میری غزل کا وزن مستفعلن مفاعلن ( رجز سالم مخبون) ہے ۔ سو اس غزل کی بحر کا پورا نام رجز مثمن سالم مخبون ہوگا ۔ اردو میں اب تک میری نظر سے یہ وزن نہیں گزرا ۔ ڈھونڈنے پر فارسی میں ایک دو غزلیں اس وزن کی نظر آئیں ۔ عربی کا معلوم نہیں کہ عربی شاعری اکثر سر پر سے گزر جاتی ہے ۔ میری اتنی استعداد نہیں ۔ ویسے کہا یہی جاتا ہے کہ رجز کے اوزان عربی میں خاصے مستعمل ہیں ۔ اردو میں رجز کے کم اوزان ہی مستعمل ہیں ۔ خصوصاً سالم رکن مستفعلن کم نظر آتا ہے ۔ بہرحال ، لگ تو یہی رہا ہے کہ سالم مخبون میں بھی خاصی روانی ہے اور اسے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
نیٹ گردی کے دوران فارسی کے یہ اشعار نظر آئے۔ یہ تو آپ ہی تصدیق فرمائیں گے کہ کیا بحر یہی ہے؟
از خویشتن سفر کنم تا ره بَرَم به کوی تو
عِطر تو را بگیرم و عاطِر شوم ز بوی تو
در خلوتِ شبانه ات وقتِ وصال ، عاقبت
پروانه سان بسوزم از شَعشعِ شمعِ روی تو
///
اور یہ بھی
هر روز خستهتر شوم در کارزار جستجو
با گم شده کجا و کِی آخر شویم روبرو
با تشنگان عشق خود ای خوب من از او بگو
یک شب که در کنار هم هستیم مست گفتگو
دست از طلب نمیکشم در شهر عشق کو به کو
تا تن کُنم به آب دل از خاک راه شستشو
در بزم آن نگار جان هرگز نگشته رو از او
با هر کلام دلنشین نزدیک گشته او به او
در محضرش سکوت کن کمتر نمای پرس و جو
تنها ببین به چشم دل از غیر او مگو مگو
///