جانے عقب سے تیر تھا کس کی کمان کا

ظہیراحمدظہیر — نومبر 18، 2022 1:03 صبح
احبابِ کرام! دو سال پرانی ایک غزل پیشِ خدمت ہے ۔ شاید ایک دو اشعار کسی کام کے ہوں ۔ آپ کے ذوقِ نظر کی نذر کرتا ہوں!
٭٭٭
جانے عقب سے تیر تھا کس کی کمان کا
لیتے ہیں لوگ نام کسی مہربان کا
آشوبِ تشنگی میں یہ تسکیں بھی کم نہیں
احساں نہیں ہے سر پہ کسی سائبان کا
دل مصلحت پسند تھا ، شوق انتہا پرست
رستہ میں ڈھونڈتا ہی رہا درمیان کا
دنیا جھلک رہی ہے جو مجھ میں تو کیا عجب
میں آئنہ ہوں اپنے زمان و مکان کا
تسلیم کر چکے جو مقدر کے فیصلے
اُن کو نہیں ہے خوف کسی امتحان کا
ہر دردِ نو پہ نغمۂ تازہ لکھیں گے ہم
تلخی نہیں مزاج ہماری زبان کا
سارے ستم زمین پر اہلِ زمیں کے ہیں
شکوہ کروں تو کیسے کروں آسمان کا
اوپر فلک سے جہلِ عقیدت نے کردیا
منبر بلند واعظِ شعلہ بیان کا
٭٭٭
ظہیراحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۲۱​
نیرنگ خیال — نومبر 18، 2022 1:59 صبح
بہت ہی عمدہ غزل ہے ظہیر بھائی! ایک سے ایک بڑھ کر اشعار ہیں۔۔۔ اور ان اشعار کے مضامین۔۔۔۔۔ :redheart:
بالخصوص یہ اشعار پڑھ کر تو لگا کہ میرے بھی تو یہی مسائل ہیں۔۔۔
آشوبِ تشنگی میں یہ تسکیں بھی کم نہیں
احساں نہیں ہے سر پہ کسی سائبان کا

دل مصلحت پسند تھا ، شوق انتہا پرست
رستہ میں ڈھونڈتا ہی رہا درمیان کا

ہر دردِ نو پہ نغمۂ تازہ لکھیں گے ہم
تلخی نہیں مزاج ہماری زبان کا
الف عین — نومبر 18، 2022 3:21 صبح
واہ واہ، بہت خوب غزل ہے
محمد وارث — نومبر 18، 2022 5:32 صبح
عمدہ غزل ہے ظہیر صاحب قبلہ
دل مصلحت پسند تھا ، شوق انتہا پرست
رستہ میں ڈھونڈتا ہی رہا درمیان کا
سارے ستم زمین پر اہلِ زمیں کے ہیں
شکوہ کروں تو کیسے کروں آسمان کا
واہ واہ، بہت خوب۔
سیما علی — نومبر 18، 2022 5:52 صبح
تسلیم کر چکے جو مقدر کے فیصلے
اُن کو نہیں ہے خوف کسی امتحان کا
بہت عمدہ غزل ۔
ہر شعر لاجواب
سارے ستم زمین پر اہلِ زمیں کے ہیں
شکوہ کروں تو کیسے کروں آسمان کا
بہترین بہت بہترین
محمد عبدالرؤوف — نومبر 18، 2022 10:01 صبح
واہ واہ بہت خوب۔۔۔ ہر شعر ہی خوبصورت ہے۔
لیکن یہ لاجواب ہیں۔
دل مصلحت پسند تھا ، شوق انتہا پرست
رستہ میں ڈھونڈتا ہی رہا درمیان کا

سارے ستم زمین پر اہلِ زمیں کے ہیں
شکوہ کروں تو کیسے کروں آسمان کا

اوپر فلک سے جہلِ عقیدت نے کردیا
منبر بلند واعظِ شعلہ بیان کا
سید عاطف علی — نومبر 18، 2022 11:28 صبح
واہ ظہیر بھائی واہ ۔ خوبصورت غزل ہے ۔
ظہیراحمدظہیر — نومبر 21، 2022 3:29 صبح
بہت ہی عمدہ غزل ہے ظہیر بھائی! ایک سے ایک بڑھ کر اشعار ہیں۔۔۔ اور ان اشعار کے مضامین۔۔۔۔۔ :redheart:
بالخصوص یہ اشعار پڑھ کر تو لگا کہ میرے بھی تو یہی مسائل ہیں۔۔۔
نوازش، کرم نوازی ہے ! بہت شکریہ ، نین بھائی ۔ کوشش تو ہوتی ہے کہ خود بیتی کے ساتھ کچھ جگ بیتی کا تذکرہ بھی ہوجائے ۔ اللّٰہ کریم آپ کو خوش رکھے۔
عرفان علوی — نومبر 21، 2022 3:29 صبح
احبابِ کرام! دو سال پرانی ایک غزل پیشِ خدمت ہے ۔ شاید ایک دو اشعار کسی کام کے ہوں ۔ آپ کے ذوقِ نظر کی نذر کرتا ہوں!
٭٭٭
جانے عقب سے تیر تھا کس کی کمان کا
لیتے ہیں لوگ نام کسی مہربان کا
آشوبِ تشنگی میں یہ تسکیں بھی کم نہیں
احساں نہیں ہے سر پہ کسی سائبان کا
دل مصلحت پسند تھا ، شوق انتہا پرست
رستہ میں ڈھونڈتا ہی رہا درمیان کا
دنیا جھلک رہی ہے جو مجھ میں تو کیا عجب
میں آئنہ ہوں اپنے زمان و مکان کا
تسلیم کر چکے جو مقدر کے فیصلے
اُن کو نہیں ہے خوف کسی امتحان کا
ہر دردِ نو پہ نغمۂ تازہ لکھیں گے ہم
تلخی نہیں مزاج ہماری زبان کا
سارے ستم زمین پر اہلِ زمیں کے ہیں
شکوہ کروں تو کیسے کروں آسمان کا
اوپر فلک سے جہلِ عقیدت نے کردیا
منبر بلند واعظِ شعلہ بیان کا
٭٭٭
ظہیراحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۲۱​
واہ ، واہ ، ظہیر بھائی ! کیا خوب غزل ہے . سبحان اللہ . بہت ساری داد .
ظہیراحمدظہیر — نومبر 21، 2022 3:34 صبح
واہ واہ، بہت خوب غزل ہے
بہت نوازش ، بہت شکریہ ، اعجاز بھائی۔ حوصلہ افزائی کے لیے ممنون ہوں۔
ظہیراحمدظہیر — نومبر 21، 2022 3:36 صبح
عمدہ غزل ہے ظہیر صاحب قبلہ
دل مصلحت پسند تھا ، شوق انتہا پرست
رستہ میں ڈھونڈتا ہی رہا درمیان کا
سارے ستم زمین پر اہلِ زمیں کے ہیں
شکوہ کروں تو کیسے کروں آسمان کا
واہ واہ، بہت خوب۔
آداب، تسلیمات! بہت ممنون ہوں وارث صاحب!آپ کی توجہ اور کرم نوازی کے لیے بہت بہت شکریہ! اللّٰہ آپ کو سلامت رکھے۔
ظہیراحمدظہیر — نومبر 21، 2022 3:37 صبح
بہت عمدہ غزل ۔
ہر شعر لاجواب
بہترین بہت بہترین
آداب ، نواز ش! ذرہ نوازی ہے آپ کی ۔ بہت ممنون ہوں ، سیما آپا۔
ظہیراحمدظہیر — نومبر 21، 2022 3:38 صبح
واہ واہ بہت خوب۔۔۔ ہر شعر ہی خوبصورت ہے۔
لیکن یہ لاجواب ہیں۔
نوازش، بہت مہربانی! مشکور و ممنون ہوں جناب ۔ اللّٰہ آپ کو خوش رکھے۔
ظہیراحمدظہیر — نومبر 21، 2022 3:42 صبح
واہ ظہیر بھائی واہ ۔ خوبصورت غزل ہے ۔
آداب و تسلیمات ! بہت نوازش ہے ، عاطف بھائی ۔ خیلی متشکرم!
ظہیراحمدظہیر — نومبر 21، 2022 3:43 صبح
واہ ، واہ ، ظہیر بھائی ! کیا خوب غزل ہے . سبحان اللہ . بہت ساری داد .
آداب ، بہت نوازش ! بہت ممنون ہوں آپ کی توجہ اور تحسین کے لیے ،عرفان بھائی ۔
سیما علی — نومبر 21، 2022 4:39 صبح
آداب ، نواز ش! ذرہ نوازی ہے آپ کی ۔ بہت ممنون ہوں ، سیما آپا۔
جیتے رہیے ،پروردگار اپنی حفظ و امان میں رکھے آمان
محمد احسن سمیع راحلؔ — نومبر 28، 2022 10:20 صبح
دل مصلحت پسند تھا ، شوق انتہا پرست
رستہ میں ڈھونڈتا ہی رہا درمیان کا
یعنی اول غامدی صاحب سے بیعت تھا اور ثانی شاید ملا عمر مرحوم سے :)
مذاق بر طرف، عمدہ کلام ہے ظہیر بھائی ۔۔۔ ایز آلویز :)
سبحان اللہ ۔۔۔ دبرر :)
محمد احسن سمیع راحلؔ — نومبر 28، 2022 10:24 صبح
اوپر فلک سے جہلِ عقیدت نے کردیا
منبر بلند واعظِ شعلہ بیان کا
بہت سے یوٹیوب زدہ علما اور واعظین پر مکمل صادق آتا ہے یہ شعر :)
ظہیراحمدظہیر — نومبر 28، 2022 2:55 شام
یعنی اول غامدی صاحب سے بیعت تھا اور ثانی شاید ملا عمر مرحوم سے
راحل بھائی ، یہ شعر کسی عفیفہ کے بارے میں نہیں بلکہ فیفا کپ کے بارے میں ہے ۔ یعنی مصلحت کہہ رہی ہے کہ کل کا میچ امریکا جیتے لیکن خواہش یہ ہے کہ ایرانی ان سالے منافقوں کو ایسی مار لگائیں کہ رہے نام سائیں کا۔
چنانچہ اب بیچ کا راستہ یہ ڈھونڈا ہے کہ برازیل جیت جائے ۔ :) :) :)
ظہیراحمدظہیر — نومبر 28، 2022 2:58 شام
بہت سے یوٹیوب زدہ علما اور واعظین پر مکمل صادق آتا ہے یہ شعر :)
امت مسلمہ کے زوال میں جو تھوڑی سی کسر رہ گئی تھی وہ انہی یو ٹیوبی دانشوروں اور مقرروں کے ذریعے پوری ہوتی نظر آرہی ہے ۔ خدشہ ہے کہ موجودہ صورتحال نہ بدلی تو اگلی نسل کو شاید کتب احادیث کے نام بھی معلوم نہیں ہوں گے ۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92-%D8%B9%D9%82%D8%A8-%D8%B3%DB%92-%D8%AA%DB%8C%D8%B1-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%DA%A9%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7.119023/