خدا پتھر کا ہو عاطف تو ہم سجدہ نہیں کرتے

عاطف ملک — فروری 28، 2017 11:13 صبح
استادِ محترم جناب الف عین کی اصلاح کے بعد اور ان کی تجویز پر(جو میرے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے) یہ غزل پیشِ نظر ہے۔
جو دل کو جوڑتے ہیں ان کو غم تنہا نہیں کرتے
اگر جذبہ ہو صادق، درد آزردہ نہیں کرتے
خلوصِ دل کو دولت سے کبھی تولا نہیں جاتا
کسوٹی پر انا کی پیار کو پرکھا نہیں کرتے
نہاں خانوں میں اس دل کے بسائی تھی تِری صورت
دریچے دل کے وہ خود پر بھی ہم اب وا نہیں کرتے
جدا ہوں تم سے اور خوش بھی رہیں یہ عین ممکن ہے
مگر دل میں ہے جانے کیا کہ ہم ایسا نہیں کرتے
تڑپ کر آہ بھرتے ہیں، لہو کے گھونٹ پیتے ہیں
مگر ان کی جفاؤں کا کہیں چرچا نہیں کرتے
مقامِ سرکشی ہے یہ، جھکائیں سر کو پھر کیونکر
خدا پتھر کا ہو عاطف تو ہم سجدہ نہیں کرتے
لئیق احمد — فروری 28، 2017 11:21 صبح
جدا ہوں تم سے اور خوش بھی رہیں یہ عین ممکن ہے
مگر دل میں ہے جانے کیا کہ ہم ایسا نہیں کرتے
بہت خوب
سیدہ نجف فدا — مارچ 9، 2017 9:14 صبح
بہت عمدہ
لاریب مرزا — مارچ 9، 2017 9:45 صبح
خوب!!
عاطف ملک — مارچ 9، 2017 11:57 صبح
بہت بہت ذرہ نوازی ہے آپ کی "سیدہ" کہ آپ نے اس کاوش کو اتنی پذیرائی بخشی۔
اردو محفل فورم میں خوش آمدید۔
بہت شکریہ،بہت نوازش لاریب جی!
ثاقب حسین قاسمی — مارچ 9، 2017 6:50 شام
جدا ہوں تم سے اور خوش بھی رہیں یہ عین ممکن ہے
مگر دل میں ہے جانے کیا کہ ہم ایسا نہیں کرتے

ماشاء اللہ بہت خوب
یوسف سلطان — مارچ 9، 2017 10:08 شام
جو دل کو جوڑتے ہیں ان کو غم تنہا نہیں کرتے
اگر جذبہ ہو صادق، درد آزردہ نہیں کرتے
تڑپ کر آہ بھرتے ہیں، لہو کے گھونٹ پیتے ہیں
مگر ان کی جفاؤں کا کہیں چرچا نہیں کرتے
بہت عمدہ
عاطف ملک — مارچ 10، 2017 12:42 صبح
ماشاء اللہ بہت خوب
نوازش قاسمی صاحب!
محفل میں خوش آمدید۔
بہت شکریہ یوسف سلطان بھائی!
امین عابد — مارچ 10، 2017 1:43 صبح
استادِ محترم جناب الف عین کی اصلاح کے بعد اور ان کی تجویز پر(جو میرے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے) یہ غزل پیشِ نظر ہے۔
جو دل کو جوڑتے ہیں ان کو غم تنہا نہیں کرتے
اگر جذبہ ہو صادق، درد آزردہ نہیں کرتے
خلوصِ دل کو دولت سے کبھی تولا نہیں جاتا
کسوٹی پر انا کی پیار کو پرکھا نہیں کرتے
نہاں خانوں میں اس دل کے بسائی تھی تِری صورت
دریچے دل کے وہ خود پر بھی ہم اب وا نہیں کرتے
جدا ہوں تم سے اور خوش بھی رہیں یہ عین ممکن ہے
مگر دل میں ہے جانے کیا کہ ہم ایسا نہیں کرتے
تڑپ کر آہ بھرتے ہیں، لہو کے گھونٹ پیتے ہیں
مگر ان کی جفاؤں کا کہیں چرچا نہیں کرتے
مقامِ سرکشی ہے یہ، جھکائیں سر کو پھر کیونکر
خدا پتھر کا ہو عاطف تو ہم سجدہ نہیں کرتے
امین عابد — مارچ 10، 2017 1:44 صبح
بہت اعلیٰ
ثاقب حسین قاسمی — مارچ 10، 2017 4:58 صبح
نوازش قاسمی صاحب!
محفل میں خوش آمدید۔
بہت شکریہ یوسف سلطان بھائی!
جزا اللہ محترم عاطف بھائی۔
سیدہ نجف فدا — مارچ 11، 2017 6:47 شام
شکریہ عاطف ملک صاحب
سلامت رہیئے
آورکزئی — مارچ 12، 2017 6:15 صبح
بہت عمدہ جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد عظیم الدین — مارچ 14، 2017 4:30 صبح
تڑپ کر آہ بھرتے ہیں، لہو کے گھونٹ پیتے ہیں
مگر ان کی جفاؤں کا کہیں چرچا نہیں کرتے
کیا کہنے جناب عاطف ملک صاحب ، لطف آگیا۔ واہ
ڈاکٹرعامر شہزاد — مارچ 14، 2017 4:48 صبح
مقامِ سرکشی ہے یہ، جھکائیں سر کو پھر کیونکر
خدا پتھر کا ہو عاطف تو ہم سجدہ نہیں کرتے
بہت ہی خوبصورت اور پیارا کلام ہے ۔ اور آخری شعر تو بس کیا کہنے ۔ لاجواب ۔
ڈھیرووں داد
عاطف ملک — مارچ 14، 2017 5:05 صبح
بہت عمدہ جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوازش!
کیا کہنے جناب عاطف ملک صاحب ، لطف آگیا۔ واہ
بہت شکریہ عظیم بھائی!
بہت ہی خوبصورت اور پیارا کلام ہے ۔ اور آخری شعر تو بس کیا کہنے ۔ لاجواب ۔
ڈھیرووں داد
محبت ہے آپ کی عامر بھائی!
بہت شکریہ۔
نوید ناظم — مارچ 14، 2017 6:28 صبح
جدا ہوں تم سے اور خوش بھی رہیں یہ عین ممکن ہے
مگر دل میں ہے جانے کیا کہ ہم ایسا نہیں کرتے
واہ' خوب ہے جی!!!
محمد تابش صدیقی — مارچ 14، 2017 6:46 صبح
بہت عمدہ جناب۔ حیرت ہے کہ پہلے کمنٹ نہیں کیا۔
اس شعر کی تو کیا ہی بات ہے۔
خلوصِ دل کو دولت سے کبھی تولا نہیں جاتا
کسوٹی پر انا کی پیار کو پرکھا نہیں کرتے
کاشف اسرار احمد — مارچ 15، 2017 12:11 شام
ماشا اللہ۔
کاشف اسرار احمد — مارچ 15، 2017 12:15 شام
۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D8%AF%D8%A7-%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%DB%81%D9%88-%D8%B9%D8%A7%D8%B7%D9%81-%D8%AA%D9%88-%DB%81%D9%85-%D8%B3%D8%AC%D8%AF%DB%81-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%DB%92.95082/