عبدالرزاق قادری — نومبر 26، 2012 4:01 شام
واہ جی واہ جذبات کا امڈتا ہو سمندر بے کراں
عاطف بٹ — نومبر 26، 2012 4:03 شام
واہ جی واہ جذبات کا امڈتا ہو سمندر بے کراں
بہت شکریہ قادری صاحب
مقدس — نومبر 26، 2012 4:07 شام
ہائے کس کا انتظار عاطف بھیا
مجھے تو نیند آ جاتی ہے ہی ہی ہی اگر زیادہ انتظار کرنا پڑے تو
عبدالرزاق قادری — نومبر 26، 2012 4:10 شام
موضوع سے باہر کی بات ہے۔ میں اس شعر سے بہت محظوظ ہوا ہوں
سب ہمیں باکمال کہتے ہیں
اس کو قحط الرجال کہتے ہیں
عاطف بٹ — نومبر 26، 2012 4:42 شام
ہائے کس کا انتظار عاطف بھیا
مجھے تو نیند آ جاتی ہے ہی ہی ہی اگر زیادہ انتظار کرنا پڑے تو
مجھے بھی نیند آگئی تھی مگر باہر دیکھا تو اس وقت دن طلوع ہورہا تھا۔

نیلم — نومبر 26، 2012 4:46 شام
بےوفائی رہی شعار اس کا
میں فقط اعتبار کرتا رہا
چھپ کے دشمن کے بھیس میں وہ رذیل
دوستوں پر ہی وار کرتا رہا
زبردست
عاطف بٹ — نومبر 26، 2012 4:48 شام
بےوفائی رہی شعار اس کا
میں فقط اعتبار کرتا رہا
چھپ کے دشمن کے بھیس میں وہ رذیل
دوستوں پر ہی وار کرتا رہا
زبردست
بہت شکریہ نیلم
فاتح — نومبر 26، 2012 7:06 شام
خوب ہے۔
تعبیر — نومبر 26، 2012 8:33 شام

آپ شاعری بھی کرتے ہیں
بہت خوب



یہ کس نے آپ پر اتنے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں بھیا!
مجھے بتائیں میں پھینٹی لگاتی ہوں
ڈیٹو
مجھے بھی یہی کہنا تھا

عاطف بٹ — نومبر 26، 2012 8:41 شام
عاطف بٹ — نومبر 26، 2012 8:42 شام

آپ شاعری بھی کرتے ہیں
بہت خوب



ڈیٹو
مجھے بھی یہی کہنا تھا
اب آپ بھی یہ پوچھیں گی؟

تعبیر — نومبر 26، 2012 8:42 شام
اب آپ بھی یہ پوچھیں گی؟
ہاں نا کیوں نہیں
اس دشمن کا تو پتہ ہو نا چاہیے

عاطف بٹ — نومبر 26، 2012 8:54 شام
ہاں نا کیوں نہیں
اس دشمن کا تو پتہ ہو نا چاہیے
وہ دشمن عزیز از جان ہے، سو اس کا تو کوئی علاج بھی نہیں کیا جاسکتا!

تعبیر — نومبر 26، 2012 8:58 شام
وہ دشمن عزیز از جان ہے، سو اس کا تو کوئی علاج بھی نہیں کیا جاسکتا!
پھر آپ اپنا علاج کر وا لیں

اب مجھے مار پڑنی ہے کہ کیوں تھریڈ خراب کر رہی ہوں
اس لیے میں تو چلی یہاں سے

مقدس — نومبر 26، 2012 9:22 شام
مجھے بھی نیند آگئی تھی مگر باہر دیکھا تو اس وقت دن طلوع ہورہا تھا۔
آدھا جواب دیا۔۔ انتظار کس کا کر رہے تھے اب یہ نہ کہیے گا کہ نیند کا
زبیر مرزا — نومبر 26، 2012 10:48 شام
واہ جناب زبردست بلیک کافی کی طرح اسٹرونگ اور سرور لیے ہوئے ہے آپ کی غزل
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 27، 2012 2:12 صبح
بےوفائی رہی شعار اس کا
میں فقط اعتبار کرتا رہا
میں بچاتا رہا ردائے عشق
وہ اسے تار تار کرتا رہا
بہت خوب۔ داد قبول کیجیے جناب
یوسف-2 — نومبر 27، 2012 4:03 صبح
میرا آنگن رہا سدا تاریک
اس کا روشن دیار کرتا رہا
میں بچاتا رہا ردائے عشق
وہ اسے تار تار کرتا رہا
عاطف بٹ صاحب! اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

بہت خوب اور

محمد وارث — نومبر 27، 2012 5:56 صبح
خوب ہے جناب
محمد بلال اعظم — نومبر 27، 2012 8:23 صبح
خوب ہے جی۔
داد قبول کریں۔
زبردست لکھی ہے۔