تم جو کہو مناسب، تم جو بتاؤ سو ہو

راحیل فاروق — جنوری 20، 2017 4:13 شام
تم جو کہو مناسب، تم جو بتاؤ سو ہو
اب عشق ہو گیا ہے، میری بلا سے جو ہو
سنتے تھے عاشقی میں خطرہ ہے جان کا بھی
نیت ملاحظہ ہو، ہم نے کہا "چلو، ہو!"
نازک تھا آبگینہ پر کھیل کھیل ہی میں
چوٹ ایسی پڑ گئی ہے پتھر تڑخ کے دو ہو
ڈھے جائے گی کسی دن دل کی عمارت آخر
کچھ گھر پہ بھی توجہ، اے گھر کے باسیو! ہو
مدت کے بعد ان سے باتیں ہوئیں بھی تو کیا
ہم بے وفا تھے؟ اچھا! تم با وفا تھے؟ اوہو!
کوچے میں جو بظاہر فریاد ہے گدا کی
شاید وہ سب سنانا مقصود آپ کو ہو
کرتے ہیں بات اس سے، کہتے ہیں حال تیرا
ٹک دم چھری تلے لے، راحیلؔ! صبح تو ہو
راحیلؔ فاروق
۲۰ جنوری ۲۰۱۷ء
محمد تابش صدیقی — جنوری 20، 2017 4:20 شام
بہت خوب. منفرد ردیف. :)
ڈھے جائے گی کسی دن دل کی عمارت آخر
کچھ گھر پہ بھی توجہ، اے گھر کے باسیو! ہو
La Alma — جنوری 20، 2017 5:05 شام
سنتے تھے عاشقی میں خطرہ ہے جان کا بھی
نیت ملاحظہ ہو، ہم نے کہا "چلو، ہو!"
جان کا خطرہ اور نیت کے مابین ربط مفقود ہے. جرات کہتے تو بات بنتی .
جرات ملاحظہ ہو ، ہم نے کہا "چلو ہو "
راحیل فاروق — جنوری 20، 2017 5:18 شام
بہت خوب. منفرد ردیف. :)
شکریہ، تابش بھائی۔
ردیف تو عام سی ہی ہے، زمین البتہ ذرا ہٹ کے ہے۔ :):):)
جان کا خطرہ اور نیت کے مابین ربط مفقود ہے. جرات کہتے تو بات بنتی .
جرات ملاحظہ ہو ، ہم نے کہا "چلو ہو "
اردو غزل میں عشاق کی مرنے کی نیت اتنی معروف ہے کہ بجائے خود ایک علامت بن گئی ہے۔ ہاں البتہ روایت ناآشناؤں کو ضرور عجیب معلوم ہو گا۔
ہم تھے مرنے کو کھڑے، پاس نہ آیا، نہ سہی
آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا؟
(غالبؔ)​
سنتے تھے عاشقی میں خطرہ ہے جان کا بھی
نیت ملاحظہ ہو، ہم نے کہا "چلو، ہو!"
اس شعر کا مفہوم بس اسی قدر ہے کہ ہم نے سن رکھا تھا کہ عشق میں جان کا بھی خطرہ ہے مگر ہماری نیت بھی تو یہی تھی۔ سو ہم نے کہا، ہوا کرے۔
فہد اشرف — جنوری 20، 2017 5:28 شام
اوہو! بہت خوبصورت غزل، اور یہ والا شعر پڑھ کے تو مزہ ہی آگیا :bashful:
مدت کے بعد ان سے باتیں ہوئیں بھی تو کیا
ہم بے وفا تھے؟ اچھا! تم با وفا تھے؟ اوہو!
La Alma — جنوری 20، 2017 7:31 شام
سنتے تھے عاشقی میں خطرہ ہے جان کا بھی
نیت ملاحظہ ہو، ہم نے کہا "چلو، ہو!"

اردو غزل میں عشاق کی مرنے کی نیت اتنی معروف ہے کہ بجائے خود ایک علامت بن گئی ہے۔ ہاں البتہ روایت ناآشناؤں کو ضرور عجیب معلوم ہو گا۔
" نیّت ملاحظہ ہو" ، یعنی قاری کیا ملاحظہ کرے ؟ ، مقصود عنقا ہے .
" نیت بھی تو یہی تھی ، ہم نے کہا چلو ہو" ، کچھ اس سے ملتا جلتا بیانیہ ہوتا تو مفہوم زیادہ واضح ہوتا
یہ محض ایک رائے تھی .
عاطف ملک — جنوری 20، 2017 8:34 شام
نازک تھا آبگینہ پر کھیل کھیل ہی میں
چوٹ ایسی پڑ گئی ہے پتھر تڑخ کے دو ہو
مدت کے بعد ان سے باتیں ہوئیں بھی تو کیا
ہم بے وفا تھے؟ اچھا! تم با وفا تھے؟ اوہو
راحیل بھائی!
بہت ہی عمدہ۔۔۔۔
عرصے سے آپ کی غزل کا انتظار تھا۔۔۔۔۔
خواہش تو پوری ہوئی مگر تشنگی باقی ہے ابھی۔۔۔۔ایک اور غزل درکار ہے :)
مریم افتخار — جنوری 21، 2017 5:08 صبح
نازک تھا آبگینہ پر کھیل کھیل ہی میں
چوٹ ایسی پڑ گئی ہے پتھر تڑخ کے دو ہو
واہ !! پتھر تڑخ کے دو ہو!
کوچے میں جو بظاہر فریاد ہے گدا کی
شاید وہ سب سنانا مقصود آپ کو ہو
بہت خوب۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — جنوری 21، 2017 5:29 صبح
بہت اعلی راحیل صاحب
اے خان — جنوری 21، 2017 5:35 صبح
بہت خوب راحیل بھائی.
خاص کر اس شعر نے ماضی کی عاشقی یاد دلا دی.
مدت کے بعد ان سے باتیں ہوئیں بھی تو کیا
ہم بے وفا تھے؟ اچھا! تم با وفا تھے؟ اوہو!
ربیع م — جنوری 21، 2017 5:47 صبح
بہت خوب راحیل بھائی!
:)
ظفری — جنوری 21، 2017 6:11 صبح
مدت کے بعد ان سے باتیں ہوئیں بھی تو کیا
ہم بے وفا تھے؟ اچھا! تم با وفا تھے؟ اوہو!
کیا کہنے جناب ۔ زبردست
ظفری — جنوری 21، 2017 6:13 صبح
بہت خوب راحیل بھائی.
خاص کر اس شعر نے ماضی کی عاشقی یاد دلا دی.

بیٹا! ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے کہ ماضی آپ پر طاری ہوگیا ہے ۔ ;)
راحیل فاروق — جنوری 21، 2017 9:42 صبح
اوہو! بہت خوبصورت غزل، اور یہ والا شعر پڑھ کے تو مزہ ہی آگیا :bashful:
مدت کے بعد ان سے باتیں ہوئیں بھی تو کیا
ہم بے وفا تھے؟ اچھا! تم با وفا تھے؟ اوہو!
شکریہ، فہد! :):):)
" نیّت ملاحظہ ہو" ، یعنی قاری کیا ملاحظہ کرے ؟ ، مقصود عنقا ہے .
" نیت بھی تو یہی تھی ، ہم نے کہا چلو ہو" ، کچھ اس سے ملتا جلتا بیانیہ ہوتا تو مفہوم زیادہ واضح ہوتا
یہ محض ایک رائے تھی .
عنایت۔ ویسے آپ رائے زنی کا شوق اصلاحِ سخن میں بھی پورا کر سکتی ہیں!
راحیل بھائی!
بہت ہی عمدہ۔۔۔۔
عرصے سے آپ کی غزل کا انتظار تھا۔۔۔۔۔
خواہش تو پوری ہوئی مگر تشنگی باقی ہے ابھی۔۔۔۔ایک اور غزل درکار ہے :)
:in-love::in-love::in-love:
واہ !! پتھر تڑخ کے دو ہو!
بہت خوب۔
شکریہ، ہفت زبان! :sneaky::sneaky::sneaky:
بہت اعلی راحیل صاحب
عنایت، نقیبی صاحب! :):):)
بہت خوب راحیل بھائی.
:):):)
خاص کر اس شعر نے ماضی کی عاشقی یاد دلا دی.
مستقبل کی عاشقی سے محتاط رہنا۔ اب بڑے ہو گئے ہو۔ پٹو گے! :terror::terror::terror:
بہت خوب راحیل بھائی!
:devil1::devil1::devil1:
مدت کے بعد ان سے باتیں ہوئیں بھی تو کیا
ہم بے وفا تھے؟ اچھا! تم با وفا تھے؟ اوہو!
کیا کہنے جناب ۔ زبردست
بہت بہت شکریہ، ظفری بھائی۔ :):):)
بیٹا! ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے کہ ماضی آپ پر طاری ہوگیا ہے ۔ ;)
یہ دوسری بار پیدا ہوئے ہیں۔ آپ عمر پوچھ رہے ہیں! :eek::eek::eek:
الف عین — جنوری 21، 2017 10:24 صبح
واہ، کیا زمین نکالی ہے !!!
La Alma — جنوری 21، 2017 11:03 صبح
ویسے آپ رائے زنی کا شوق اصلاحِ سخن میں بھی پورا کر سکتی ہیں!
معذرت خواہ ہوں . خیال نہیں رہا کہ آپ نے اصلاح کے لیے پیش نہیں کی .
عمر سیف — جنوری 21، 2017 11:59 صبح
بہت خوب
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 21، 2017 1:43 شام
مزے دار مزے دار۔بہت داد قبول فرمائیے۔
اَبُو مدین — جنوری 21، 2017 2:10 شام
واہ واہ۔ لاجواب۔
مدت کے بعد ان سے باتیں ہوئیں بھی تو کیا
ہم بے وفا تھے؟ اچھا! تم با وفا تھے؟ اوہو!
اے خان — جنوری 21، 2017 2:29 شام
بیٹا! ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے کہ ماضی آپ پر طاری ہوگیا ہے ۔ ;)
2016 ماضی تھا. ;)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%85-%D8%AC%D9%88-%DA%A9%DB%81%D9%88-%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%8C-%D8%AA%D9%85-%D8%AC%D9%88-%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A4-%D8%B3%D9%88-%DB%81%D9%88.94317/