حسن ایسا کہ تجلی کو مچلتا دیکھوں ۔ فاتح الدین بشیر

فاتح — اپریل 14، 2013 8:59 شام
ہمیشہ کی طرح لاجواب۔۔۔ ۔بہت خوب فاتح برادر
آج نیرنگ بھی کمال کر رہے ہیں۔۔۔ ہمیں فاتح برادر کی وہ وہ غزلیں پڑھا رہے ہیں جو ہم نے نہیں پڑھی تھی
نیرنگ برادر آپ کا بھی شکریہ
بہت شکریہ برادرم۔ یہ واقعی سراسر نیرنگ خیال کی محبت ہے۔
فاتح — اپریل 14، 2013 8:59 شام
واہ واہ
بہت ہی خوب استاد محترم ، کیا الفاظ کا سحر طاری کیا آپ نے
کائناتوں کا سفر کیسے ہو لمحوں پہ محیط
خواب در خواب فقط عشق کو چلتا دیکھوں
بہت شکریہ برادرم فراز۔ جیتے رہو
مقدس — اپریل 14، 2013 9:04 شام
واہ واہ واہ
فاتح — اپریل 14، 2013 9:06 شام
شکریہ شکریہ شکریہ :)
نیرنگ خیال — اپریل 15، 2013 6:25 صبح
ہمیشہ کی طرح لاجواب۔۔۔ ۔بہت خوب فاتح برادر
آج نیرنگ بھی کمال کر رہے ہیں۔۔۔ ہمیں فاتح برادر کی وہ وہ غزلیں پڑھا رہے ہیں جو ہم نے نہیں پڑھی تھی
نیرنگ برادر آپ کا بھی شکریہ
فاتح بھائی کا اک شعر نظروں سے گزرا۔۔۔ تو دل کیا کہ کیوں نہ اس کمال شعر کے خالق کی تمام کی تمام تخلیقات پڑھیں جائیں۔۔۔ اور بس ہوگئے شروع۔۔۔ شکریہ تو فاتح بھائی کا کریں جو اس قدر کمال تخلیقات کے خالق ہیں۔۔۔ :)
فاتح — اپریل 15، 2013 6:35 صبح
فاتح بھائی کا اک شعر نظروں سے گزرا۔۔۔ تو دل کیا کہ کیوں نہ اس کمال شعر کے خالق کی تمام کی تمام تخلیقات پڑھیں جائیں۔۔۔ اور بس ہوگئے شروع۔۔۔ شکریہ تو فاتح بھائی کا کریں جو اس قدر کمال تخلیقات کے خالق ہیں۔۔۔ :)
وہ مہمیز کرنے والا ایسا کون سا شعر تھا بھائی؟
نیرنگ خیال — اپریل 15، 2013 6:47 صبح
وہ مہمیز کرنے والا ایسا کون سا شعر تھا بھائی؟
موجِ قدح میں غرق ہیں مجذوب مست حال
جلوت برائے خلوتِ رنداں نہ پوچھیے
(فاتح الدین بشیر)
کل اپنے کیفیت نامے پر بھی لگا رکھا تھا۔۔۔ :)
محمد تابش صدیقی — جنوری 25، 2016 5:06 شام
لاجواب
خاکسار کی ایک تازہ غزل احباب کی بصارتوں کی نذر:
حُسن ایسا کہ تجلّی کو مچلتا دیکھوں
نُور سا نُور درِ طُور مَیں ڈھلتا دیکھوں
اس کے قامت سے قیامت پہ بھی آ جائےقیام
گرمیِ دید سے ہر سنگ پگھلتا دیکھوں
وہ تصوّر کہ سمائے نہ کسی کون و مکاں
پیرہن رنگ کروں، نقش بدلتا دیکھوں
کائناتوں کا سفر کیسے ہو لمحوں پہ محیط
خواب در خواب فقط عشق کو چلتا دیکھوں
دُودِ ہستی نے بنایا ہے عجب عکسِ وجود
خود کو اپنی ہی حدوں سے میں نکلتا دیکھوں
جتنا دامن کو جھٹکتا ہوں، گریزاں اس سے
بُوئے گُل ہے کہ اسے ساتھ ہی چلتا دیکھوں
کوئی ہے، جو مجھے مجھ سے بھی بچائے، پَل پَل
گرتے گرتے بھی ہر اک گام سنبھلتا دیکھوں
(فاتح الدین بشیرؔ)
عمراعظم — جنوری 25، 2016 5:36 شام
دُودِ ہستی نے بنایا ہے عجب عکسِ وجود
خود کو اپنی ہی حدوں سے میں نکلتا دیکھوں
بے مثال۔
ابن رضا — جنوری 25، 2016 5:41 شام
واہ واہ واہ۔ ۔ ۔ ۔ بہت عمدہ۔
فاتح — جنوری 25، 2016 6:56 شام
بہت شکریہ تابش بھائی۔
فاتح — جنوری 25، 2016 6:56 شام
دُودِ ہستی نے بنایا ہے عجب عکسِ وجود
خود کو اپنی ہی حدوں سے میں نکلتا دیکھوں
بے مثال۔
نوازش ہے آپ کی
فاتح — جنوری 25، 2016 6:56 شام
واہ واہ واہ۔ ۔ ۔ ۔ بہت عمدہ۔
بے حد ممنون ہوں
عائشہ عزیز — جنوری 26، 2016 10:39 صبح
واہ واہ کیا کہنے بھیا۔۔واہ
فاتح — جنوری 26، 2016 7:38 شام
واہ واہ کیا کہنے بھیا۔۔واہ
شکریہ بیٹا۔ جیتی رہو
محمد بلال اعظم — جنوری 27، 2016 9:27 صبح
واہ واہ
سبحان اللہ
فاتح بھائی! کمال غزل ہے! ایک سے بڑھ کر ایک ہیں تمام اشعار
کیا کہنے!
عائشہ عزیز — جنوری 27، 2016 1:53 شام
شکریہ بیٹا۔ جیتی رہو
یہ والی تو بہت آسان تھی مجھے پوری سمجھ آگئی :p:cool:
ظہیراحمدظہیر — جنوری 27، 2016 2:44 شام
دُودِ ہستی نے بنایا ہے عجب عکسِ وجود
خود کو اپنی ہی حدوں سے میں نکلتا دیکھوں
بہت اعلیٰ !! کیا بات ہے فاتح بھائی !! سلامت رہیئے ۔ خوب!
فاتح — جنوری 27، 2016 4:36 شام
واہ واہ
سبحان اللہ
فاتح بھائی! کمال غزل ہے! ایک سے بڑھ کر ایک ہیں تمام اشعار
کیا کہنے!
بہت شکریہ بلال۔ جیتے رہو
فاتح — جنوری 27، 2016 4:36 شام
یہ والی تو بہت آسان تھی مجھے پوری سمجھ آگئی :p:cool:
اہاں۔۔۔ اب میں بولوں کہ نہ بولوں؟ :laughing:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AD%D8%B3%D9%86-%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7-%DA%A9%DB%81-%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C-%DA%A9%D9%88-%D9%85%DA%86%D9%84%D8%AA%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA-%DB%94-%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%B4%DB%8C%D8%B1.32654/page-2