تلاشِ زیست میں اک روز مر کے دیکھیں گے۔ فاتح الدین بشیر

فاتح — جون 26، 2008 9:03 صبح
وارث صاحب کے ارشاد کی مزید تعمیل اور فرخ صاحب کی حوصلہ افزائی کہ "اگر وہ کھچ تھی تو یہ اس سے بڑی ہے" نے "اکسایا" کہ یہ تک بندی بھی آپ کی نازک سماعتوں / بصارتوں پر بار گراں کے طور پر لاد دوں۔ تو پیش ہے:

تلاشِ زیست میں اک روز مر کے دیکھیں گے
ہم اشک بن کے تری چشمِ تر کے دیکھیں گے
جنونِ منزلِ جاناں کی ہُوک ماند پڑی
تو خار و سنگ بھی راہِ سفر کے دیکھیں گے
زمیں پہ چاند اترتا ہے کس سمے؟ کیونکر؟
تری گلی سے کسی دن گزر کے دیکھیں گے
خرد جنوں کو، جنوں کو خرد کیا ہے بہت
کمال اب کے ہم اپنے ہنر کے دیکھیں گے
بنامِ قلزمِ حزن و ملال ہم بھی بشیر
ڈبو کے دل کو تماشے بھنور کے دیکھیں گے
فاتح الدین بشیر
فرخ منظور — جون 26، 2008 9:14 صبح
واہ واہ کیا ہی خوب غزل ہے قبلہ - آپ مزید "کھچیں" مارتے رہیں اگر یہ کھچ ہے تو غزل کیا ہوگی - ;)
فاتح — جون 26، 2008 9:26 صبح
واہ واہ کیا ہی خوب غزل ہے قبلہ - آپ مزید "کھچیں" مارتے رہیں اگر یہ کھچ ہے تو غزل کیا ہوگی - ;)

پسند کرنے کا بہت شکریہ جناب۔ اور "غزل" تو آپ سے دوبارہ ملاقات پر لکھوں گا تا کہ کہہ سکوں؂
مرے سامنے اک مجسم غزل ہے
غزل دیکھ کر میں غزل کہہ رہا ہوں
;)
محسن حجازی — جون 26، 2008 9:58 صبح
:grin:ویسے تو ایسے عالم فاضل لوگوں میں ہم سا ان پڑھ تو یونہی معلوم ہوتا ہے گویا کپاس کے کھیت میں کوئی کالا بھینسا آ گھسا ہو تاہم کوئی بات نہیں جب تک کپاس کے کھیت ہیں یہ تو ہوتا رہے گا الا یہ کہ کاشتکار کھیت میں پانی اور پانی میں کرنٹ چھوڑ دیں۔ :grin:
تلاشِ زیست میں اک روز مر کے دیکھیں گے
ہم اشک بن کے تری چشمِ تر کے دیکھیں گے
واہ صاحب کیا مناسبت ہے دو مصرعوں کو باہم! کیا ضرب دی ہے!
لیکن گر اس سانحے کے بعد محبوب بتاشے بانٹنے نکل کھڑا ہوا تو دوسرے مصرعے کا کیا ہوگا؟ :grin:
پھر تو وارث صاحب کے برعکس شاعری محض قیل و قال رہ جائے گی۔ :grin:
خرد جنوں کو، جنوں کو خرد کیا ہے بہت
کمال اب کے ہم اپنے ہنر کے دیکھیں گے
یہ پہلا مصرعہ ہمیں وہ مقولہ یاد دلاتا ہے کہ بے کار مباش کچھ کیا کر اور کچھ نہیں کپڑے ہی پھاڑ پھاڑ سیا کر۔
بنامِ قلزمِ حزن و ملال ہم بھی بشیر
ڈبو کے دل کو تماشے بھنور کے دیکھیں گے
یہ قلزم ملال و حزن کا پانی کافی تیزابی خواص کا حامل ہوتا ہے انسان گھلتا چلا جاتا ہے دریا کے کنارے پڑے کچی مٹی کے ڈھیلے کی مانند۔ :(
تاہم آپ اس کیفیت میں بھی تماشے کی فرصت رکھتے ہیں تو زندہ دلی پر دلیل ہے۔ ;)
بہت خوب غزل ہے ماشا اللہ! بلکہ ہمیں کھچ کا کوئی اردو متبادل نہیں ملا کہئے تو ایک نئی صنف کی طرح ڈال دیتے ہیں بنام 'کھچل'۔ :grin:
آخر میں فاتح صاحب ہمارا ایک معصوم سا سوال ہے اور وہ یہ کہ آج کل آپ ملنے کا کیا لیتے ہیں؟ :grin:
ہماری تو نہ فون کال اٹھاتے ہیں نہ کہیں آن لائن نظر آتے ہیں۔ :(
بہرطور، غزل بہت خوب ہے تو ہم کچھ ہذیان بکنے پر مجبور ہوئے امید ہے برا نہیں مانیں گے۔ :grin:
مغزل — جون 26، 2008 10:19 صبح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
fateh10.gif

محترم فاتح الدین صاحب۔
آپ کی مرصع اور بلیغ غزل نظر نواز ہوئی ، مجھے یہ شرف پہلی بار حاصل ہوا ہے کہ مجھے آپ کا کلام پڑھنے کو ملا۔میں نے اپنی سی کوشش کی ہے کہ آپ کی غزل کو مصورانہ آہنگ میں بیان کروں ، یقینا یہ بڑی بے ادبی ہے، مگر کیا کروں کوئی اور جائے اماں نہیں ہے۔مطلع تا مقطع سبھی اشعار ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔بحیثیتِ مجموعی غزل کلاسیکی رویے کی طرحداد نظر آتی ہے مگر آپ کی مصرع لکھنے کی قدرت نے اس تاثر کو قدرے کم کردیا ہے ۔میری جانب سے ایک بھرپور غزل پر صمیمِ قلب سے مبارکباد اور اظہارِ تشکّر۔
طالبِ دعا
محمد وارث — جون 26، 2008 10:41 صبح
ایک اور انتہائی خوبصورت غزل کیلیئے بہت شکریہ فاتح صاحب، لاجواب غزل ہے یہ بھی، واہ واہ واہ
تلاشِ زیست میں اک روز مر کے دیکھیں گے
ہم اشک بن کے تری چشمِ تر کے دیکھیں گے
جنونِ منزلِ جاناں کی ہُوک ماند پڑی
تو خار و سنگ بھی راہِ سفر کے دیکھیں گے
بنامِ قلزمِ حزن و ملال ہم بھی بشیر
ڈبو کے دل کو تماشے بھنور کے دیکھیں گے
کمال ہے بھئی، واہ واہ، مطلع میں تشبیہات اور صنعتوں کے استعمال نے اسے چار چاند لگا دیے ہیں۔
ھل من مزید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)
فاتح — جون 26، 2008 11:37 صبح
آخر میں فاتح صاحب ہمارا ایک معصوم سا سوال ہے اور وہ یہ کہ آج کل آپ ملنے کا کیا لیتے ہیں؟ :grin:
ہماری تو نہ فون کال اٹھاتے ہیں نہ کہیں آن لائن نظر آتے ہیں۔ :(

جناب! آپ فکر نہ کریں آپ کے تمام کیسز ہمارے پاس ہی آئیں گے اور تب سمن بھیج کر بلوا لیں گے ہم:grin: (اللہ نہ کرے)
ویسے غزل پسند کرنے کا بہت شکریہ۔ لیکن یوں خالی خولی مکھن لگا کر آپ قانون کے رکھوالوں کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے;)
فرخ منظور — جون 26، 2008 11:47 صبح
واہ واہ محسن بہت ہی خوب لکھتے ہو بھائی - مگر کوئی مضمون بھی لکھ ڈالو کوئی انشائیہ یا خاکہ - :)
فاتح — جون 26، 2008 11:49 صبح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
fateh10.gif

[FONT="Urdu_Umad_Nastaliq"][FONT="Urdu_Emad_Nastaliq"]محترم فاتح الدین صاحب۔
آپ کی مرصع اور بلیغ غزل نظر نواز ہوئی ، مجھے یہ شرف پہلی بار حاصل ہوا ہے کہ مجھے آپ کا کلام پڑھنے کو ملا۔میں نے اپنی سی کوشش کی ہے کہ آپ کی غزل کو مصورانہ آہنگ میں بیان کروں ، یقینا یہ بڑی بے ادبی ہے، مگر کیا کروں کوئی اور جائے اماں نہیں ہے۔مطلع تا مقطع سبھی اشعار ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔بحیثیتِ مجموعی غزل کلاسیکی رویے کی طرحداد نظر آتی ہے مگر آپ کی مصرع لکھنے کی قدرت نے اس تاثر کو قدرے کم کردیا ہے ۔میری جانب سے ایک بھرپور غزل پر صمیمِ قلب سے مبارکباد اور اظہارِ تشکّر۔
طالبِ دعا
[/FONT]
[/FONT]

واہ واہ واہ۔۔۔ آپ نے بندہ کی یاوہ گوئی کے عیوب کو مصوری کے پردے میں یوں چھپا دیا ہے کہ اب واقعی یہ کسی قدر غزل غزل سی لگنے لگی ہے۔
بہت ہی خوبصورت۔ بہت شکریہ جناب۔
اس دھاگے پر آنے والی تمام پذیرائی آپ کے نام۔:)
رہی بات پہلی مرتبہ پڑھنے کی تو یوں تو عرصہ سے محفل کا ممبر ہونے کا شرف حاصل ہے لیکن صرف ایک مرتبہ اپنی تک بندی محفل پر رکھی تھی جس کا ربط یہ ہے:
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=7671
اس کے بعد ہمت ہی نہ ہوئی اتنے عالی مرتبت شعرا و ناقدین کے سامنے دریدہ دہن ہو سکوں لیکن گذشتہ روز وارث صاحب کے حکم پر ایک مرتبہ پھر یہ کارِ گناہ سرزد ہو گیا اور یہ رہا اس کا ربط:
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=13444
ویسے آپ کی تعریف پڑھ کر میں اپنی اوقات سے زیادہ خوش ہو رہا ہوں۔
سارہ خان — جون 26، 2008 11:57 صبح
بہت زبردست لکھتے ہیں فاتح بھائی ۔۔ ماشاء اللہ ۔۔۔:clapp:
یہ آپ نے گوشہ نشینی اس لئے تو نہیں اختیار کی ہوئی آجکل کہ شاعری پر طبع آزمائی کی جائے ۔۔۔:tounge:
فاتح — جون 26، 2008 11:58 صبح
ایک اور انتہائی خوبصورت غزل کیلیئے بہت شکریہ فاتح صاحب، لاجواب غزل ہے یہ بھی، واہ واہ واہ
تلاشِ زیست میں اک روز مر کے دیکھیں گے
ہم اشک بن کے تری چشمِ تر کے دیکھیں گے
جنونِ منزلِ جاناں کی ہُوک ماند پڑی
تو خار و سنگ بھی راہِ سفر کے دیکھیں گے
بنامِ قلزمِ حزن و ملال ہم بھی بشیر
ڈبو کے دل کو تماشے بھنور کے دیکھیں گے
کمال ہے بھئی، واہ واہ، مطلع میں تشبیہات اور صنعتوں کے استعمال نے اسے چار چاند لگا دیے ہیں۔
ھل من مزید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)

حضور! اگر یوں آپ نے زلفوں کی طرح ہمیں سر پر چڑھا لیا تو ہم بھی انہی کی طرح رخساروں کو نہ سہی پیشانی کو ضرور چھیڑتے رہیں گے۔:grin:
بقول غوث خوامخواہ؂
خوامخواہ چھیڑتی رہتی ہیں یہ رخساروں کو
تم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے;)
خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے آپ کی محبتوں اور حوصلہ افزائی کا شکریہ ادا کرنا تو بھول ہی گیا۔ اب مراسلہ مدون کرنا پڑا۔ شکریہ بھی اور معذرت بھی
فاتح — جون 26، 2008 12:01 شام
بہت زبردست لکھتے ہیں فاتح بھائی ۔۔ ماشاء اللہ ۔۔۔:clapp:
یہ آپ نے گوشہ نشینی اس لئے تو نہیں اختیار کی ہوئی آجکل کہ شاعری پر طبع آزمائی کی جائے ۔۔۔:tounge:

سارہ بہن سب سے پہلے تو پذیرائی کا شکریہ۔ اور جہاں تلک گوشہ نشینی میں شاعری کا تعلق ہے تو یہ کافی پرانی لکھی ہوئی ہے۔ آج کل شاعری نہیں ہوتی مزدوری ہوتی ہے۔:)
خرم شہزاد خرم — جون 26، 2008 12:06 شام
بہت خوب جناب محترم کیا بات ہے آپ کی کیا خوب غزل کہی ہے آپ نے بہت اعلیٰ جناب
خرد جنوں کو، جنوں کو خرد کیا ہے بہت
کمال اب کے ہم اپنے ہنر کے دیکھیں گے
کیا خوب شعر ہے
فاتح — جون 26، 2008 12:18 شام
بہت خوب جناب محترم کیا بات ہے آپ کی کیا خوب غزل کہی ہے آپ نے بہت اعلیٰ جناب
خرد جنوں کو، جنوں کو خرد کیا ہے بہت
کمال اب کے ہم اپنے ہنر کے دیکھیں گے
کیا خوب شعر ہے

پذیرائی کا بہت شکریہ خرم۔
ویسے آپ نے جس شعر پر پسندیدگی کا اظہار فرمایا وہ آج ہی کی تخلیق ہے ورنہ باقی چار اشعار تو چار سال سے بھی پرانے ہیں۔
محسن حجازی — جون 26، 2008 12:32 شام
پذیرائی کا بہت شکریہ خرم۔
ویسے آپ نے جس شعر پر پسندیدگی کا اظہار فرمایا وہ آج ہی کی تخلیق ہے ورنہ باقی چار اشعار تو چار سال سے بھی پرانے ہیں۔

اس پر ہمیں وہ قصائی یاد آ گیا جو گوشت میں ففٹی ففٹی کی ملاوٹ کیا کرتا تھا۔ پوچھنے پر کہنے لگا کہ ایک بھینسا اور ایک مرغ! :grin:
سارہ روپوشی کی وجوہات جاننے کے لیے ہم جلد ملاقات کر رہے ہیں ان سے۔:cool:
سارہ خان — جون 26، 2008 12:35 شام
اچھا ۔۔ کمال ہوجائے گا یہ آپ سے ملاقات کر لیں گے اگر تو ۔;)۔ ان کے پاس ایک سو ایک بہانے ہوتے ہیں روپوشی کے وہ ہی آپ کو کو بھی سنا دیں گے ۔۔۔:grin:
محمداحمد — جون 26، 2008 12:52 شام
فاتح صاحب،
عمدہ غزل ہے ، پڑھ کر لطف آیا۔ نذرانہء تحسین پیشِ خدمت ہے۔ قبول کیجے۔
فاتح — جون 26، 2008 12:58 شام
اچھا ۔۔ کمال ہوجائے گا یہ آپ سے ملاقات کر لیں گے اگر تو ۔;)۔ ان کے پاس ایک سو ایک بہانے ہوتے ہیں روپوشی کے وہ ہی آپ کو کو بھی سنا دیں گے ۔۔۔:grin:

ارے انہیں ہمارے تمام ٹھکانوں کا علم ہے لہٰذا ان کے آگے بہانے نہیں چل سکتے۔ محض معذرت سے کام چلایا جا سکے تو شاید:)
فاتح — جون 26، 2008 12:59 شام
فاتح صاحب،
عمدہ غزل ہے ، پڑھ کر لطف آیا۔ نذرانہء تحسین پیشِ خدمت ہے۔ قبول کیجے۔

سراہنے کا بہت شکریہ جناب محمد احمد صاحب۔
ایم اے راجا — جون 26، 2008 7:05 شام
خرد جنوں کو، جنوں کو خرد کیا ہے بہت
کمال اب کے ہم اپنے ہنر کے دیکھیں گے
بنامِ قلزمِ حزن و ملال ہم بھی بشیر
ڈبو کے دل کو تماشے بھنور کے دیکھیں گے
واہ واہ، واہ کیا بات ہے۔
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B4%D9%90-%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DA%A9-%D8%B1%D9%88%D8%B2-%D9%85%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.13470/