بہت ہی خوبصورت غزل۔
شاندار اشعار۔
زبردست پہ ڈھیروں زبریں۔
خزانہ ہے آپ کے پاس ماشاءاللہ ۔



شاندار اشعار۔
زبردست پہ ڈھیروں زبریں۔
خزانہ ہے آپ کے پاس ماشاءاللہ ۔
بہت نوازش ، بہت آداب، صابرہ ! توجہ اور پذیرائی کے لیے ممنون ہوں ، خواہرم۔ اللّٰہ ذوق سلامت رکھے ۔
حرفِ تحسین کے لیے بہت شکریہ، شارق! شکرگزار ہوں ۔
الحمدللّٰہ ! بہت شکریہ ، معان بھائی ۔
بہت شکریہ ، نوازش ، نین بھائی ۔ بہت مشکور ہوں ۔
کیا بات ہے ! کیا ذہنِ رسا پایا ہے ، نین بھائی !
بہت شکریہ ، نوازش ، ذرہ نوازی ہے ! بہت ممنون ہوں۔
آمین،
اللّٰہ کریم آپ کوصحتیاب فرمائے اور اچھا رکھے۔ ہر مشکل اور پریشانی سے دور رکھے۔ آمین
واہ ، واہ ، ظہیر صاحب ! ہمیشہ کی طرح بہترین غزل ہے . داد قبول فرمائیے . اِجازَت ہو تو دو سوال ہیں . ساتویں شعر میں ’پرائے‘ ( یعنی غیر كے ) جائز ہے یا ’پرایا‘ ہونا چاہیے ؟ میں نے ’ لہو‘ كے ساتھ صیغہ جمع کی صفت پہلے نہیں دیکھی . اور آٹھویں شعر میں ’کل کا‘ ہونا چاہیے یا ’کل کی ؟‘ میں نے ’ کل کی سوچنا‘ تو سنا ہے ، لیکن ’ کل کا سوچنا‘ میرے لیے نیا ہے .
حالانکہ یہ ڈر آپ کو جاسمن صاحبہ سے محسوس ہونا چاہیے۔۔۔۔ وہ آجکل فارم میں ہیں۔۔۔ میں تو ریٹائرمنٹ کا سوچ رہا ہوں۔
بہت شکریہ ، ذرہ نوازی ہے ، عرفان بھائی! داد و تحسین کے لیے ممنون ہوں ۔
عرفان بھائی ، میں کل کا سوچتا ہوں اور میں کل کی سوچتا ہوں دونوں ہی تقریر و تحریر میں مستعمل ہیں۔ لفظ "کل" کی تجنیس مختلف فیہ رہی ہے۔ بعض لغات نے اسے مؤنث لکھا ہے اور بعض نے مذکر۔ معاصر اردو میں اسے بیشتر مذکر ہی بولا اور لکھا جاتا ہے۔ مثلاً آنے والا کل ، گزرا ہوا کل ، مومن کا کل اُس کے آج سے بہتر ہے۔ وغیرہ ۔ میں ہمیشہ ہی اسے مذکر استعمال کرتا آیا ہوں۔
بہت شکریہ ظہیر سر بہت اچھے انداز میں آپ نے سمجھایا۔ اسی بات (تقدیر) کو دیکھتے ہوئے ایک شعر یاد آرہا ہے۔
پہلے مصرعے کا مضمون کچھ بدلنا پڑے گا۔ کیونکہ سورت الشمس کی آیت نمبر 8 میں اللّٰہ تعالیٰ اس طرح فرماتے ہیں۔
بہت شکریہ ، نوازش، نوشے میاں!
اگرچہ یہاں شاید ٹائپنگ کی غلطی ہوئی ہو ۔۔۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک دلچسپ اصطلاح بن سکتی ہے
اب اس ٹائپو کی ایسے ہی رہنے دیتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب قبلہ سے فرمائش کرتے ہیں کہ اشہبِ قلم دوڑاتے ہوئے اس "مقطلع" پر مضمون صادر فرمائیں۔
اگر مطلع اور مقطع دونوں پسند آئے ہوں۔