رسم کارو کاری پر سندھ کی ہوا چپ ہے

F@rzana — فروری 25، 2007 6:01 شام
[align=center]رسم کارو کاری پر سندھ کی ہوا چپ ہے
لڑکیوں کو حیرت ہے کیوں مرا خدا چپ ہے
چاندنی کی لہروں میں کس قدر ہے نیلاہٹ
چار سو اداسی ہے چاند کا دیا چپ ہے
پیاس اپنے سائیں کی کس طرح بجھاؤں گی
ہے کنوئیں پہ ویرانی گھر میں بھی گھڑا چپ ہے
تم نے کیوں سنائی تھی ہیر مجھ کو وارث کی
جانتے ہو اس دن سے میری ہر دعا چپ ہے
شوخیاں برستی تھیں جس کی پیاری آنکھوں سے
وہ شریر لڑکی بھی آج کیا ہوا چپ ہے
کس کی معرفت نیناں میں اسے بلاؤں اب
لے کے میرا سندیسہ جو ادھر گیا چپ ہے
[/align]
عمر سیف — فروری 25، 2007 6:09 شام
تم نے کیوں سنائی تھی ہیر مجھ کو باہو کی
جانتے ہو اس دن سے میری ہر دعا چپ ہے

واہ بہت خوب۔
قیصرانی — فروری 25، 2007 6:13 شام
بہت خوب فرزانہ صاحبہ :)
دوست — فروری 25، 2007 6:26 شام
:roll:
اچھے احساسات ہیں۔
حجاب — فروری 25، 2007 6:50 شام
اچھا لکھا ہے فرزانہ ۔
رضوان — فروری 25، 2007 10:48 شام
بہت خوب کہا ہے۔
یہاں تو یہ حال ہے کہ باپ بھائی جھگڑے میں کسی کو مار کر آجاتے ہیں اور گھر آ کر بہن بیٹی کی جان لے لیتے ہیں تاکہ کیس کا رًخ ہی تبدیل ہوجائے۔ مائیں بیچاری کہتی ہیں کہ بیٹیاں تو ہوتی ہی بھائیوں پر جان نچھاور کرنے کے لیے ہیں۔
اگلے جنم موہے بٹیا نا کیجیو
ماوراء — فروری 25، 2007 10:59 شام
چاندنی کی لہروں میں کس قدر ہے نیلاہٹ
چار سو اداسی ہے چاند کا دیا چپ ہے
بہت خوب نیناں۔
امن ایمان — فروری 27، 2007 10:46 صبح
نیناں زبردست ۔۔۔۔ :( یہ موضوع ایسا ہے کہ اس پر جتنا لکھا جائے۔۔جتنا بولا جائے تھوڑا ہے۔۔۔ نیناں میں خود حیران ہوتی تھی کہ ایسے وقت میں اللہ تعالی کیوں چپ ہوتے ہیں۔۔۔لیکن پھر مجھے اس کا جواب مل گیا ۔۔۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں اللہ انھیں زندگی کے کسی پر ہی سہی نشانِ عبرت ضرور بنا دیتے ہیں۔
رضوان۔۔>>very true :(
امن ایمان — فروری 27، 2007 11:07 صبح
نیناں آپ کی طرح تو میں خیر کبھی بھی نہیں لکھ سکتی۔۔لیکن جب بھی ایسا کچھ پڑھوں۔۔دل چاہتا ہے کہ کچھ نا کچھ ضرور لکھوں۔۔۔۔۔۔ :(
لڑکی
جانے کیوں اسےسب بے زباں سمجھتے ہیں
لڑکی کو کیوں نہیں زندہ جاں سمجھتے ہیں
وہ تو چپ چاپ روز جیتی روز مرتی ہیں
لوگ دفن ہونے کو موت کا نشاں سمجھتے ہیں
ظالم لوگ رواجوں کی بیڑی سے پابندِسلاسل ہیں
اور بےچارے خود کوموت کا پروانہ رواں سمجھتے ہیں
تقدیر کے فیصلے تو اللہ کی مرضی سے ہوتے ہیں
غرورکے پتلے خود کو مالکِ جسم و جاں سمجھتے ہیں
یہ حسب نسب کے بھوکے سیاہ بخت نصیب جن کے
خون رنگیں شملوں پر لکھا نام اپنا تاباں سمجھتے ہیں
جب آگہی کا درد رگوں میں نشتر بن کے اترنےلگے
اے پیاری زندگی تجھےپھر ہم ایک امتحاں سمجھتے ہیں
امن ایمان
جاویداقبال — فروری 27، 2007 2:06 شام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
تم نے کیوں سنائی تھی ہیر مجھ کو باہو کی
جانتے ہو اس دن سے میری ہر دعا چپ ہے
بہت خوب سسٹرنیناں، واقعی بہت اچھی نظم لکھی ہے۔
بہت خوب سسٹرامن ایمان، آپ نے بھی لڑکی کوبہت اچھے طریقے سے بیان کیاہے۔
تقدیر کے فیصلے تو اللہ کی مرضی سے ہوتے ہیں
غرورکے پتلے خود کو مالکِ جسم و جاں سمجھتے ہیں
والسلام
جاویداقبال
F@rzana — مارچ 8، 2007 2:21 شام
آپ تمام کا شکریہ جنھیں یہ کلام پسند آیا :lol:
موضوع بہت حساس ہے لہذا اس پر تو کافی طویل گفتگو کی جاسکتی ہے،
فی الوقت میں اپنی پیاری سی بہن ‘امن‘ کی ستائش کرنا چاہتی ہوں جن کے پاس اپنے دل کی آواز کو الفاظ میں بیان کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے،بہت اچھا لکھا ہے
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ 8)
امن ایمان — مارچ 8، 2007 6:07 شام
نیناں۔۔۔۔ :oops:
بہت شکریہ۔۔۔سچی سمجھ ہی نہیں آرہا کہ اور کیا لکھوں۔ :(
الف عین — مارچ 9، 2007 5:25 صبح
For a change خوشی ہوئی کہ فرزانہ نے اردو تحریر میں یہ پوسٹ کی ورنہ ادھر تو مار تصویریں لگا رہی تھیں اور ان کو اپنی اردو شاعری کہہ رہی تھیں!! اور جو میرے پاس کھلتی ہی نہیں تھیں۔ یہی حال ان کے بلاگ کا ہے۔۔ بھئ شاعری ویسے ہی تمھاری خوب صورت ہے، اسے بناؤ سنگھار کی ضرورت نہیں۔ سمجھیں!! مزید یہ کہ اس کو ڈانٹ مت سمجھنا، نیک مشورہ دے رہا ہوں۔
سیدہ شگفتہ — مارچ 9، 2007 2:14 شام
یہاں کتنے تھریڈز رہ جاتے ہیں اور میں دیکھ نہیں پاتی، فرزانہ آپ نے اداس کر دیا اور امن آپ نے بھی !
F@rzana — مارچ 11، 2007 2:01 صبح
اعجاز اختر نے کہا:
For a change خوشی ہوئی کہ فرزانہ نے اردو تحریر میں یہ پوسٹ کی ورنہ ادھر تو مار تصویریں لگا رہی تھیں اور ان کو اپنی اردو شاعری کہہ رہی تھیں!! اور جو میرے پاس کھلتی ہی نہیں تھیں۔ یہی حال ان کے بلاگ کا ہے۔۔ بھئ شاعری ویسے ہی تمھاری خوب صورت ہے، اسے بناؤ سنگھار کی ضرورت نہیں۔ سمجھیں!! مزید یہ کہ اس کو ڈانٹ مت سمجھنا، نیک مشورہ دے رہا ہوں۔

ہاہاہا‘‘مار تصویریں لگانا‘‘
واہ بابا جانی آپ کی بات تو مسکراہٹ دے گئی اور آپ ہیں کہ صفائی بھی پیش کر گئے، اگر ڈانٹ بھی دیں تو کیا ہوا، جو رتبہ دیا ہے اس کے تحت آپ کو حق تو ہے۔
آئندہ کوشش کروں گی کہ تصاویر کا سلسلہ کم کردوں، اصل میں آرٹ اینڈ کرافٹ کی کشش اپنی طرف بلاتی ہے نا(خود بھی بناتی ہوں پر کسی کو ابھی تک دکھائی نہیں ہیں) اس لیئے شاعری کو Illustration کے ساتھ لگانا اچھا لگتا ہے۔
8)
F@rzana — مارچ 11، 2007 2:03 صبح
سیدہ شگفتہ نے کہا:
یہاں کتنے تھریڈز رہ جاتے ہیں اور میں دیکھ نہیں پاتی، فرزانہ آپ نے اداس کر دیا اور امن آپ نے بھی !

سوری یار :(
میرا مقصد ایسا نہیں تھا، لیکن بات تو اس سے بھی زیادہ گمبھیر ہے نا شگفتہ چندا۔۔۔!!!
سیدہ شگفتہ — مارچ 11، 2007 2:25 صبح
یہی بات تو دکھ دیتی ہے فرزانہ !
F@rzana — مارچ 11، 2007 2:28 صبح
پتہ ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اس موضوع پر مت چھیڑیں :roll:
تیشہ — مارچ 11، 2007 2:22 شام
اعجاز اختر نے کہا:
For a change خوشی ہوئی کہ فرزانہ نے اردو تحریر میں یہ پوسٹ کی ورنہ ادھر تو مار تصویریں لگا رہی تھیں اور ان کو اپنی اردو شاعری کہہ رہی تھیں!! اور جو میرے پاس کھلتی ہی نہیں تھیں۔ یہی حال ان کے بلاگ کا ہے۔۔ بھئ شاعری ویسے ہی تمھاری خوب صورت ہے، اسے بناؤ سنگھار کی ضرورت نہیں۔ سمجھیں!! مزید یہ کہ اس کو ڈانٹ مت سمجھنا، نیک مشورہ دے رہا ہوں۔

http://360.yahoo.com/profile-7W.U0e83erQr5sq6Rw3Dft0lV0A-?inv=y6XB5YRgLg--&r=
انکل آپ فرزانہ کے اس بلاگ پر شاعری پڑھ سکتے ہیں یہاں تو آپکے پاس کھل نہیں رہی ۔
F@rzana — مئی 22، 2007 2:42 صبح
بابا جانی ۔۔۔۔آپ کی یہ پیار بھری ڈانٹ سر آنکھوں پر، اصل میں تصاویر کا کچھ یوں ہے۔۔۔
کہ اس طرح ذرا میں اپنے فوٹو شاپ کے کام کو سدھارتی اور چیک کرتی رہتی ہوں۔۔۔۔۔
اس لئے تصویری شکل میں شاعری کو تختہ مشق بنا رکھا ہے۔
8)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%D8%B3%D9%85-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%D8%B1-%D8%B3%D9%86%D8%AF%DA%BE-%DA%A9%DB%8C-%DB%81%D9%88%D8%A7-%DA%86%D9%BE-%DB%81%DB%92.5839/