جسے پہچانے دل اور جس کو جانے من
وہ ہے گلفام و دل آرام و جانِ من
ضروری تو نہیں محبوب مل جائے
تصور بھی بہت ہے ان کا جان اے من!
میں نے اپنی دانست میں صنعتِ تجنیس تام سے کام لینے کی کوشش کی ہے۔
ضرور ان شاء اللہ۔ مشق کے دور سے گزر رہا ہوں، بلکہ مشق کے دور کی بھی ابھی شروعات ہے۔
بھائی جان، اگرچہ غالب کہہ گیا ہے: "لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی"، مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہر وقت "کثافت" ہی سے کام لیا جائے۔ "صنعتِ تجنیس" کی تشریح کے لیے مجھ عاجز کو لغت کھولنی پڑے گی۔ پھر بھی گارنٹی نہیں کہ سمجھ میں کچھ آئے یا نہ آئے۔ کسی آسان چیز سے کام نہیں لیا جاسکتا؟
تشریف لاتے ہی تفعیل کی تقریر تحریر کردی اور ان مصادر کی پوری تسبیح پڑھ ڈالی، تخمین ہے کہ آپ کے استاد نے بڑی تاکید کے ساتھ عربی پڑھاتے وقت باب تفعیل کی تمرین کروائی ہے۔آپ کی تفعیلی تہذیب کی میں تصدیق کرتا ہوں۔
مزید دل چسپ!۔
جزاکم اللہ خیرا۔
ردیف صرف ”من“ ہے، جبکہ ”جانے“ ، ”جانِ“ اور ”جان اے“ قوافی ہیں، جن میں تجنیس تام سے کام لیا گیا ہے۔
کوئی حوالہ؟