ماشا٫اللہ، احمد صاحب۔
کیا خوب صورت دو غزلہ ہے، کیا خوب صورت اشعار ہیں۔
اِن میں سے بعض تو ہمیں ہماری ہی کیفیات کے ترجمان معلوم ہوئے اور بعض کا رنگ ڈھنگ بہت بھایا:
اس نے 'کاہل 'کہا محبت سے
ہنس دیئے ہم پڑے پڑے صاحب
گرم چائے، کتاب، تنہائی
اور ہوتے ہیں کیا مزے صاحب
اُس نے دیکھا نہ پھر کسی کو بھی
جس کو دیکھا تھا آپ نے صاحب
کیا کہوں کیسا حال ہے صاحب
کوئی آئے ،گلے ملے صاحب
سانس لیتا ہوں، تن سلامت ہے
دل کا احوال چھوڑیے صاحب
کل سنائی ہے نظم "تنہائی"
دوستوں میں گھرے ہوئے صاحب
کیا عجب ہے، مری گلی والے
جانتے ہی نہیں مجھے صاحب!
ایک دن اُس نے الوداع کہا
اور ہم دیکھتے رہے صاحب
میں نے جا کر کہا کہ احمد ہوں
اس نے پوچھا کہ" کون سے؟" صاحب
یہ آخری شعر بہت پرلطف ہے (یوں تو سبھی ہیں)۔
ہماری طرف سے داد، دعائیں، آداب قبول فرمائیں۔
ویسے ہمارے نام میں بھی احمد ہے۔
لیکن ہم کسی سے نہیں کہتے ہم احمد ہیں، ہمیشہ پورا نام لیتے ہیں، اس سے الجھن کم ہوتی ہے، آپ بھی یہی کیا کریں لیکن ہم مذاق کر رہے ہیں، آپ بہتر جانتے ہیں کیا کرنا چاہیے
