خاک در خاک تری ہجرت و ایثار پہ خاک --- ایک ہجو

سید محمد نقوی — مئی 7، 2009 8:45 صبح
بہت خوب جناب! سبحان اللہ!
اس میں کچھ شعر ایسے بھی ہوئے جو یہاں پیش کرنے سے قاصر ہوں کہ فوراً کفریات والے اپنے اپنے فتوے لے آتے ،

حضور ایسے اشعار اگر کسی خاص جگہ خاص افراد کے لیے بھیج دیں تو اچھا ہوگا۔ مجھے اس قسم کے اشعار بہت پسند ہیں۔
مذاق اہل جہاں کو بھلی لگے نہ لگے
شجر حجر تو سنیں گے، غزل سناتے جائیں
مغزل — مئی 7، 2009 12:57 شام
بہت شکریہ نقوی صاحب ، محبت آپ کی ۔ ایک بار پھر بہت شکریہ ۔ کرم نوازی کو
ش زاد — مئی 8، 2009 1:37 شام
حضورِ پر سلامتی ہو
اچھا کلام ہے خوشی کی بات یہ ہے کہ آپ ک قلم جاری و رواں ہے
ہم تو اس مسلسل جمود کے ہاتھوں بیزار آئے پڑے ہیں
دُعا کیجیئے ہمارے لیے
اللہ آپ کے قلم کو یوں ہی جوان و تواناء رکھے آمین
مغزل — مئی 9، 2009 6:04 صبح
حضورِ پر سلامتی ہو
اچھا کلام ہے خوشی کی بات یہ ہے کہ آپ ک قلم جاری و رواں ہے
ہم تو اس مسلسل جمود کے ہاتھوں بیزار آئے پڑے ہیں
دُعا کیجیئے ہمارے لیے
اللہ آپ کے قلم کو یوں ہی جوان و تواناء رکھے آمین

بہت بہت شکریہ ، بڑی محبت شین صاحب
سدا خوش رہیں ، (چاہے ہمیں‌ملنے سے بیزار رہیں) :rollingonthefloor:
محمداحمد — مئی 9، 2009 6:40 صبح
شام تک دھول اڑاتے ہیں سحر تک خاموش
خاک در خاک ترے کوچہ و بازار پہ خاک
خون آلود مصلّے ، صفیں لاشوں سے اٹی
خاک در خاک ترے جبّہ و دستار پہ خاک
آئنے عکس میسر نہیں تجھ کو بھی تو پھر
خاک در خاک ترے جوہرِ زنگار پہ خاک

مغل بھائی،
ماشاءاللہ بہت اچھا کلام ہے۔ استحصالی قوتوں کو خوب آئینہ دکھایا ہے۔ نذرانہء تحسین پیشِ خدمت ہے !
(ویسے پہلے میں سمجھا کہ یہ کلام لیاقت علی عاصم کی زمین میں ہے، لیکن آپ کے ہاں قافیہ کا فرق ہے، بہر طور کلام بہت خوب ہے۔ )
خوش رہیے۔
مغزل — مئی 9، 2009 6:49 صبح
شام تک دھول اڑاتے ہیں سحر تک خاموش
خاک در خاک ترے کوچہ و بازار پہ خاک
خون آلود مصلّے ، صفیں لاشوں سے اٹی
خاک در خاک ترے جبّہ و دستار پہ خاک
آئنے عکس میسر نہیں تجھ کو بھی تو پھر
خاک در خاک ترے جوہرِ زنگار پہ خاک

مغل بھائی،
ماشاءاللہ بہت اچھا کلام ہے۔ استحصالی قوتوں کو خوب آئینہ دکھایا ہے۔ نذرانہء تحسین پیشِ خدمت ہے !
(ویسے پہلے میں سمجھا کہ یہ کلام لیاقت علی عاصم کی زمین میں ہے، لیکن آپ کے ہاں قافیہ کا فرق ہے، بہر طور کلام بہت خوب ہے۔ )
خوش رہیے۔

بہت بہت شکریہ احمد صاحب، حوصلہ افزائی کو ممنون ہوں۔
یہ کلام لیاقت علی عاصم کی زمین میں نہیں ہے کہ بحر بھی مختلف ہے ہاں ردیف ضرور ایک ہے،
لیکن اس میں شاہد زماں (کوہاٹ ) ، احمد فراز اور عرفان صدیقی (انڈیا) کا کلام بھی نظروں سے گزرا
لیاقت علی عاصم صاحب کا مصرع ہے :: اے محبت تری مجال پہ خاک
الف عین — مئی 9، 2009 7:01 صبح
ارے یہ میری نظر سے کیسے مس ہو گئی؟
اچھے اشعار ہیں،
داد در داد تری ندرتِ اظہار پہ داد
سلیمان جاذب — مئی 9، 2009 8:58 صبح
خون آلود مصلّے ، صفیں لاشوں سے اٹی
خاک در خاک ترے جبّہ و دستار پہ خاک
بہت خوب مغل بھائی
ما شااللہ بہت اچھا کلام ہے
مغزل — مئی 9، 2009 9:10 صبح
شکریہ سلیمان جاذب صاحب
ایم اے راجا — مئی 12، 2009 10:36 صبح
راجہ جی ، آپ کا ذپ بھی مل گیا ہے میں مقدور بھر عرض کرتا ہوں ، حوصلہ افزائی کے لیے ممنون ہوں ، آپ کی داد سر آنکھوں پر، بہت بہت شکریہ جناب
شکریہ مغل صاحب۔
آج دل نے پھر چاہ کہ یہ ہجو پڑھوں سو دوبارہ پڑھا، سو ایکبار پھر داد قبول فرمائیے گا۔ شکریہ
مغزل — مئی 12، 2009 8:29 شام
ارے یہ میری نظر سے کیسے مس ہو گئی؟
اچھے اشعار ہیں،
داد در داد تری ندرتِ اظہار پہ داد

عزیز القدر بابا جانی
آداب و سلامِ مسنون
بہت محبت بہت عنایت ، آپ کی شفقت کا کوئی مول نہیں۔
مس ہونے کی بھی خوب رہی کہ ہماری نظر سے بھی آپ کا مراسلہ چوک گیا تھا (سو معذرت)
آپ کی منظوم داد سر آنکھوں پر ، اللہ آپ کو سلامت رکھے ، کہ آپ کی ذات سے ہی میر ے
برتے ہوئے لفظوں کی سند ملتی ہے ، مالک و مولی سدا شاد رکھے ، والسلام
فقط عاقبت نا اندیش
م م مغل
مغزل — مئی 13، 2009 7:43 صبح
شکریہ مغل صاحب۔
آج دل نے پھر چاہ کہ یہ ہجو پڑھوں سو دوبارہ پڑھا، سو ایکبار پھر داد قبول فرمائیے گا۔ شکریہ

بہت بہت شکریہ ایم راجہ صاحب ، سدا سلامت رہیں،
حوصلہ افزائی کوممنون ہوں ، اللہ آپ کو صحت و سلامتی عطا فرمائے (اٰمین)
مغزل — مئی 15، 2009 12:05 شام
شکریہ بابا جانی،
مغزل — مئی 15، 2009 12:14 شام
ابنِ حسن،جیا راؤ، خورشید آزاد، اور کاشف مجید آپ کا بہت بہت شکریہ
عمران شناور — مئی 16، 2009 5:56 صبح
ارے واہ! اگر یہ رات کی توفیق ہے تو دن میں کیا ہوگا!
بہت خوب م م مغل! اسی طرح‌ غصے میں رہا کریں۔
شکریہ!
آپ کا کلام پڑھ کر ایک گانا یاد آگیا۔
’کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے‘
جیا راؤ — مئی 16، 2009 3:42 شام
کنجِ محرومی سے نکلو کسی جنگل کی طرف
خاک در خاک پڑے شہرِ ستمگار پہ خاک

بہت اچھا کہا۔۔۔ !
ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔۔۔:)
مغزل — مئی 18، 2009 6:56 صبح
ارے واہ! اگر یہ رات کی توفیق ہے تو دن میں کیا ہوگا!
بہت خوب م م مغل! اسی طرح‌ غصے میں رہا کریں۔
شکریہ!
آپ کا کلام پڑھ کر ایک گانا یاد آگیا۔
’کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے‘

بہت شکریہ شناور صاحب، حوصلہ افزائی کو ممنون ہوں ، سدا خوش رہیں جناب
محسن حجازی — مئی 18، 2009 9:12 صبح
بہت ہی اچھے مغل صاحب!
کیا کہنے!
حسب حال۔ ہم خود خاک در خاک ہیں سو مفصل تبصرے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔
مغزل — مئی 18، 2009 9:16 صبح
کنجِ محرومی سے نکلو کسی جنگل کی طرف
خاک در خاک پڑے شہرِ ستمگار پہ خاک

بہت اچھا کہا۔۔۔ !
ڈھیروں داد قبول فرمائیے۔۔۔:)

بہت بہت شکریہ جیا ، سدا خوش رہیں حوصلہ افزائی کو ممنون ہوں۔
مغزل — جولائی 8، 2009 12:47 شام
بہت ہی اچھے مغل صاحب!
کیا کہنے!
حسب حال۔ ہم خود خاک در خاک ہیں سو مفصل تبصرے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔

بہت بہت شکریہ ، حجازی صاحب،
چلیے اسی بہانے آپ کی آمد تو ہوئی۔
آ پ کے تبصرے کا انتظار ہے جناب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D8%A7%DA%A9-%D8%AF%D8%B1-%D8%AE%D8%A7%DA%A9-%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%DB%81%D8%AC%D8%B1%D8%AA-%D9%88-%D8%A7%DB%8C%D8%AB%D8%A7%D8%B1-%D9%BE%DB%81-%D8%AE%D8%A7%DA%A9-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DB%81%D8%AC%D9%88.21555/page-2