دل نکلتا ہے جان سے آگے

راحیل فاروق — مارچ 28، 2017 10:48 شام
دل نکلتا ہے جان سے آگے
شاہِ من کچھ امان سے آگے
اس کے لطف و کرم کا کیا مذکور
سایہ ہے سائبان سے آگے
آبلہ پا نکل نہ جائیں کہیں
منزلِ بےنشان سے آگے
ٹھیک سمجھا ہوں کائنات کو عشق
حد ہے حدِ گمان سے آگے
کیوں مسافر ٹھہر نہیں جاتا
کچھ تو ہے اس مکان سے آگے
اس کے انجم بھی دیکھ اس کے بھی
ہے زمین آسمان سے آگے
سن کے آئے ہیں مہربان کا نام
چارہ گر مہربان سے آگے
ہجر ہے پھر وصال ہے توبہ
امتحان امتحان سے آگے
سر جھکا کر خموش بیٹھا ہوں
کیا کہوں رازدان سے آگے
تیر دیکھا نہیں گیا راحیلؔ
دل سے پیچھے کمان سے آگے
راحیلؔ فاروق
۲۹ مارچ ؁۲۰۱۷ء
جاسمن — مارچ 29، 2017 2:37 صبح
تیر دیکھا نہیں گیا راحیلؔ
دل سے پیچھے کمان سے آگے
بہت خوب!
دعاوں بھری داد ۔
آصف اثر — مارچ 29، 2017 3:59 صبح
ہے زمین آسمان سے آگے
زمیں؟
کلیم گورمانی — مارچ 29، 2017 5:01 صبح
بہت خوب راحیل صاحب
محمد تابش صدیقی — مارچ 29، 2017 5:23 صبح
بہت خوب راحیل بھائی.
اس کے لطف و کرم کا کیا مذکور
سایہ ہے سائبان سے آگے
آبلہ پا نکل نہ جائیں کہیں
منزلِ بےنشان سے آگے
ٹھیک سمجھا ہوں کائنات کو عشق
حد ہے حدِ گمان سے آگے
اس غزل سے مجھے لاہوری یاد آ گئے.
ان سے جنت کا رستہ پوچھا تو
بولے اونچے مکان سے آگے
محمد تابش صدیقی — مارچ 29، 2017 5:24 صبح
چھوٹی بحور کا مزا ہی الگ ہے.
لئیق احمد — مارچ 29، 2017 5:39 صبح
کیوں مسافر ٹھہر نہیں جاتا
کچھ تو ہے اس مکان سے آگے
ہجر ہے پھر وصال ہے توبہ
امتحان امتحان سے آگے
چھا گئے ہو ایک بار پھر
آپ کی اس غزل کے کیا کہنے
باکمال ہے کمال سے آگے​
ڈاکٹرعامر شہزاد — مارچ 29، 2017 5:47 صبح
اس کے لطف و کرم کا کیا مذکور
سایہ ہے سائبان سے آگے

ہجر ہے پھر وصال ہے توبہ
امتحان امتحان سے آگے
کمال ، لاجواب ، زبردست وغیرہ ۔
بہت ہی لُطف آیا پڑ ھ کے ۔ ہر شعر ہی بے مثال ہے ۔
:great:
محمد ریحان قریشی — مارچ 29، 2017 6:10 صبح
دل نکلتا ہے جان سے آگے
شاہِ من کچھ امان سے آگے
زبردست مطلع اور بہت خوبصورت غزل۔
حسن محمود جماعتی — مارچ 29، 2017 6:40 صبح
قبلہ کچھ مزہ نہیں آیا.
عاطف ملک — مارچ 29، 2017 6:55 صبح
اس کے انجم بھی دیکھ اس کے بھی
ہے زمین آسمان سے آگے
دل جھوم اٹھا۔۔۔کیا خیال ہے۔۔۔واہ
ہجر ہے پھر وصال ہے توبہ
امتحان امتحان سے آگے
یہ آپ کے امتحانات کا اثر ہے :D
تیر دیکھا نہیں گیا راحیلؔ
دل سے پیچھے کمان سے آگے
خوبصورت
ٹھیک سمجھا ہوں کائنات کو عشق
حد ہے حدِ گمان سے
کیا کہنے جناب۔۔۔۔۔۔بہت ہی اعلیٰ بھیا!
ہر شعر قابلِ تعریف ہے
اور شاعر لائقِ ہمدردی :p
راحیل فاروق — مارچ 29، 2017 10:28 شام
بہت خوب!
دعاوں بھری داد ۔
بےحد شکریہ۔ داد دعاؤں بھری نہ ہو تو بےفائدہ ہے۔
بھائی، نونِ غنہ دانستہ اختیار نہیں کیا۔ آگے آسمان میں نون کا اعلان ہے اس لیے زمین میں بھی برقرار رکھا۔
بہت خوب راحیل صاحب
جزاک اللہ، گورمانی صاحب۔ اردومحفل پر خوش آمدید!
بہت خوب راحیل بھائی.
اس غزل سے مجھے لاہوری یاد آ گئے.
ان سے جنت کا رستہ پوچھا تو
بولے اونچے مکان سے آگے
آپ کی محبت، بھیا۔
شعر غضب کا نکالا ہے آپ نے۔ اہلِ لاہور کو چاہیے اسے مینارِ پاکستان کے صدر دروازے پر کندہ کروائیں!
چھوٹی بحور کا مزا ہی الگ ہے.
یادش بخیر، ہمارے ایک دوست اس بحر کو "نکی پتریر" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ہماری زبان میں اس کا مطلب ہے چھوٹی عم زاد۔ اب لگاؤ اور لطف کا اندازہ آپ خود ہی لگائیے!
چھا گئے ہو ایک بار پھر
آپ کی اس غزل کے کیا کہنے
باکمال ہے کمال سے آگے​
بڑی عنایت، لئیق بھائی۔
آپ تو آدھے شاعر ہو بھی گئے۔ ترنم میں ایک آدھ غزل تیار کر لیں۔ میں جلد آپ کے سر پر سوار ہونے والا ہوں!
کمال ، لاجواب ، زبردست وغیرہ ۔
بہت ہی لُطف آیا پڑ ھ کے ۔ ہر شعر ہی بے مثال ہے ۔
:great:
شاعروں کو حبیبِ عنبر دست نصیب ہوتے آئے ہیں۔ آپ کی گل کاریاں دیکھ کر اپنے پہ رشک آتا ہے کہ ہمیں طبیبِ عنبر دست میسر آیا ہے۔
زبردست مطلع اور بہت خوبصورت غزل۔
شکریہ۔ مطلع پر تمھاری سند سند رہی۔
قبلہ کچھ مزہ نہیں آیا.
حضور، اپنی آواز میں ریکارڈ کر کے سنیے۔ پھر بھی مزا نہ آئے تو بتائیے گا۔ اس لڑی کو رپورٹ کر دیں گے۔
دل جھوم اٹھا۔۔۔کیا خیال ہے۔۔۔واہ
یہ آپ کے امتحانات کا اثر ہے :D
خوبصورت
کیا کہنے جناب۔۔۔۔۔۔بہت ہی اعلیٰ بھیا!
ہر شعر قابلِ تعریف ہے
اور شاعر لائقِ ہمدردی :p
بہت شکریہ، چھوٹے مسیحا۔
سردردی!
ڈاکٹرعامر شہزاد — مارچ 30، 2017 6:13 صبح
شاعروں کو حبیبِ عنبر دست نصیب ہوتے آئے ہیں۔ آپ کی گل کاریاں دیکھ کر اپنے پہ رشک آتا ہے کہ ہمیں طبیبِ عنبر دست میسر آیا ہے
میرے کولوں قسم چُکا لو جے مینوں سمجھ آئی ہووے :)
محمد وارث — مارچ 30، 2017 6:21 صبح
میرے کولوں قسم چُکا لو جے مینوں سمجھ آئی ہووے :)
اتنا مشکل تو نہیں ڈاکٹر صاحب: وہ جو سارے ڈاکٹر مریضوں کے دیکھنے کے بعد خوشبو دار صابن سے ہاتھ دھوتے ہیں اُس طرف اشارہ ہے :LOL:
ڈاکٹرعامر شہزاد — مارچ 30، 2017 6:28 صبح
اتنا مشکل تو نہیں ڈاکٹر صاحب: وہ جو سارے ڈاکٹر مریضوں کے دیکھنے کے بعد خوشبو دار صابن سے ہاتھ دھوتے ہیں اُس طرف اشارہ ہے :LOL:
ہم تو ہاتھ دھوتے کہاں ہیں ۔ اب تو صرف سینیٹائزر استعمال کرتے ہیں ۔:D
محمد وارث — مارچ 30، 2017 6:30 صبح
ہم تو ہاتھ دھوتے کہاں ہیں ۔ اب تو صرف سینیٹائزر استعمال کرتے ہیں ۔:D
مطلب وہ محاورہ اب بدل دیں کہ "ڈاکٹر مریضوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں"۔؟ ")
ڈاکٹرعامر شہزاد — مارچ 30، 2017 6:31 صبح
مطلب وہ محاورہ اب بدل دیں کہ "ڈاکٹر مریضوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں"۔؟ ")
ڈاکٹر کسی کمپنی میں جاب کرتا ہو تو یہ فقرہ اُلٹ دیں ۔:)
محمد وارث — مارچ 30، 2017 6:33 صبح
ڈاکٹر کسی کمپنی میں جاب کرتا ہو تو یہ فقرہ اُلٹ دیں ۔:)
مطلب کمپنی والے ڈاکٹر کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں :)
ڈاکٹرعامر شہزاد — مارچ 30، 2017 6:42 صبح
مطلب کمپنی والے ڈاکٹر کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں :)
بس یہی سمجھ لیں ۔:shut-mouth:
لئیق احمد — مارچ 30، 2017 6:46 صبح
آپ تو آدھے شاعر ہو بھی گئے۔ ترنم میں ایک آدھ غزل تیار کر لیں۔ میں جلد آپ کے سر پر سوار ہونے والا ہوں!
ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AF%D9%84-%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%AC%D8%A7%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D8%A2%DA%AF%DB%92.95526/