جانا ہے ایک روز حقیقت یہی تو ہے

ظہیراحمدظہیر — دسمبر 14، 2022 12:28 صبح
عمدہ غزل ہے ظہیر صاحب قبلہ، غزلِ مسلسل کا رنگ لیے ہوئے بہت اچھے اشعار ہیں۔ مقطلع بہت پسند آیا:
کیجے کرم کریم کی مخلوق پر ظہیؔر
دیجے نہ دکھ کسی کو سخاوت یہی تو ہے
واہ واہ، لاجواب!
بہت نوازش ، ذرہ نوازی ہے جناب! اللّٰہ کریم آپ کو سلامت رکھے آپ کی داد سے دل بڑھتا ہے ۔ بہت شکریہ!
یہ مقطلع بھی بہت خوب رہا ۔ یعنی ٹائپو ہو تو پھر ایسی ہو کہ لوگ اس میں بھی نکتہ آفرینی کریں۔ :)
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 14، 2022 2:22 صبح
اگر مطلع اور مقطع دونوں پسند آئے ہوں۔
ہاہاہا ۔ اب اس جامع تشریح کے بعد مزید کی گنجائش نہیں ہے۔
یاسر شاہ — دسمبر 14، 2022 3:53 شام
نکلے ہیں رنگ خاک سے جتنے بہار میں
ملنے ہیں پھر سے خاک میں فطرت یہی تو ہے

آنے نہ دیجے شیشۂ دل پر کوئی غبار
کاشانۂ حیات کی زینت یہی تو ہے

دنیا ہے اپنا آج بنانے کی فکر میں
میں کل کا سوچتا ہوں مصیبت یہی تو ہے

کیجے کرم کریم کی مخلوق پر ظہیؔر
دیجے نہ دکھ کسی کو سخاوت یہی تو ہے
کیا بات ہے ماشاء اللہ ۔بہت پیارے اشعار ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B1%D9%88%D8%B2-%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA-%DB%8C%DB%81%DB%8C-%D8%AA%D9%88-%DB%81%DB%92.119096/page-3