دوا اور زہر میں سوائے نیت (intention) کے کوئی فرق نہیں ہوتا. اس لحاظ سے پہلا شعر یہ بھی بتا رہا ہے کہ جس سے علاج کرانے گئے تھے ان کی نیت پر شک بھی کررہے ہیں. آج کل ڈاکٹر ویسے بھی فارما کمپنیوں سے رشوت لے کر دوائیں لکھنے کے باعث بدنام ہیں
دوسرے شعر سے لگتا ہے گندے ہاتھوں کے باعث انفیکشن ہوگیا اور بھرتے زخم گلاب بن گئے (کھل گئے)
رنگ حنا کی تیزی سے یہاں ڈاکٹر شاعر کی مراد خون میں پھیلنے والا سیپسس (sepsis) ہے
اسی لیے کہتے ہیں ہاتھ دھو کر مریض کو ہاتھ لگاؤ
تابش بھائی سجی سجائی بلوچن نہیں بلکہ پکی پکائی سجی کی بات کررہے ہیں ۔ آپ کو پتہ نہیں کیا کیا دکھائی دیتا ہے ۔
آپ احمد بھائی والی قرأتی عینک لگا کر دیکھا کریں ۔ ہر چیز پاک صاف نظر آئے گی ۔
پتا ہے میری ایک تحریر ہے۔ "شیطان سے ملاقات" کبھی عوامی سطح پر پیش کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ایک آدھا حصہ اپنے فیس بک پر لگایا تھا۔ تو یار لوگوں نے سمجھا کہ کافر ہوا چاہتا ہوں۔۔۔ پھر خاموش ہی ہوگیا۔۔۔ یوں بھی جان بچانا فرض ہے۔۔۔ ادھر تو سارا "۔۔۔۔۔" مسلمان ہوا پھرتا ہے۔
بہت عمدہ محترم برادرم ظہیر ۔۔ ویسے تو پوری غزل لاجواب ہے ، تاہم شعر مرقوم بالا چونکہ مابدولت کے ہی دل کی کیفیت بیان کرتی ہے ، یعنی بلا کی تیزی ( بوجۂ عارضۂ بلند فشار خون و بے ترتیبیء حرکت قلب المعروف اختلاج قلب ) ، چنانچہ زیادہ پسند آئی !
تابش بھائی سجی سجائی بلوچن نہیں بلکہ پکی پکائی سجی کی بات کررہے ہیں ۔ آپ کو پتہ نہیں کیا کیا دکھائی دیتا ہے ۔
آپ احمد بھائی والی قرأتی عینک لگا کر دیکھا کریں ۔ ہر چیز پاک صاف نظر آئے گی ۔