بنا کےپھر مجھے تازہ خبر نہ جاؤ تم

ظہیراحمدظہیر — ستمبر 20، 2016 3:55 صبح
غزل
بنا کےپھر مجھے تازہ خبر نہ جاؤ تم
اب آگئے ہو تو پھر چھوڑ کر نہ جاؤ تم
میں ڈرتے ڈرتے سناتا ہوں اپنے اندیشے
میں کُھل کے یوں نہیں کہتا کہ ڈر نہ جاؤ تم
کہاں کہاں مجھے ڈھونڈو گے پرزہ پرزہ ہوں
مجھے سمیٹنے والے! بکھر نہ جاؤ تم
بڑھے ہو تم مری جانب تو ڈر یہ لگتا ہے
مرے قریب سے آکر گزر نہ جاؤ تم
خیال و فکر کی سمتیں بدلتی رہتی ہیں
پلٹ سکو نہ جدھر سے اُدھر نہ جاؤ تم
کرو نہ کاوشیں اُن کی نظر میں رہنے کی
ظہیر اُن کی نظر سے اُتر نہ جاؤ تم
ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جولائی ۲۰۰۹​
سید عاطف علی — ستمبر 20، 2016 9:27 صبح
مرے قریب سے آکر گزر نہ جاؤ تم
بہت خوب ۔کیا نزاکت ہے بیان میں ۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 20، 2016 9:41 صبح
واہ واہ ظہیر بھائی۔ کیا عمدہ غزل کہی ہے۔
احتیاط کا عالم
میں ڈرتے ڈرتے سناتا ہوں اپنے اندیشے
میں کُھل کے یوں نہیں کہتا کہ ڈر نہ جاؤ تم
اندیشے
بڑھے ہو تم مری جانب تو ڈر یہ لگتا ہے
مرے قریب سے آکر گزر نہ جاؤ تم
حسبِ حال
خیال و فکر کی سمتیں بدلتی رہتی ہیں
پلٹ سکو نہ جدھر سے اُدھر نہ جاؤ تم

کرو نہ کاوشیں اُن کی نظر میں رہنے کی
ظہیر اُن کی نظر سے اُتر نہ جاؤ تم

کیا کہنے جناب۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 5:14 شام
مرے قریب سے آکر گزر نہ جاؤ تم
بہت خوب ۔کیا نزاکت ہے بیان میں ۔
عاطف بھائی ! بہت بہت شکریہ ! آپ کو پسند آئی تو مستند ہوگئی ۔ سلامت رہیں ۔
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 5:18 شام
واہ واہ ظہیر بھائی۔ کیا عمدہ غزل کہی ہے۔

نوازش ! بہت شکریہ ! تابش بھائی آپ تو ہمارے مستقل قاری ہیں ۔ اور کوئی پڑھے نہ پڑھے آپ ضرور پڑھتے ہیں ۔
اس بات کا علیحدہ سے شکریہ! :D
وقار علی ذگر — ستمبر 21، 2016 5:21 شام
بڑھے ہو تم مری جانب تو ڈر یہ لگتا ہے​
مرے قریب سے آکر گزر نہ جاؤ تم​

کیا کہنے بھئی بہت عمدہ
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 21، 2016 5:32 شام
بڑھے ہو تم مری جانب تو ڈر یہ لگتا ہے
مرے قریب سے آکر گزر نہ جاؤ تم​

کیا کہنے بھئی بہت عمدہ

بہت بہت شکریہ ! آپ کی ذرہ نوازی ہے ! خدا سلامت رکھے!
محمد تابش صدیقی — ستمبر 21، 2016 5:54 شام
نوازش ! بہت شکریہ ! تابش بھائی آپ تو ہمارے مستقل قاری ہیں ۔ اور کوئی پڑھے نہ پڑھے آپ ضرور پڑھتے ہیں ۔
اس بات کا علیحدہ سے شکریہ! :D
عموماً سر ورق کی ایکٹویٹی میں ہی مصروف رہتا ہوں. مگر آپ سمیت کچھ احباب کی شاعری اور نثر پر گھات لگا کر بیٹھتا ہوں. :p
لاریب مرزا — ستمبر 21، 2016 6:13 شام
بہت عمدہ تخیل ہے۔ کیا کہنے!!
کہاں کہاں مجھے ڈھونڈو گے پرزہ پرزہ ہوں
مجھے سمیٹنے والے! بکھر نہ جاؤ تم
بڑھے ہو تم مری جانب تو ڈر یہ لگتا ہے
مرے قریب سے آکر گزر نہ جاؤ تم

بہت سی داد!!
عبدالقیوم چوہدری — ستمبر 21، 2016 6:20 شام
مگر آپ سمیت کچھ احباب کی شاعری اور نثر پر گھات لگا کر بیٹھتا ہوں
نیشنل جیوگرافک کی ٹیم کے لیے اچھا منظر ہو گا
اَبُو مدین — ستمبر 21، 2016 6:37 شام
واہ واہ واہ سر جی کمال کی تخلیق۔ ڈھیروں داد قبول کیجیے۔
فاتح — ستمبر 21، 2016 7:36 شام
واہ واہ واہ ایک اور خوبصورت غزل۔ کیا کہنے۔
ثامر شعور — ستمبر 21، 2016 7:56 شام
بہت عمدہ! بہت خوبصورت!
میں ڈرتے ڈرتے سناتا ہوں اپنے اندیشے
میں کُھل کے یوں نہیں کہتا کہ ڈر نہ جاؤ تم
جاسمن — ستمبر 21، 2016 8:53 شام
کہاں کہاں مجھے ڈھونڈو گے پرزہ پرزہ ہوں
مجھے سمیٹنے والے! بکھر نہ جاؤ تم
واہ واہ بہت ہی خوب!
ڈھیروں داد۔
ادب دوست — ستمبر 22، 2016 8:47 شام
خیال و فکر کی سمتیں بدلتی رہتی ہیں
پلٹ سکو نہ جدھر سے اُدھر نہ جاؤ تم
بھئی واہ وا. .. کیا کہنے
بہت داد قبول ہو
محمد امین صدیق — ستمبر 22، 2016 9:05 شام
غزل
بنا کےپھر مجھے تازہ خبر نہ جاؤ تم
اب آگئے ہو تو پھر چھوڑ کر نہ جاؤ تم
میں ڈرتے ڈرتے سناتا ہوں اپنے اندیشے
میں کُھل کے یوں نہیں کہتا کہ ڈر نہ جاؤ تم
کہاں کہاں مجھے ڈھونڈو گے پرزہ پرزہ ہوں
مجھے سمیٹنے والے! بکھر نہ جاؤ تم
بڑھے ہو تم مری جانب تو ڈر یہ لگتا ہے
مرے قریب سے آکر گزر نہ جاؤ تم
خیال و فکر کی سمتیں بدلتی رہتی ہیں
پلٹ سکو نہ جدھر سے اُدھر نہ جاؤ تم
کرو نہ کاوشیں اُن کی نظر میں رہنے کی
ظہیر اُن کی نظر سے اُتر نہ جاؤ تم
ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جولائی ۲۰۰۹​
زبردست، برادرم ظہیراحمدظہیر۔ مابدولت اس غزل کے ایک ایک شعر کو پڑھ کراپنی انگلیوں میں دادوتحسین کےچند کلمات کلیدی تختے پرکوٹنے کے لیے اضطراب محسوس کرتے رہے ، تاآنکہ اپنی حسرت یااپنا فرض پورانہ کرلیا!:):)
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 24، 2016 2:40 شام
بڑھے ہو تم مری جانب تو ڈر یہ لگتا ہے
مرے قریب سے آکر گزر نہ جاؤ تم​

کیا کہنے بھئی بہت عمدہ
بہت شکریہ وقار ذگر صاحب!! اللہ آپ کو خوش رکھے!
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 24، 2016 2:42 شام
بہت عمدہ تخیل ہے۔ کیا کہنے!!
بہت سی داد!!

بہت سا شکریہ!! اللہ آپ کو خوش رکھے!
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 24، 2016 2:48 شام
واہ واہ واہ سر جی کمال کی تخلیق۔ ڈھیروں داد قبول کیجیے۔

بہت بہت شکریہ جناب! نوازش!
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 24، 2016 2:50 شام
واہ واہ واہ ایک اور خوبصورت غزل۔ کیا کہنے۔
فاتح بھائی آپ کی محبت ہے کہ قدر افزائی کرتے ہیں! اللہ تعالیٰ آپ کو شادآباد رکھے!!
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D9%86%D8%A7-%DA%A9%DB%92%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%AA%D8%A7%D8%B2%DB%81-%D8%AE%D8%A8%D8%B1-%D9%86%DB%81-%D8%AC%D8%A7%D8%A4-%D8%AA%D9%85.92003/