بھیا
نوازش ، بہت شکریہ، معان بھائی! ممنون ہوں ۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 15، 2023 4:40 شام
واہ بہت اعلیٰ ظہیر صاحب۔
آداب ، بہت نوازش! بہت شکریہ فرخ بھائی ۔ اللّٰہ آپ کو سلامت رکھے۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 15، 2023 4:41 شام
بام و در بھی ہیں میسر مجھے دستار بھی آج
یہ الگ بات کہ سر پر کوئی سایا نہ رہا
خوبصورت
داد قبول کیجیے ظہیر صاحب
بہت شکریہ، جناب شعیبی صاحب ! بہت ممنون ہوں ۔
بزمِ سخن میں خوش آمدید! امید ہے کہ آپ رونق افروز ہوتے رہیں گے۔ بہت شکریہ!
ظہیراحمدظہیر — مارچ 15، 2023 4:42 شام
واہ واہ واہ ۔
ظہیر بھائی
ماشاء اللہ ماشاء اللہ
ڈھیروں داد و تحسین ۔
جیتے رہیے ۔
بہت شاندار کلام ۔
بہت شکریہ، نوازش! بہت ممنون ہوں ، سیما آپا!
ظہیراحمدظہیر — مارچ 15، 2023 4:47 شام
سبحان اللہ !
انتہائی خوبصورت!
ایک ایک شعر لاجواب ہے ماشاء اللہ!
بہت داد قبول کیجے ظہیر بھائی! :redheart:
آداب ، آداب! بہت بہت شکریہ ، احمد بھائی! اللّٰہ کریم آپ کو خوش رکھے ۔ دل بڑھادیتے ہیں آپ ۔
اگر یہ غزل میں نوجوانی میں پڑھتا تو شاید ہفتہ بھر اداس رہتا ۔
دو تین دن تو اب بھی اداس رہ سکتے ہیں ۔ ایسی بھی کیا بات ہے ، احمد بھائی ۔ شادی شہدا ہونے کے بعد اداس ہونے کے حقوق غصب تھوڑی ہوجاتے ہیں۔:)
آپ نے ایسا کوئی عہدنامہ لکھ دیا ہو تو الگ بات ہے۔ :D
ظہیراحمدظہیر — مارچ 15، 2023 4:47 شام
ظہیر بھائی، مجھے یہ اشعار بالخصوص بہت پسند آئے۔
بہت شکریہ ، علی بھائی! بہت مشکور ہوں ۔ اللّٰہ آپ کو خوش رکھے۔
ظہیراحمدظہیر — مارچ 15، 2023 4:48 شام
واہ۔ واہ۔ بہت خوب۔
عمدہ غزل ہے ظہیر بھائی۔
ڈھیروں داد۔
سلامت رہیئے۔آمین۔
نوازش، بہت شکریہ! ممنون ہوں ، ساگر بھائی! اللّٰہ کریم آپ کو خوش رکھے۔
جاسمن — مارچ 16، 2023 1:23 صبح
اللہ اللہ! اتنے پیارے اشعار اور اس قدر دلکش غزل۔
سبحان اللہ!
بہت بہت بہت ۔۔۔ خوب!
لیکن بہت اداس کرنے والی بھی ہے۔ میں ہفتے بھر کے لیے اداس ہونے جا رہی ہوں۔ :D
عرفان علوی — مارچ 16، 2023 9:02 شام
احبابِ کرام ! چند ماہ پہلے یہ ارادہ لے کر عازمِ محفل ہوا تھا کہ پچھلے دو تین سالوں میں جو آٹھ دس تازہ غزلیں اور دو تین نظمیں جمع ہوگئی ہیں انہیں ایک ایک کرکے ہر ہفتے پوسٹ کروں گا لیکن درمیان میں دیگر سرگرمیاں اور دلچسپیاں آڑے آگئیں اورسخن سرائی کا سلسلہ منقطع ہوگیا ۔ اس سلسلے کو اب دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ ایک غزل پیشِ خدمت ہے ۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف!
***
بزمِ یاراں نہ رہی ، شہرِ تمنا نہ رہا
زندگی تیرا برا ہو ، کوئی میرا نہ رہا
آرزو کاسۂ حسرت میں ڈھلی جاتی ہے
دستِ امید میں باقی کوئی سکہ نہ رہا
تم سے شکوہ نہیں شکوہ ہے زمانے سے مجھے
نہ رہے تم تو کوئی پوچھنے والا نہ رہا
بام و در بھی ہیں میسر مجھے دستار بھی آج
یہ الگ بات کہ سر پر کوئی سایا نہ رہا
اس طرح اپنا بنایا غمِ الفت نے مجھے
غمِ دنیا کو بھی مجھ سے کوئی شکوہ نہ رہا
اٹھ گیا بزمِ مراسم سے دلِ زار بھی اب
ایک بے نام سا ہوتا تھا جو رشتہ ، نہ رہا
بے نوا کر گیا مجھ کو بھی فریبِ دنیا
لبِ ایقان پہ جاری کوئی کلمہ نہ رہا
کیا ملا کارِ مسیحائی سےآخر مجھ کو
غم بھی غیروں کے ہوئے درد بھی اپنا نہ رہا
خوابِ منزل تھے نشاں جس کی مسافت میں ظہیرؔ
ہم سفر مل گئے آخر تو وہ رستہ نہ رہا
***
ظہؔیراحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2022
ظہیر بھائی ، حسب معمول نہایت عمدہ كلام ہے . داد پیش ہے .
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D8%B2%D9%85%D9%90-%DB%8C%D8%A7%D8%B1%D8%A7%DA%BA-%D9%86%DB%81-%D8%B1%DB%81%DB%8C-%D8%8C-%D8%B4%DB%81%D8%B1%D9%90-%D8%AA%D9%85%D9%86%D8%A7-%D9%86%DB%81-%D8%B1%DB%81%D8%A7.119365/