سنگ ہوا کے کھیل رچانا بھول گئے

فرخ منظور — مئی 14، 2008 5:13 شام
اچھی غزل ہے احمد صاحب -
محمداحمد — مئی 19، 2008 10:06 صبح
واہ محمد احمد صاحب۔۔۔ نہایت عمدہ کلام ہے۔ ماشاء اللہ!
خصوصاً ذیل کے مصرع کی ترکیب کا تو جواب نہیں

شکریہ فاتح صاحب!
محمداحمد — مئی 19، 2008 10:08 صبح
اچھی غزل ہے احمد صاحب -

سخنور صاحب،
پزیرائی کے لیے ممنون ہوں۔۔۔
جاسمن — دسمبر 22، 2015 10:43 صبح
جب قحطِ اجناس ٹلا احساس ہوا
بستی والے پھول اُگانا بھول گئے

تیز ہوا کو خاک اُڑانا یا د رہا
بادل کیوں بارش برسانا بھول گئے
بے صبری یادیں رستے میں آن ملیں
ہم دیوانے گھر بھی جانا بھول گئے
واہ! کیا خیال ہیں۔۔۔۔آپ نے شاعری کی بستی میں پھول اُگا دیے۔۔۔۔۔۔۔
محمداحمد — جنوری 11، 2016 11:58 صبح
واہ! کیا خیال ہیں۔۔۔۔آپ نے شاعری کی بستی میں پھول اُگا دیے۔۔۔۔۔۔۔

آداب عرض ہے۔ :hatoff:
ظہیراحمدظہیر — جنوری 11، 2016 11:07 شام
بہت خوبصورت !! دھیمے لہجے کی ، ایک مہکتی ہوئی فضا اپنے اندر لئے ہوئے کیا اچھی غزل ہے ۔ بہت خوب احمد بھائی !!
محمداحمد — جنوری 13، 2016 7:57 صبح
بہت خوبصورت !! دھیمے لہجے کی ، ایک مہکتی ہوئی فضا اپنے اندر لئے ہوئے کیا اچھی غزل ہے ۔ بہت خوب احمد بھائی !!

بہت شکریہ ظہیر بھائی!
ذرہ نوازی پر ممنون ہوں۔
ادب دوست — جنوری 13، 2016 8:51 صبح
واہ واہ، کیا کہنے احمد بھائی ۔۔ بہت خوب بہت خوب
حمیرا عدنان — جنوری 13، 2016 9:11 صبح
واہہہہ محمداحمد بہت خوب :applause:
محمداحمد — جنوری 14، 2016 5:19 صبح
واہ واہ، کیا کہنے احمد بھائی ۔۔ بہت خوب بہت خوب

بہت محبت ہے بھائی آپ کی۔
شاد آباد رہیے۔
محمداحمد — جنوری 14، 2016 5:19 صبح

بہت شکریہ۔
جیتی رہیے۔ :)
نیرنگ خیال — جنوری 14، 2016 6:06 صبح
جب قحطِ اجناس ٹلا احساس ہوا
بستی والے پھول اُگانا بھول گئے

تعبیروں کی تعزیروں کا خوف رہا
وہ سمجھے ہم خواب سنانا بھول گئے
احمد بھائی دلنشیں۔۔۔ اعلی اور عمدہ کلام۔۔۔ کیا کہنے۔۔۔ اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ 19 فروری 2007 کو پیش کی گئی غزل کو محض ایک سال اور چند مہینے کی قلیل مدت میں 13 مئی 2008 کو آپ نے ٹائپ کر دیا۔ برق بھی شرمائی ہوگی۔۔
فاتح — جنوری 14، 2016 6:42 صبح
احمد بھائی دلنشیں۔۔۔ اعلی اور عمدہ کلام۔۔۔ کیا کہنے۔۔۔ اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ 19 فروری 2007 کو پیش کی گئی غزل کو محض ایک سال اور چند مہینے کی قلیل مدت میں 13 مئی 2008 کو آپ نے ٹائپ کر دیا۔ برق بھی شرمائی ہوگی۔۔
کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ بجلی بھری ہے احمد بھائی کے انگ انگ میں؟
نیرنگ خیال — جنوری 14، 2016 6:49 صبح
کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ بجلی بھری ہے احمد بھائی کے انگ انگ میں؟
ایسی بات میں عوامی سطح پر کر نہیں سکتا۔۔۔ کے ای ایس سی والوں نے احمد بھائی کو پکڑ لینا ہے۔
فاتح — جنوری 14، 2016 6:52 صبح
ایسی بات میں عوامی سطح پر کر نہیں سکتا۔۔۔ کے ای ایس سی والوں نے احمد بھائی کو پکڑ لینا ہے۔
ارے جن سے کنڈا چور نہ پکڑے گئے بلکہ ان کا اپنا نام تک نہ قابو کیا گیا وہ کسی کو کیا پکڑیں گے۔
نیرنگ خیال — جنوری 14، 2016 7:15 صبح
ارے جن سے کنڈا چور نہ پکڑے گئے بلکہ ان کا اپنا نام تک نہ قابو کیا گیا وہ کسی کو کیا پکڑیں گے۔
لیکن چلتا پھرتا یو پی ایس تو خطرناک ہوتا ہے ۔۔۔ اس پر ہر کسی کی نگاہ پڑتی ہے۔ :p
فاتح — جنوری 14، 2016 7:19 صبح
لیکن چلتا پھرتا یو پی ایس تو خطرناک ہوتا ہے ۔۔۔ اس پر ہر کسی کی نگاہ پڑتی ہے۔ :p
گویا آپ احمد بھائی پر آج بجلیاں گرا کے ہی دم لیں گے
محمداحمد — جنوری 14، 2016 9:48 صبح
احمد بھائی دلنشیں۔۔۔ اعلی اور عمدہ کلام۔۔۔ کیا کہنے۔۔۔ اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ 19 فروری 2007 کو پیش کی گئی غزل کو محض ایک سال اور چند مہینے کی قلیل مدت میں 13 مئی 2008 کو آپ نے ٹائپ کر دیا۔ برق بھی شرمائی ہوگی۔۔

ہاہاہاہا :)
دراصل یہ محفل پر میری پہلی غزل ہے بلکہ شاید پہلی پوسٹ بھی۔ اس کار گزاری کے بعد ہم محفل سے غائب ہوگئے تھے۔ پھر کم و بیش ایک سال بعد ہمیں مغل بھائی نے دعوتِ محفل دی تو یاد آیا کہ ہم تو یہاں پہلے بھی آ چکے ہیں۔ :) سو یہاں واپسی پر ہمیں لوگوں نے سمجھایا کہ میاں یہاں تصویری اردو پسند نہیں کی جاتی سو یونیکوڈ میں ٹائپ کی۔ حالانکہ ان دنوں نستعلیق فونٹ کی عدم دستیابی کے باعث یونیکوڈ اردو سے ہمیں کوئی خاص رغبت نہیں تھی۔ :)
محمد تابش صدیقی — فروری 23، 2016 11:44 صبح
واہ واہ، حیرت ہے کہ اس شہ پارے پر اب نظر پڑی۔
کیا عمدہ غزل کہی ہے۔ حساسیت سے بھرپور اور خوبصورت موتیوں سے جڑی
غزل
سنگ ہوا کے کھیل رچانا بھول گئے
شام ڈھلی تو دیپ جلانا بھول گئے
دل آنگن میں دھوپ غموں کی کیا پھیلی
جگنو آنکھوں میں مسکانا بھول گئے
تعبیروں کی تعزیروں کا خوف رہا
وہ سمجھے ہم خواب سنانا بھول گئے
صدیاں جیسے لمحوں میں آ ٹھہری ہوں
لمحے جیسے آنا جانا بھول گئے
جب قحطِ اجناس ٹلا احساس ہوا
بستی والے پھول اُگانا بھول گئے
سسکی سسکی ہونٹوں کو مسکان کیا
پلکوں پلکوں‌ باڑ لگانا بھول گئے
تیز ہوا کو خاک اُڑانا یا د رہا
بادل کیوں بارش برسانا بھول گئے
بے صبری یادیں رستے میں آن ملیں
ہم دیوانے گھر بھی جانا بھول گئے
بادِ صبا نے اور دریچے دیکھ لیے
ہم بھی احمد گیت سُہانا بھول گئے
سید شہزاد ناصر — فروری 23، 2016 5:04 شام
کیا کہنے جناب
کیا مرصع غزل ہے لطف آ گیا پڑھ کر
آپ کی۔پہلی کاوش نظر سے گزری جو آپ کی محفل پر اولین غزل۔بھی ہے
پہلی۔کاوش ہی۔متاثر کر گئی
بہت سی داد قبول۔کریں
اللہ۔کرے زور قلم زیادہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B3%D9%86%DA%AF-%DB%81%D9%88%D8%A7-%DA%A9%DB%92-%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84-%D8%B1%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84-%DA%AF%D8%A6%DB%92.5743/page-2