ناعمہ عزیز — نومبر 27، 2012 3:58 شام
مقدس — نومبر 27، 2012 3:58 شام
اسی لئے میں نے آج دفتر میں رہنے کا پروگرام بنایا ہے۔
بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی بھیا جی

عاطف بٹ — نومبر 27، 2012 3:59 شام
بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی بھیا جی
یہ محاورہ بکرے کی ماں کے بارے میں ہے اور میں بکرے کا باپ ہوں!

مقدس — نومبر 27، 2012 4:01 شام
یہ محاورہ بکرے کی ماں کے بارے میں ہے اور میں بکرے کا باپ ہوں!
بھیا جی! اب بچنے کی کوئی تدبیر نہیں۔۔ اس لیے بات کو نہیں ٹالیں۔۔

عاطف بٹ — نومبر 27، 2012 4:02 شام
بھیا جی! اب بچنے کی کوئی تدبیر نہیں۔۔ اس لیے بات کو نہیں ٹالیں۔۔
میں تو دنیا کا شریف ترین اور معصوم ترین انسان ہوں، جس نے کبھی کوئی غلط بات کی ہی نہیں۔

مقدس — نومبر 27، 2012 4:03 شام
میں تو دنیا کا شریف ترین اور معصوم ترین انسان ہوں، جس نے کبھی کوئی غلط بات کی ہی نہیں۔
یہ تو میں بھابھی سے پوچھوں گی بچُو
عاطف بٹ — نومبر 27، 2012 4:05 شام
یہ تو میں بھابھی سے پوچھوں گی بچُو
نندیا کو بلاتا ہوں ابھی، اس سے پوچھ لو!

مقدس — نومبر 27، 2012 4:06 شام
نندیا کو بلاتا ہوں ابھی، اس سے پوچھ لو!
نندیا سے تو بھابھی نے پوچھنا ہے بھیا

عاطف بٹ — نومبر 27، 2012 4:54 شام
نندیا سے تو بھابھی نے پوچھنا ہے بھیا
ہیں؟؟؟ کوئی اپنے آپ سے کیسے کچھ پوچھ سکتا ہے بھلا؟

الف عین — نومبر 27، 2012 5:04 شام
ماشاء اللہ اچھی گزل ُ ہے عاطف۔
مقدس — نومبر 27، 2012 5:25 شام
ہیں؟؟؟ کوئی اپنے آپ سے کیسے کچھ پوچھ سکتا ہے بھلا؟
بھابھی نمبر ایک، بھابھی نمبر دو سے پوچھیں گی
اسامہ جمشید — نومبر 30، 2012 5:41 صبح
بهت خوب