توڑ ڈالیں قلم تو بہتر ہے

راحیل فاروق — اکتوبر 21، 2016 12:07 شام
توڑ ڈالیں قلم تو بہتر ہے
نہ لکھیں رازِ غم تو بہتر ہے
یوں بھی ہم کو نہ چھوڑے گی دنیا
آپ کر لیں ستم تو بہتر ہے
کفر ہے ہم اگر تمھیں چاہیں
لوگ پوجیں صنم تو بہتر ہے
عشق مرتا تو کم ہی ہے لیکن
عشق مارے بھی کم تو بہتر ہے
داد ملتی ہے وہ سنیں نہ سنیں
آہ کا زیر و بم تو بہتر ہے
نہ کرو توبہ دل دکھانے سے
اب نہ ٹوٹے قسم تو بہتر ہے
دل کا قصہ وہی قدیمی ہے
نہ سنیں محترم! تو بہتر ہے
منزلیں اب بھی دور ہیں راحیلؔ
اب تو مر جائیں ہم تو بہتر ہے
راحیلؔ فاروق
۱۸ ستمبر ۲۰۱۴ء
محمداحمد — اکتوبر 21، 2016 12:17 شام
آہ کا زیر و بم تو بہتر ہے

ارے بھائی بہتر نہیں بہترین ہے۔ :)
نوید ناظم — اکتوبر 21، 2016 12:19 شام
ماشاءاللہ۔۔۔۔ !!
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 21، 2016 12:22 شام
یوں بھی ہم تو نہ چھوڑے گی دنیا
یہاں کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے.
غزل پر کمنٹ بعد میں کرتا ہوں. ابھی میٹنگ میں ہوں. :)
محمد وارث — اکتوبر 21، 2016 12:35 شام
خوب غزل ہے جناب، کیا کہنے، لاجواب۔
سید عاطف علی — اکتوبر 21، 2016 12:42 شام
بہت خوب راحیل ۔ ایز یوژوئل
لاریب مرزا — اکتوبر 21، 2016 1:11 شام
آپ کی شاعری عموماً ہمیں منفرد اور اچھی لگتی ہے.. یہ غزل پچھلی کچھ غزلوں کی نسبت ہمیں کم اچھی لگی،( بالکل سچ سچ بتا رہے ہیں) وجہ یہ معلوم ہو رہی ہے کہ ہمیں پڑھتے ہوئے موسیقیت محسوس نہیں ہو رہی.. اور ایک دو مصرعے بے وزن محسوس ہو رہے ہیں
حالانکہ ہمیں یہ بات کرنی نہیں چاہیے کیونکہ ہم شعری اصطلاحات کی الف ب بھی نہیں جانتے ، مصرعے یقیناً باوزن ہی ہوں گے :question:
لیکن پھر بھی اچھی تو ہے ہی، ہماری طرف سے داد قبول فرمائیں :)
عثمان قادر — اکتوبر 21، 2016 1:21 شام
عشق مرتا تو کم ہی ہے لیکن
عشق مارے بھی کم تو بہتر ہے
بہت خوب بھائی ۔۔۔۔ کیا کہنے
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 21، 2016 2:08 شام
توڑ ڈالیں قلم تو بہتر ہے
نہ لکھیں رازِ غم تو بہتر ہے
یوں بھی ہم کو نہ چھوڑے گی دنیا
آپ کر لیں ستم تو بہتر ہے
کفر ہے ہم اگر تمھیں چاہیں
لوگ پوجیں صنم تو بہتر ہے
عشق مرتا تو کم ہی ہے لیکن
عشق مارے بھی کم تو بہتر ہے
داد ملتی ہے وہ سنیں نہ سنیں
آہ کا زیر و بم تو بہتر ہے
نہ کرو توبہ دل دکھانے سے
اب نہ ٹوٹے قسم تو بہتر ہے
دل کا قصہ وہی قدیمی ہے
نہ سنیں محترم! تو بہتر ہے
منزلیں اب بھی دور ہیں راحیلؔ
اب تو مر جائیں ہم تو بہتر ہے
راحیلؔ فاروق
۱۸ ستمبر ۲۰۱۴ء
بہت عمدہ راحیل بھائی. کیا کہنے.
کافی دنوں سے شہنشاہِ تحریف خلیل بھائی کی کمی محسوس ہو رہی ہے.
شاہِ تحریف امجد علی راجا بھائی مشاعرہ کے ساتھ تحریفی کاروائی کے بعد آرام فرما رہے ہیں.
اور ابنِ رضا بھائی بھی مصروفیات کے سبب توجہ نہیں دے پا رہے.
آپ کی کسی غزل کے ساتھ چھیڑ خانی کا بڑا دل کر رہا ہے. مگر پرسوں لاہور روانگی ہے. وہاں سے واپسی پر گستاخی کا سوچتا ہوں. :)
Anonymous Ever After — اکتوبر 21، 2016 5:14 شام
عشق مرتا تو کم ہی ہے لیکن
عشق مارے بھی کم تو بہتر
Hats Off !
اے خان — اکتوبر 21، 2016 5:20 شام
بہت خوب راحیل بھائی
علی چشتی — اکتوبر 21، 2016 5:45 شام
کفر ہے ہم اگر تمھیں چاہیں
لوگ پوجیں صنم تو بہتر ہے
عشق مرتا تو کم ہی ہے لیکن
عشق مارے بھی کم تو بہتر ہے
داد ملتی ہے وہ سنیں نہ سنیں
آہ کا زیر و بم تو بہتر ہے
واہ واہ کیا ہی کہنے ۔۔اب تو پہلے سے بھی بہت بہتر ہے
فاتح — اکتوبر 21، 2016 6:06 شام
واہ واہ کیا کہنے۔
اکمل زیدی — اکتوبر 22، 2016 5:39 صبح
دل کا قصہ وہی قدیمی ہے
نہ سنیں محترم! تو بہتر ہے
عمدہ ۔ ۔ ۔
حسن محمود جماعتی — اکتوبر 22، 2016 5:47 صبح
کفر ہے ہم اگر تمھیں چاہیں
لوگ پوجیں صنم تو بہتر ہے
خود کو روکا ہے میرا ہونے سے
میرا ہونا ہے تیرے ہونے سے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دل کی باتیں زمانے بھر کو نہ یوں سناتا مجھے بتاتا
حسن محمود جماعتی — اکتوبر 22، 2016 5:48 صبح
شعری میں باخدا الف اور ب نہیں ہے ہاں اصطلاحات میں الف ضرور ہے۔۔۔۔۔۔
علی چشتی — اکتوبر 22، 2016 6:20 صبح
ان دیکھے کو بنا دیکھے دل کیسے مانے
ان سے تو وہ پتھر کا صنم بہتر ہے
حسن محمود جماعتی — اکتوبر 23، 2016 2:43 شام
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 23، 2016 2:48 شام
وضاحت کا شکریہ۔
لاریب مرزا — اکتوبر 23، 2016 3:14 شام
شعری میں باخدا الف اور ب نہیں ہے ہاں اصطلاحات میں الف ضرور ہے۔۔۔۔۔۔
جانتے ہیں ہم کہ اس میں کچھ مفعولن فعولن وغیرہ ہوتا ہے۔۔
لیکن شاید آپ نہیں جانتے کہ الف، ب محاوراتاً استعمال کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ بنیادی باتیں بھی نہیں آتیں ہیں..
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%88%DA%91-%DA%88%D8%A7%D9%84%DB%8C%DA%BA-%D9%82%D9%84%D9%85-%D8%AA%D9%88-%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1-%DB%81%DB%92.92633/