جشن تیرہ شبی منانا ہے ۔ فاتح الدین فاتح

یوسف سلطان — مارچ 21، 2016 3:42 صبح
یاوہ گوئی ہے ہجر کا قصہ
ہاں کہانی سہی، کہا نا ہے
زندگی نے ہمیں گزار لیا
خاک ہم نے اسے بِتانا ہے
ہم بھی قارون سے کہاں کم ہیں
فاقہ مستی بڑا خزانہ ہے
بہت خوب !
فاتح — مارچ 21، 2016 9:03 صبح
واہ واہ، فاتح بھائی، کیا کہنے۔
بہت عمدہ
بہت شکریہ تابش بھائی۔ سلامت رہیے
فاتح — مارچ 21، 2016 9:04 صبح
بہت عمدہ فاتح بھائی
شکریہ سعدیہ۔ جیتی رہو
فاتح — مارچ 21، 2016 9:05 صبح
بہت خوب ۔۔۔
اپنی نظروں سے گر گیا ہوں میں
اور کتنا مجھے گرانا ہے​
کمال
شکریہ جناب
فاتح — مارچ 21، 2016 9:05 صبح
میں نے تقویم ڈال دی پسِ پشت
تیرے آگے ابھی زمانہ ہے
آہا ۔ کیا بات ہے ۔ بہت خوب۔
بہت شکریہ۔ محبت ہے آپ کی
فاتح — مارچ 21، 2016 9:06 صبح
بہت عمدہ فاتح بھائی
زندگی نے ہمیں گزار لیا
خاک ہم نے اسے بِتانا ہے
ممنون ہوں ذیشان بھائی
فاتح — مارچ 21، 2016 9:07 صبح
بہت خوب!
ایک خوبصورت غزل
واہ واہ
بہت سی داد
بہت شکریہ جاسمن بہن۔ یہ غزل آپ کی مہمیز پر ہی پرانی فائلوں کے انبار میں سے نکال کر ارسال کی ہے۔ اگر آپ میری غزلوں کی لڑیاں نکال کر انہیں تازہ نہ کرتیں تو مجھے مہمیز نہ ملتی۔
فاتح — مارچ 21، 2016 9:08 صبح
زندگی نے ہمیں گزار لیا
خاک ہم نے اسے بِتانا ہے ۔۔
یہ شعر تو پڑھا ہوا لگتا ہے پہلے کیونکہ یاد کر لیا تھا اتنا پسند آیا تھا ۔۔ باقی سب اشعار بھی زبردست ہیں ۔۔
زخم بھی، آہ بھی، شکایت بھی
حشر کیا کیا مجھے دبانا ہے​

ہم بھی قارون سے کہاں کم ہیں
فاقہ مستی بڑا خزانہ ہے​

کھو گئی آرزوئے خواہش تک
کیا بچا ہے کہ اب گنوانا ہے
:applause::applause:
شکریہ سارہ۔ شاید فیس بک پر میرے پیج پر لگی ہوئی ہے۔ وہیں پڑھی ہو گی۔
فاتح — مارچ 21، 2016 9:09 صبح
کیا کہنے فاتح صاحب، لاجواب غزل ہے، سبھی اشعار ایک سے بڑھ کر ایک ہیں، بہت داد قبول کیجیے جناب۔
آپ کی محبتوں کے تو ہم یوں بھی اسیر ہیں۔ بہت شکریہ وارث صاحب
فاتح — مارچ 21، 2016 9:09 صبح
واہ واہ استاد محترم
کھو گئی آرزوئے خواہش تک
کیا بچا ہے کہ اب گنوانا ہے
شکریہ، جیتے رہو فراز۔
فاتح — مارچ 21، 2016 9:10 صبح
شکریہ عارف ۔ آپ اس کوچے میں ، خیریت تو ہے نا؟ :)
فاتح — مارچ 21، 2016 9:11 صبح
واہ واہ کمال لکھا فاتح بھائی
شکریہ عائشہ، شاد و باد رہو بیٹا۔
فاتح — مارچ 21، 2016 9:13 صبح
ایک عرصے بعد ایک بڑا دھماکا!!!!
سمت کے لئے منتخب
یہ تو سراسر آپ کی محبت ہے اعجاز صاحب اور میرے لیے اعزاز ہے۔
دھماکا تو پرانا ہی ہے لیکن محفل پر موجود نہیں تھا ۔ سو یہ اس دھماکے کی بازگشت ہے۔ :)
فاتح — مارچ 21، 2016 9:14 صبح
کیا بشیر تخلص سے کنارا کر لیا ہے؟ فاتح
جی، پہلے دونوں تخلص استعمال کر لیا کرتا تھا، کبھی فاتح کبھی بشیر لیکن اب اعلانیہ طور پر صرف فاتح اختیار کر لیا ہے۔
فاتح — مارچ 21، 2016 9:15 صبح
قیس کو بالکا سمجھتا ہے
چار حرف اس پہ بھی، دوانہ ہے
ہم بھی قارون سے کہاں کم ہیں
فاقہ مستی بڑا خزانہ ہے
:applause::notworthy::music:
شکریہ مریم۔ سلامت رہو
فاتح — مارچ 21، 2016 9:18 صبح
بہت خوب فاتح بھائی ! کیا اچھے اشعار ہیں !!! بہت اعلیٰ!!
زندگی نے ہمیں گزار لیا
خاک ہم نے اسے بِتانا ہے
کھو گئی آرزوئے خواہش تک
کیا بچا ہے کہ اب گنوانا ہے
کیا اچھا کہا ہے ۔ واہ واہ!! سلامت رہیئے ۔
آج دو ہفتے بعد محفل میں آنے کا موقع ملا تو فورًا ہی آپ کی اور راحیل فاروق کی خوبصورت غزلیں پڑھنے کو ملیں ۔ فاتح بھائی غزل کا بہت بہت شکریہ ۔ ورنہ میں تو سمجھ رہا تھا کہ وارث صاحب کی طرح آپ کے قلم کی روشنائی بھی خشک ہونے لگی ہے ۔:):):)
شکر ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
ظہیر بھائی، یہ ذرہ نوازی ہے آپ کی ورنہ من آنم کہ من دانم ۔
یہ ان پرانی غزلوں میں سے ہے جو محفل پر ارسال ہونے سے رہ گئی ہیں ورنہ قلم کی روشنائی اگر نہیں بھی سوکھی تو اس دور سے ضرور گزر رہا ہوں جسے شعرا قلمی بانجھ پن کہتے ہیں اور یہ دور کتنا طویل یا مختصر ہو گا کسی کو نہیں معلوم۔ آپ خود ایک با کمال شاعر ہیں اور ایسے عہد سے ضرور گزرتے ہوں گے تو آپ کے لیے سمجھنا آسان ہے۔
سید فصیح احمد — مارچ 21، 2016 9:18 صبح
جشن تیرہ شبی منانا ہے
خون کو خاک میں ملانا ہے​

اپنی نظروں سے گر گیا ہوں میں
اور کتنا مجھے گرانا ہے
زندگی نے ہمیں گزار لیا
خاک ہم نے اسے بِتانا ہے​

چاہیے اختیار موجوں پر
پار سوہنی کو بس لگانا ہے​

ہم بھی قارون سے کہاں کم ہیں
فاقہ مستی بڑا خزانہ ہے​

کھو گئی آرزوئے خواہش تک
کیا بچا ہے کہ اب گنوانا ہے
صاحب آپ تو کمال کرتے ہیں،
درج بالا اشعار میں خاص طور غنائی آہنگ بہت نمایاں ہے۔ لطف آیا پڑھ کر محترم! بہت دعائیں!​
فاتح — مارچ 21، 2016 9:19 صبح
بہت شکریہ یوسف سلطان صاحب
فاتح — مارچ 21، 2016 9:20 صبح
جشن تیرہ شبی منانا ہے
خون کو خاک میں ملانا ہے​

اپنی نظروں سے گر گیا ہوں میں
اور کتنا مجھے گرانا ہے
زندگی نے ہمیں گزار لیا
خاک ہم نے اسے بِتانا ہے​

چاہیے اختیار موجوں پر
پار سوہنی کو بس لگانا ہے​

ہم بھی قارون سے کہاں کم ہیں
فاقہ مستی بڑا خزانہ ہے​

کھو گئی آرزوئے خواہش تک
کیا بچا ہے کہ اب گنوانا ہے
صاحب آپ تو کمال کرتے ہیں،
درج بالا اشاعر میں خاص طور غنائی آہنگ بہت نمایاں ہے۔ لطف آیا پڑھ کر محترم! بہت دعائیں!​
یہ محض آپ کا حسن نظر ہے فصیح صاحب۔ سلامت رہیے۔ آپ کی جانب سے پذیرائی پر ممنون ہوں۔
سید فصیح احمد — مارچ 21، 2016 11:40 صبح
ظہیر بھائی، یہ ذرہ نوازی ہے آپ کی ورنہ من آنم کہ من دانم ۔
یہ ان پرانی غزلوں میں سے ہے جو محفل پر ارسال ہونے سے رہ گئی ہیں ورنہ قلم کی روشنائی اگر نہیں بھی سوکھی تو اس دور سے ضرور گزر رہا ہوں جسے شعرا قلمی بانجھ پن کہتے ہیں اور یہ دور کتنا طویل یا مختصر ہو گا کسی کو نہیں معلوم۔ آپ خود ایک با کمال شاعر ہیں اور ایسے عہد سے ضرور گزرتے ہوں گے تو آپ کے لیے سمجھنا آسان ہے۔

بلا شبہ قلمی سفر میں اکثر دوست اس خلا کا شکار ہو جاتے ہیں، اور بہت مشکل دور ہوتا ہے یہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%B4%D9%86-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%81-%D8%B4%D8%A8%DB%8C-%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%86%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD.88763/page-2