سلیمان جاذب — اپریل 8، 2009 9:01 صبح
ستارے ہی ستارے دیکھتا ہوں
سفر کے استعارے دیکھتا ہوں
کبھی دیکھوں تلاطم خیز موجیں
کبھی حیراں کنارے دیکھتا ہوں
مقدر کی کہانی پڑھ رہا ہوں
کہاں تیرے اشارے دیکھتا ہوں
کہیں آنسو کہیں پر سسکیاں ہیں
دکھوں کے سب شمارے دیکھتا ہوں
سلگتی آگ ہے شدت کی دل میں
کئی اٹھتے شرارے دیکھتا ہوں
چلے جاتے ہیں جاذب کیوں بچھڑ کر
دل و جاں سے بھی پیارے دیکھتا ہوں
محمد وارث — اپریل 8، 2009 9:20 صبح
اچھی غزل ہے سلیمان جاذب صاحب، بہت خوب!
عمران شناور — اپریل 8، 2009 9:37 صبح
بہت خوب جاذب صاحب!
مغزل — اپریل 8، 2009 10:26 صبح
بہت خوب لاجواب سلیمان صاحب اللہ کرے زورِ قلم مشقِ سخن تیز
فرخ منظور — اپریل 8، 2009 10:42 صبح
بہت اچھی غزل ہے سلیمان جاذب صاحب!
سلیمان جاذب — اپریل 8، 2009 11:17 صبح
پسند کرنے کا بہت شکریہ مغل بھائی
وارث بھائی اور جناب سخنور بھائی
الف عین — اپریل 8، 2009 11:44 صبح
اچھی غزل ہے. مطلع پر فراز ہی یاد آ گئے.
خرم شہزاد خرم — اپریل 8، 2009 11:47 صبح
ارے بھائی عمران بھائی نے بھی پسند کی ہے
بہت خوب سلیمان بھائی بہت اچھی غزل کہی ہے آپ نے بہت خوب اب تو انشاءاللہ جلد ہی کلامِ شاعر بزبانِ شاعر سنوں گا انشاءاللہ
سلیمان جاذب — اپریل 8، 2009 11:53 صبح
کیوں نہیں ہو سکتا ہے منیر نیازی کے یوم پیدائش پر ایک مشاعرہ رکھا جائے کوشش کر رہا ہوں
سلیمان جاذب — اپریل 8، 2009 11:53 صبح
سلیمان جاذب — اپریل 8، 2009 11:54 صبح
اچھی غزل ہے. مطلع پر فراز ہی یاد آ گئے.
بس آپ کی محبت ہے
دوست — اپریل 8، 2009 5:29 شام
واہ جی واہ۔۔ پسند آئی۔
سلیمان جاذب — اپریل 9، 2009 6:44 صبح
ناہید — اپریل 9، 2009 2:36 شام
سلمان صاحب، آپ کا کلام بہت عمدہ ہے۔ مجھے اس غزل کا مطلع خاص طور پر پسند آیا ہے۔ داد قبول کیجیے۔
شکریہ
ناہید
سلگتی آگ ہے شدت کی دل میں
کئی اٹھتے شرارے دیکھتا ہوں
چلے جاتے ہیں جاذب کیوں بچھڑ کر
دل و جاں سے بھی پیارے دیکھتا ہوں[/quote]
سلیمان جاذب — اپریل 10، 2009 2:22 شام
سلمان صاحب، آپ کا کلام بہت عمدہ ہے۔ مجھے اس غزل کا مطلع خاص طور پر پسند آیا ہے۔ داد قبول کیجیے۔
شکریہ
ناہید
سلگتی آگ ہے شدت کی دل میں
کئی اٹھتے شرارے دیکھتا ہوں
چلے جاتے ہیں جاذب کیوں بچھڑ کر
دل و جاں سے بھی پیارے دیکھتا ہوں
[/quote]
بہت شکریہ ناہید جی آپ کا۔۔۔۔۔ امید ہے آپ یوں ہی حوصلہ افزائی فرماتی رہیں گی
زینب — اپریل 11، 2009 5:44 صبح
ستارے ہی ستارے دیکھتا ہوں
سفر کے استعارے دیکھتا ہوں
کبھی دیکھوں تلاطم خیز موجیں
کبھی حیراں کنارے دیکھتا ہوں
مقدر کی کہانی پڑھ رہا ہوں
کہاں تیرے اشارے دیکھتا ہوں
کہیں آنسو کہیں پر سسکیاں ہیں
دکھوں کے سب شمارے دیکھتا ہوں
سلگتی آگ ہے شدت کی دل میں
کئی اٹھتے شرارے دیکھتا ہوں
چلے جاتے ہیں جاذب کیوں بچھڑ کر
دل و جاں سے بھی پیارے دیکھتا ہوں
اتنی لاجواب شاعری میں نے اتنے دن بعد کیوں دیکھی۔۔۔۔۔۔۔۔

سلیمان جاذب — اپریل 11، 2009 7:24 صبح
اتنی لاجواب شاعری میں نے اتنے دن بعد کیوں دیکھی۔۔۔۔۔۔۔۔

[/quote دیر آئے درست آئے
زینب — اپریل 11، 2009 9:15 شام
ہاہاہا اب آگئی ہوں تو کچھ اور بھی سنایئے نا یا اسی سے بہلائے رکھیں گے
آصف شفیع — اپریل 30، 2009 4:55 شام
ارے بھائی عمران بھائی نے بھی پسند کی ہے
بہت خوب سلیمان بھائی بہت اچھی غزل کہی ہے آپ نے بہت خوب اب تو انشاءاللہ جلد ہی کلامِ شاعر بزبانِ شاعر سنوں گا انشاءاللہ
عمران کو کیا غزلیں پسند نہیں آتیں؟
سلیمان جاذب — مئی 3، 2009 9:28 صبح
عمران کو کیا غزلیں پسند نہیں آتیں؟
اس کا جواب تو عمران صاحب ہی دے سکتے ھیں ہہں کیوں عمران بھائی