فہیم۔ آصف سے مطلب آصف شفیع تھا جنہوں نے تفصیلی رائے دی تھی، اتفاق سے اشاروں کی طرف پہلے فرخ اشارے کر چکے تھے،لیکن میری مراد آصف کے سارے کومینٹس سے تھی۔ اشاروں والی بات اضافی تھی میری پوسٹ میں، محض وہی بات نہیں کہنا چاہ رہا تھا۔
آصف شفیع صاحب
مجھے خوشی ہوئی کہ آپ نے میری غزل کو اپنی بھرپور توجہ سے نوازا۔ یقیاً بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ رہتی ہے۔ مجھے آپ کی بات سے اتفاق ہے کہ غزل کی ردیف کچھ بڑی ہے اور خصوصاً سوچنے کے عمل کی ردیف میں موجودگی ہر شعر کے مضامین اور مضامین کی ادائیگی کو دشوار بنا دیا ہے جس کے باعث کچھ اشعار بھرپور تاثر نہیں دے پائے ہیں۔ اس غزل میں سوچنے کا عمل حقیقی نہیں بلکہ تجریدی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ان اشعار کو حقیقی معنوں میں نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اس غزل سے لطف اندوز ہونے کے لیے اشہبِ تخیل کو مہمیز لگانا ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ اگر کنارے ، نظارے وغیرہ سوچ سکتے تو وہ کیا اور کیسے سوچتے۔
شراروں والے شعر میں شراروں کی اپنی ظاہری مماثلت کے اعتبار سے خوش گمانی کو رقم کیا گیا ہے عین ممکن ہے کہ مضمون کا ابلاغ بھرپور طریقے سے نہیں ہو سکا ہو۔
اسی طرح " سمندر سے جڑے سوکھے کنارے سوچتے ہوں گے" والے مصرعے میں میرا مطمحِ نظر صرف کنارے نہیں ہیں بلکہ وہ کنارے یا کناروں کا وہ حصہ ہے جن تک عام حالات میں لہروں کی رسائی نہیں ہو پاتی یا وہ دور ہونے کے باعث نسبتاٍ خشک ہوتے ہیں اور ہر لہر کے آنے اور لوٹنے کے عمل میں اُمید اور نا اُمیدی کی کیفیت سے گزرتے ہیں۔
بہر کیف، آپ کی بھرپور توجہ اور عنایت کے لیے ممنون ہوں۔ اُمید ہے آئیندہ بھی حوصلہ افزائی اور رہنمائی فرماتے رہیں گے۔
مخلص
محمد احمد

ہو جائیے۔
باد قبول کیجے اور ہمیشہ خوش رہیے! 