بے رُخی پر تری ہم آج کُچھ ایسا روئے۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔ ش زاد

ش زاد — مارچ 3، 2009 11:38 صبح
بے رُخی پر تری ہم آج کُچھ ایسا روئے
جس طرح دُودھ کی خاطر کوئی بچہ روئے
اے سمندر ہے ترے واسطے غیرت کا مقام
تیرے ساحل پہ کوئی آن کے پیاسا روئے
سُننے والوں کے لیے تیری ہنسی نعمت ہے
توُ جو روئے تو تُجھے دیکھنے والا روئے
آبشاروں کی طرح ، ابرِ مُسلسل کی طرح
آپ کی یادمیں آخر کوئی کِتنا روئے
جتنے بیزار ہیں مُسکان میّسر سب کو
جو بھی اس بزم میں ہو محوِ تماشا روئے
اُس کی تقدیر میں اتنا تو تبسُم لکھ دے
یاد کر کے اُسے ہم دشت میں جتنا روئے
سانحہ یہ تھا کہ تو نے ہمیں مصلوب کیا
ملک افلاک پہ گوہر تہہِ دریا روئے
اس سے بڑھ جائے گی کُچھ تاب و روانی دلبر
چشمِ بے تاب سے کہہ دے لبِ دریا روئے
ش زاد
فاتح — مارچ 3، 2009 11:43 صبح
ش زاد صاحب! انتہائی خوبصورت غزل ہے۔ سبحان اللہ! مبارک باد قبول ہو
خصوصاً ذیل کے اشعار تو بے حد بھائے:
اُس کی تقدیر میں اتنا تو تبسُم لکھ دے
یاد کر کے اُسے ہم دشت میں جتنا روئے
اس سے بڑھ جائے گی کُچھ تاب و روانی دلبر
چشمِ بے تاب سے کہہ دے لبِ دریا روئے​
ش زاد — مارچ 3، 2009 4:00 شام
ش زاد صاحب! انتہائی خوبصورت غزل ہے۔ سبحان اللہ! مبارک باد قبول ہو
خصوصاً ذیل کے اشعار تو بے حد بھائے:
اُس کی تقدیر میں اتنا تو تبسُم لکھ دے
یاد کر کے اُسے ہم دشت میں جتنا روئے
اس سے بڑھ جائے گی کُچھ تاب و روانی دلبر
چشمِ بے تاب سے کہہ دے لبِ دریا روئے​
بہت بہت شکریہ فاتح بھائی آپ احباب کا حُسنِ زوق ہے ورنہ ناچیز کس قابل ہمیشہ اردو لکھتے پڑھتے رہئیے آمین
محمد وارث — مارچ 3، 2009 4:17 شام
اچھی غزل ہے شہزاد صاحب۔
مطلع، بالخصوص مصرعِ ثانی میری انتہائی ذاتی رائے میں مزید بہتر کہا جا سکتا تھا۔
بہت خوبصورت شعر ہے واہ واہ، لاجواب، بہت خوب:
اُس کی تقدیر میں اتنا تو تبسُم لکھ دے
یاد کر کے اُسے ہم دشت میں جتنا روئے

یہ شعر بھی بہت اچھا ہے، بہت پسند آیا، لیکن اگر دلبر رو ہی رہا ہے تو شاعر اسے کیوں ایسا مشورہ دے رہا ہے، یہ شعر اگر میرا ہوتا تو میں ضرور اس میں کوئی تخلص لاتا :)
اس سے بڑھ جائے گی کُچھ تاب و روانی دلبر
چشمِ بے تاب سے کہہ دے لبِ دریا روئے

ش زاد — مارچ 3، 2009 4:36 شام
اچھی غزل ہے شہزاد صاحب۔
مطلع، بالخصوص مصرعِ ثانی میری انتہائی ذاتی رائے میں مزید بہتر کہا جا سکتا تھا۔
بہت خوبصورت شعر ہے واہ واہ، لاجواب، بہت خوب:
اُس کی تقدیر میں اتنا تو تبسُم لکھ دے
یاد کر کے اُسے ہم دشت میں جتنا روئے

یہ شعر بھی بہت اچھا ہے، بہت پسند آیا، لیکن اگر دلبر رو ہی رہا ہے تو شاعر اسے کیوں ایسا مشورہ دے رہا ہے، یہ شعر اگر میرا ہوتا تو میں ضرور اس میں کوئی تخلص لاتا :)
اس سے بڑھ جائے گی کُچھ تاب و روانی دلبر
چشمِ بے تاب سے کہہ دے لبِ دریا روئے

وارث بھائی آپ پر سلامتی ہو ناچیز آپ کی رائے کا بہت احترام کرتا ہے
میں کوشش کروں گا مطلع اور آخری شعر کو بہتر کروں
آپ کا سراہنا باعثِ افتخار ہے حضور
نوازش وارث بھائی
الف عین — مارچ 3، 2009 5:05 شام
اچھی غزل ہے ش زاد، بس ذرا وارث کی بات کا خیال رکھنا۔ اور ہاں
جتنے بیزار ہیں مُسکان میّسر سب کو
جو بھی اس بزم میں ہو محوِ تماشا روئے
ا شعر کی تفہیم بھی مجھ کو نہیں ہو سکی ہے۔ شاید ہماری زبان کے استعمال کا فرق ہو۔۔
سکون — مارچ 3، 2009 7:18 شام
بہت ہی عمدہ شیرنگ ہے شکریہ
ایم اے راجا — مارچ 3، 2009 7:32 شام
بہت خوب ویسے کجھ سے نہ علم کو کہنا تو نہیں چاہئیے مگر پھر بھی عادت سے مجبور ہو کر عرض کرتا ہوں کہ اعجاز صاحب اور وارث صاحب کی باتوں میں وزن ہے
ش زاد — مارچ 4، 2009 9:12 صبح
اچھی غزل ہے ش زاد، بس ذرا وارث کی بات کا خیال رکھنا۔ اور ہاں
جتنے بیزار ہیں مُسکان میّسر سب کو
جو بھی اس بزم میں ہو محوِ تماشا روئے
ا شعر کی تفہیم بھی مجھ کو نہیں ہو سکی ہے۔ شاید ہماری زبان کے استعمال کا فرق ہو۔۔
اپ پر سلامتی ھو
بہت نوازش اعجاز صاحب
ش زاد — مارچ 4، 2009 9:13 صبح
بہت ہی عمدہ شیرنگ ہے شکریہ
آداب عرض ہے
ش زاد — مارچ 4، 2009 9:18 صبح
بہت خوب ویسے کجھ سے نہ علم کو کہنا تو نہیں چاہئیے مگر پھر بھی عادت سے مجبور ہو کر عرض کرتا ہوں کہ اعجاز صاحب اور وارث صاحب کی باتوں میں وزن ہے
بہت بہت شکریہ راجا صاحب
سید محمد نقوی — مارچ 8، 2009 4:01 شام
اے سمندر ہے ترے واسطے غیرت کا مقام
تیرے ساحل پہ کوئی آن کے پیاسا روئے
بہت خوب
ش زاد — مارچ 12، 2009 5:04 شام
اے سمندر ہے ترے واسطے غیرت کا مقام
تیرے ساحل پہ کوئی آن کے پیاسا روئے
بہت خوب
آداب عرض ہے
مغزل — مارچ 14، 2009 7:49 صبح

شین صاحب۔
آپ کا وعدہ ( رابطہ کرنے کا ) کیا زرداری کی عملداری کی نظر ہوگیا یا
آپ بھی ’’ حدیث و قرآن ‘‘ کے طاق میں رکھ کر بھول گئے ہیں ؟؟
جیا راؤ — مارچ 19، 2009 8:09 صبح
آبشاروں کی طرح ، ابرِ مُسلسل کی طرح
آپ کی یاد میں آخر کوئی کِتنا روئے
اُس کی تقدیر میں اتنا تو تبسُم لکھ دے
یاد کر کے اُسے ہم دشت میں جتنا روئے
اس سے بڑھ جائے گی کُچھ تاب و روانی دلبر
چشمِ بے تاب سے کہہ دے لبِ دریا روئے
واہ۔۔۔۔ بہت ہی خوبصورت غزل ہے۔۔۔ !
یہ اشعار بہت اچھے لگے۔۔۔ :):)
ش زاد — مارچ 20، 2009 3:41 شام
آداب عرض ہے
مغزل — مارچ 20، 2009 4:30 شام
شکریہ شین فون پر بات کرنے کیلیے ۔ دراصل اس دن شاہین عباس نے کراچی آنا تھا ۔میں نے سوچا تمھیں بھی زحمت دوں ۔ خواجہ رضی حیدر ، بندہ ناچیز، اختر عبدا لرزاق، کاشف حسین غائر، رفاقت حسین، فہیم شناس کاظمی ، نجم الحسن نجمی ، توقیر تقی، شبیر نازش ، نیر ندیم، میاں سعید اور زبیر احمد تھے اس دن نشست میں۔
ش زاد — مارچ 25، 2009 9:25 صبح
شکریہ شین فون پر بات کرنے کیلیے ۔ دراصل اس دن شاہین عباس نے کراچی آنا تھا ۔میں نے سوچا تمھیں بھی زحمت دوں ۔ خواجہ رضی حیدر ، بندہ ناچیز، اختر عبدا لرزاق، کاشف حسین غائر، رفاقت حسین، فہیم شناس کاظمی ، نجم الحسن نجمی ، توقیر تقی، شبیر نازش ، نیر ندیم، میاں سعید اور زبیر احمد تھے اس دن نشست میں۔
نوازش مغل بھائی ہہ تو میری کم نصیبی ہے کہ آپ لوگوں کی قربت سے محروم رہا میں نیپا تک آیا ضرور تھا اس دن مگر گھر والوں سے رُخصت نہیں ملی ورنہ ضرور حاضر ہوتا۔۔۔۔۔۔خیر یار زندہ صحبت باقی:happy:
محمداحمد — مارچ 25، 2009 10:58 صبح
اس سے بڑھ جائے گی کُچھ تاب و روانی دلبر
چشمِ بے تاب سے کہہ دے لبِ دریا روئے
واہ ش زاد صاحب! بہت خوب غزل ہے خاص طور پر آخری شعر بہت عمدہ ہے ۔
خوش رہیے!
ش زاد — مارچ 25، 2009 12:15 شام
اس سے بڑھ جائے گی کُچھ تاب و روانی دلبر
چشمِ بے تاب سے کہہ دے لبِ دریا روئے
واہ ش زاد صاحب! بہت خوب غزل ہے خاص طور پر آخری شعر بہت عمدہ ہے ۔
خوش رہیے!
آپ پر سلامتی ہو احمد بھائی بہت ہہت نوازش
حضور بہت دنوں سے آپ کی طرف سے کچھ تازہ پڑھنے کو نہیں ملا
کچھ پیش کیجئے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%DB%92-%D8%B1%D9%8F%D8%AE%DB%8C-%D9%BE%D8%B1-%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%DB%81%D9%85-%D8%A2%D8%AC-%DA%A9%D9%8F%DA%86%DA%BE-%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7-%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%BA%D8%B2%D9%84%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%B4-%D8%B2%D8%A7%D8%AF.19809/