عاطف ملک — اکتوبر 26، 2020 5:12 شام
چند تک بندیاں:
جس پل سے ترا عشق ہمیں دان ہوا ہے
پہلے جو کٹھن تھا وہی آسان ہوا ہے
الفت کا بھی کیا خوب ہی احسان ہوا ہے
اب نام تمہارا مری پہچان ہوا ہے
یہ بھول گیا فرطِ مسرت میں دھڑکنا
اس دل میں ترا درد جو مہمان ہوا ہے
جاتی ہے تو جاں جائے، نہ جائے گا یہ دل سے
یہ عشق ہمیں صورتِ ایمان ہوا ہے
فریاد، نہ شکوہ، نہ فغاں، مہر بہ لب ہوں
وہ ضبط مرا دیکھ کے حیران ہوا ہے
اشکوں کی سیاہی بھرے مژگاں کے قلم سے
تحریر غمِ ہجر کا فرمان ہوا ہے
گلشن کی تباہی پہ نہ ہوگی کوئی فریاد
گل چیں سے عنادل کا یہ پیمان ہوا ہے
لے آئے کوئی آنکھ میں امید کے جگنو
تاریک مرے دل کا شبستان ہوا ہے
اک یاد تمہاری بھی گئی ہاتھ سے جس کے
عاطفؔ سا بھی کوئی تہی دامان ہوا ہے
عاطفؔ ملک
اکتوبر ۲۰۲۰
احمد محمد — اکتوبر 27، 2020 12:50 صبح
ماشاءاللہ۔ بہت خوب ملک صاحب
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 27، 2020 4:26 صبح
بہت خوب عاطف بھائی
گلشن کی تباہی پہ نہ ہوگی کوئی فریاد
گل چیں سے عنادل کا یہ پیمان ہوا ہے
عنادل کا تعلق خلائی مخلوق سے معلوم پڑتا ہے۔

عاطف ملک — اکتوبر 27، 2020 5:56 صبح
ماشاءاللہ۔ بہت خوب ملک صاحب
بہت شکریہ جناب
شکریہ تابش بھائی۔
پذیرائی کیلیے ممنون ہوں
عنادل کا تعلق خلائی مخلوق سے معلوم پڑتا ہے۔
ہاہاہا۔۔۔۔۔۔تعلق خوب جوڑا ہے آپ نے

محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 27، 2020 6:36 صبح
بہت خوب، ماشاء اللہ ۔۔۔ کیا خوب تغزل ہے
اکمل زیدی — اکتوبر 27، 2020 8:04 صبح
۔۔۔۔۔واہ۔۔۔
الف عین — اکتوبر 27، 2020 8:05 صبح
واہ، عمدہ ہے غزل
عاطف ملک — اکتوبر 27، 2020 11:10 صبح
بہت خوب، ماشاء اللہ ۔۔۔ کیا خوب تغزل ہے
بہت شکریہ راحل بھائی
بہت شکریہ محترمی
بہت شکریہ استادِ محترم

ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 28، 2020 3:16 شام
واہ واہ! اچھی غزل ہے عاطف بھائی !
کئی اچھے اشعار ہیں ۔ بہت خوب!
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 28، 2020 3:23 شام
عنادل کا تعلق خلائی مخلوق سے معلوم پڑتا ہے۔
عنادل نہ صرف خود منقار زیرِ پر ہیں بلکہ کوشش کرتی ہیں کہ کنجشک و عصافیر و زاغ و زغن وغیرہم کو بھی کچھ نہ بولنے دیں۔
سیما علی — اکتوبر 28، 2020 3:43 شام
عاطف ملک — اکتوبر 29، 2020 4:44 صبح
محمد عبدالرؤوف — اکتوبر 29، 2020 4:55 صبح
عنادل نہ صرف خود منقار زیرِ پر ہیں بلکہ کوشش کرتی ہیں کہ کنجشک و عصافیر و زاغ و زغن وغیرہم کو بھی کچھ نہ بولنے دیں۔
سنا ہے ایسی گنجلک اور مبہم باتیں کرنے پر بھی پابندِ سلاسل کیا جا رہا ہے۔ آپ تو پہنچ سے دور ہیں، یقیناً اس کا خمیازہ صاحبِ رسالہ کو ہی بھگتنا پڑے گا

مقبول — اکتوبر 29، 2020 5:13 صبح
چند تک بندیاں:
جس پل سے ترا عشق ہمیں دان ہوا ہے
پہلے جو کٹھن تھا وہی آسان ہوا ہے
الفت کا بھی کیا خوب ہی احسان ہوا ہے
اب نام تمہارا مری پہچان ہوا ہے
یہ بھول گیا فرطِ مسرت میں دھڑکنا
اس دل میں ترا درد جو مہمان ہوا ہے
جاتی ہے تو جاں جائے، نہ جائے گا یہ دل سے
یہ عشق ہمیں صورتِ ایمان ہوا ہے
فریاد، نہ شکوہ، نہ فغاں، مہر بہ لب ہوں
وہ ضبط مرا دیکھ کے حیران ہوا ہے
اشکوں کی سیاہی بھرے مژگاں کے قلم سے
تحریر غمِ ہجر کا فرمان ہوا ہے
گلشن کی تباہی پہ نہ ہوگی کوئی فریاد
گل چیں سے عنادل کا یہ پیمان ہوا ہے
لے آئے کوئی آنکھ میں امید کے جگنو
تاریک مرے دل کا شبستان ہوا ہے
اک یاد تمہاری بھی گئی ہاتھ سے جس کے
عاطفؔ سا بھی کوئی تہی دامان ہوا ہے
عاطفؔ ملک
اکتوبر ۲۰۲۰
بہت خوب
محمداحمد — اکتوبر 29، 2020 5:15 صبح
بہت خوب عاطف بھائی!
کیا کہنے!
فریاد، نہ شکوہ، نہ فغاں، مہر بہ لب ہوں
وہ ضبط مرا دیکھ کے حیران ہوا ہے
لے آئے کوئی آنکھ میں امید کے جگنو
تاریک مرے دل کا شبستان ہوا ہے
اک یاد تمہاری بھی گئی ہاتھ سے جس کے
عاطفؔ سا بھی کوئی تہی دامان ہوا ہے
بہت سی داد اور مبارکباد!
سید عاطف علی — اکتوبر 29، 2020 6:41 صبح
جاتی ہے تو جاں جائے، نہ جائے گا یہ دل سے
یہ عشق ہمیں صورتِ ایمان ہوا ہے
واہ-خوب کہا ہے۔
عاطف ملک — اکتوبر 29، 2020 8:42 صبح
شکریہ
بہت خوب عاطف بھائی!
کیا کہنے!
بہت سی داد اور مبارکباد!
نوازش احمد بھائی
جاتی ہے تو جاں جائے، نہ جائے گا یہ دل سے
یہ عشق ہمیں صورتِ ایمان ہوا ہے
واہ-خوب کہا ہے۔
پذیرائی کیلیے ممنون ہوں شاہ جی
جاسمن — اکتوبر 30، 2020 7:17 شام
بہت خوب!
واہ خوبصورت غزل۔
عاطف ملک — نومبر 3، 2020 4:55 صبح
بہت خوب!
واہ خوبصورت غزل۔
بہت شکریہ آپا
سید علی رضوی — نومبر 6، 2020 6:35 صبح
ماشاءاللہ اچھی غزل ہے مبارک باد