راحیل فاروق بھائی ٹائپو تو کوئی بھی نہیں ہے ۔بس میں نے یہ ایک چھوٹا سا مذاق کیا تھا آپ سے ۔



آدھی زندگی اس خرابے میں گزارنے کے بعد مقامیوں کی طرح مذاق بھی اب سنجیدہ چہرے کے ساتھ کرنے کی عادت پڑ گئی ہے ۔ کہنا یہ چاہا تھا کہ اس غزل کی فضا ۲۰۱۷ کی نہیں ۱۷۲۰ کی ہے ۔ یعنی ہم نے آپ کو ولی ، آرزو ، آبرو اور مرزا مظہر کے دور میں لا کھڑا کیا ۔ اسے بیداد نہیں بلکہ داد سمجھئے گا۔


کیا کروں یہ کمبخت رگِ ظرافت بعض دفعہ موقع محل دیکھے بغیر پھڑک اٹھتی ہے ۔ امید ہے اس مذاق کا برا نہ مانیں گے ۔ شاید ہم جیسے ’’سنجیدہ‘‘ مزاجوں کے بارے میں ہی کسی نے کہا تھا کہ: ابھی پچھلی شرارت کے نمونے پائے جاتے ہیں
خدا آپ کو سلامت رکھے ۔ شاد آباد رہیں ۔