زہے نصیب ظہیر بھائی کہ آپ ایک عرصے بعد محفل میں تشریف لائے۔
واہ واہ!! بہت خوب! بہت اچھے اشعار ہیں احمد بھائی !
کیا بات ہے ہے طبیعت میں روانی کی! یعنی رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور!
ردیف کی معنویت کو کئی اشعار میں اچھی طرح استعمال کیا ہے آپ نے ۔ بہت داد!
کیا بات ہے ! اچھے اشعار ہیں !
بہت شکریہ! آپ کی رائے میرے لئے باعثِ حوصلہ ہے۔
احمد بھائی ، ایک دو باتیں بطور نقد و نظر کہنا چاہوں گا کہ اتنی اچھی غزلوں میں چھوٹے سے معائب بھی کھٹکتے ہیں ۔ ایک بات تو یہ کہ جب طبیعت رواں ہو اور زمین زرخیز ہو تو اشعار کی فراوانی ایک فطری سی بات ہے ۔ ایسی صورت میں معیار کو مقدار پر ترجیح دینا اور ضروی ہوجاتا ہے ۔ وجہ یہ کہ معمولی اشعار کی شمولیت سے اچھے اشعار کی چمک دمک ماند پڑجاتی ہے ، وہ انبار میں دب جاتے ہیں ۔ آپ کی اس غزل کی وساطت سے اپنے تجربے کی یہ ایک عام بات بیان کی ہے ۔
یہ بہت اچھی بات ہے اور نکتے کی بات ہے ۔
یعنی غزل میں زیادہ اشعار ہو جائیں تو معیار کو ذرا اونچا کرکےمزید کانٹ چھانٹ کر دینا چاہیے۔
خُلق، شستہ زباں ، شگفتہ لوگ
یاد ماضی کی چھوڑیے صاحب!
اس شعر میں خلق کی جگہ خلیق کا محل ہے ۔ میری ناقص رائے میں خلق کی جگہ "نرم" بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
اس شعر میں میں نے یہ تین الگ الگ چیزیں بیان کی ہیں اور یہ کہ پہلے دو ٹکڑے "شگفتہ لوگ " کی صفات نہیں ہیں۔
یعنی، خلق (اچھے اخلاق)، شستہ زبان (اچھی زبان ) اور شگفتہ لوگ، یہ سب چیزیں اب ماضی کی باتیں ہو گئیں ہیں۔
تاہم آپ کے بتانے سے سمجھ آتا ہے کہ لوگ اسے اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جیسا آپ نے سمجھا۔
شہر صحرا کو کھا گیا جب سے
دشت صحرا میں کب رہے صاحب
دشت اور صحرا تو ایک ہی بات ہے احمد بھائی ، دونوں ہم معنی ہیں ۔
کہنا یہ چاہا تھا کہ اب شہر اس قدر پھیل گئے کہ دشت بھی آباد ہو گئے ہیں۔سو دشت ظاہری اعتبار سے دشت نہیں رہے ۔ لیکن معنوی اعتبار سے دشت اپنی صفات سمیت شہر میں ہی چلے آئے ہیں۔ لیکن چونکہ آپ ایسا سخن فہم بھی اس بات کو اس طرح نہیں سمجھ پایا تو یقینا یہ شعر مہمل ہوا۔ اور ابلاغ کا حق ادا نہیں ہو سکا۔
کس قدر ماند پڑ گئی تصویر
ڈائری میں دھرے دھرے صاحب
یہاں دھرے دھرے کی جگہ رکھے رکھے کا محل ہے ۔ کسی شے کو عموماً کسی سطح پر دھرا جاتا ہے جبکہ تصویر ڈائری کے اندر رکھی جاتی ہے ۔
یہ بات میرے علم میں نہیں تھی۔ نشاندہی کا بے حد شکریہ
احمد بھائی ، اگر کوئی بات گراں گزری ہو تو معذرت چاہتا ہوں ۔ ویسے آپ سے ایسی کوئی توقع تو نہیں ہے لیکن آج کل یہ جملۂ ڈِسکلیمیہ ہر تبصرے کے آخر میں کہنا پڑتا ہے ۔ (ہیلمٹ والا شتونگڑہ تین عدد)
محترم بھائی کیوں اس خاکسار کو گناہگار کرتے ہیں ۔ میرے لئے آپ کو اس طرح کے ڈسکلیمر کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔
تفصیلی تبصرے کے لئے بے حد ممنون ہوں۔
