زیرِ بامِ گنبدِ خضرا اذاں؟

ذوالفقار نقوی — دسمبر 8، 2013 1:56 شام
غزل
زیرِ بامِ گنبدِ خضرا اذاں ؟
وہ بلالی صوت، وہ سامع کہاں
کھوجتا ہے اَن گنت مسجود میں
قل ھو اللہ احد کا سائباں
بت تراشی چار سو ہے جلوہ گر
دے گئی سب کی جبینوں کو نشاں
یاسیت نے کرب کے در وا کئے
خشک امیدوں کا گلشن ہے یہاں
تو رہین ِ ِ خانہ ہائے اضطراب
اٹھ رہا ہے تیرے چلمن سے دھواں
ظلمتیں سایہ فگن ہیں ہر طرف
بام و در پر رقص میں نو میدیاں
رُک ذرا ، پڑھ کلمہء لا تقنطو
خود بخود روزن کھلیں گے درمیاں
حوصلوں کے پھر سے اُگ آئیں گے پر
عزم ِ محکم کو بنا لے سائباں
ذوالفقار نقوی
ذوالفقار نقوی — دسمبر 9، 2013 3:25 صبح
کیا احباب تصویری شکل میں یہ غزل دیکھ پا رہے ہیں؟
محمد اسامہ سَرسَری — دسمبر 9، 2013 3:54 صبح
کیا احباب تصویری شکل میں یہ غزل دیکھ پا رہے ہیں؟
ماشاءاللہ بہت اچھی غزل ہے۔
بہت سی داد قبول فرمائیے۔
اگر اسے لکھ بھی لیں تو بہت مناسب رہے گا۔ ٹکسٹ کے فوائد زیادہ ہیں۔
ذوالفقار نقوی — دسمبر 9، 2013 4:10 صبح
جی حضور۔حکم کی تعمیل کرتا ہوں۔ شکریہ
محمد اسامہ سَرسَری — دسمبر 9، 2013 4:26 صبح
جی حضور۔حکم کی تعمیل کرتا ہوں۔ شکریہ
یہ حکم نہیں ایک گزارش تھی۔ اللہ خوش رکھے۔
جزاکم اللہ خیرا۔
سید ذیشان — دسمبر 9، 2013 7:37 صبح
بہت خوب!
ذوالفقار نقوی — دسمبر 9، 2013 10:25 صبح
سید ذیشان بھائی۔ بہت شکریہ
قیصرانی — دسمبر 9، 2013 10:27 صبح
جزاک اللہ :)
نومیدیاں سے کیا مراد ہے جناب؟ اردو میں مجھے کافی کچھ نہیں آتا
ذوالفقار نقوی — دسمبر 9، 2013 10:35 صبح
قیصرانی صاحب۔ نا امیدیاں ، کو شعری ضرورت کے تحت نو میدیاں لکھا جا سکتا ہے۔۔۔ غزل کی پسندیدگی کے لئے ممنون ہوں،
قیصرانی — دسمبر 9، 2013 10:36 صبح
قیصرانی صاحب۔ نا امیدیاں ، کو شعری ضرورت کے تحت نو میدیاں لکھا جا سکتا ہے۔۔۔ غزل کی پسندیدگی کے لئے ممنون ہوں،
مجھے بھی یہی گمان ہوا تھا لیکن چونکہ شاعری میرے بس سے بہت اوپر کی چیز ہے اور میں محض پڑھ کر ہی خوش ہو لیتا ہوں، اس لئے وضاحت کے لئے درخواست کر دی :)
سید ذیشان — دسمبر 9، 2013 10:38 صبح
قیصرانی بھائی، فیض صاحب کا شعر دیکھیں:
اور اس صحن میں ہر سو یونہی پہلے کی طرح
فرشِ نومیدیِ دیدار بچھا ہے اب بھی
قیصرانی — دسمبر 9، 2013 10:44 صبح
قیصرانی بھائی، فیض صاحب کا شعر دیکھیں:
اور اس صحن میں ہر سو یونہی پہلے کی طرح
فرشِ نومیدیِ دیدار بچھا ہے اب بھی
معلوماتی اور دوستانہ بھی :)
ابن رضا — دسمبر 9، 2013 11:48 صبح
عمدہ جناب، جوش رہیں
ذوالفقار نقوی — دسمبر 9، 2013 11:57 صبح
ابن رضا صاحب،،، ٹائپو ہے یا واقعاً میرے جوش کو دیکھ کر مجھے مزید پر جوش رہنے کو حکم ہو رہا ہے، ویسے مجھے جوش سے زیادہ ہوش پسند ہے،،،
ابن رضا — دسمبر 9، 2013 11:59 صبح
ابن رضا صاحب،،، ٹائپو ہے یا واقعاً میرے جوش کو دیکھ کر مجھے مزید پر جوش رہنے کو حکم ہو رہا ہے، ویسے مجھے جوش سے زیادہ ہوش پسند ہے،،،
ایک نقطے نے محرم سے مجرم بنا دیا۔
بس جی ٹائپو ہی ہے
ذوالفقار نقوی — دسمبر 9، 2013 12:01 شام
مجھے معلوم تھا ابن رضا صاحب
ذوالفقار نقوی — دسمبر 9، 2013 3:49 شام
ابن سعید بھائی....بہت نوازش
ذوالفقار نقوی — جولائی 29، 2014 6:14 شام
اس غزل پر محمد یعقوب آسی صاحب اور محترم الف عین صاحب نے بات نہیں کی۔ شاید اُنہیں غزل پسند نہیں آئی ۔
ذوالفقار نقوی — جولائی 29، 2014 6:19 شام
ہاں ۔ اب دیکھا تو معلوم ہوا کہ محترم الف عین صاحب نے غزل کو پسند کیا ہے۔ اور مجھے اس بات پر بھی مسرت ہوئی کہ محترم محمد وارث بھائی نے بھی اسے پسند کیا ۔ یقیناً یہ مجھ جیسے کم علم کی حوصلہ افزائی ہے۔
ذوالفقار نقوی — جولائی 29، 2014 6:38 شام
بہت شکریہ سید عاطف علی صاحب
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B2%DB%8C%D8%B1%D9%90-%D8%A8%D8%A7%D9%85%D9%90-%DA%AF%D9%86%D8%A8%D8%AF%D9%90-%D8%AE%D8%B6%D8%B1%D8%A7-%D8%A7%D8%B0%D8%A7%DA%BA%D8%9F.69957/