شاعر ہے راحیلؔ غضب کا، اس کی غزل کا کافر کافر

راحیل فاروق — جولائی 6، 2016 10:20 شام
میرے شوق کی بےتابی سے تجھ کو قیامت یاد آئی ہے
آنکھ اٹھا کے دیکھ ذرا، خود تو نے قیامت کیا ڈھائی ہے
ویرانی سی ویرانی ہے، تنہائی سی تنہائی ہے
پہلے ٹوٹ کے رونے والا اب خاموش تماشائی ہے
شوخ ہوا کا مہکتا جھونکا گلیوں سے اٹھلاتا گزرا
چیخیں مار کے رویا پاگل، "ہرجائی ہے! ہرجائی ہے!"
قہر نہیں یہ دَورِ فلک کا، ظلم نہیں کچھ محبوبوں کا
دل خود درد کا دیوانہ ہے، درد بھی دل کا شیدائی ہے
جب جب فیضِ تیرہ شبی سے اہلِ ہنر کے دل لرزے ہیں
اپنی گرمئِ فکر ہزاروں شمعیں روشن کر لائی ہے
شاعر ہے راحیلؔ غضب کا، اس کی غزل کا کافر کافر
پر ظالم سودائی ہے اور سودائی پھر سودائی ہے!
راحیلؔ فاروق​
محمد امین — جولائی 6، 2016 10:54 شام
واہ واہ ۔۔۔ راحیل غضب کا شاعر ہے واقعی۔۔۔ بہت پیاری غزل ہے۔۔ سبحان اللہ۔ ماشاء اللہ۔ جیتے رہو استاد۔۔۔ خوب خوب ترقی کرو۔۔۔
عباد اللہ — جولائی 7، 2016 2:12 صبح
وااہ واااہ
زبردست غزل
صفی حیدر — جولائی 7، 2016 4:14 صبح
واہ بے مثال و باکمال کلام ہے ۔۔۔۔۔۔
محمد تابش صدیقی — جولائی 7، 2016 5:21 صبح
واہ بھائی صاحب لکھی بھی غضب کی ہے اور لکھتے ہوئے مزاج بھی پر غضب معلوم ہوتا ہے.
فرقان احمد — جولائی 7، 2016 6:18 صبح
صاحب! ہمیں لغوی معنوں میں بھی کافر ہونا منظور نہ ہے۔سو پڑھ بھی لی، تعریف بھی کر دی اور زبردست کی ریٹنگ بھی دے دی! :)
ہمیں تو یوں بھی آپ کی شاعرانہ صلاحیتوں پر رشک آتا ہے، اور ان صلاحیتوں سے منکر ہونے کا تصور بھی نہ کیا ہے!
ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ کافر کا لفظ پہلی بار شاعری میں اکھٹے دو بار استعمال ہوتے دیکھا ہے! سماعتوں پر گراں گزرنے والا لفظ بھی یہاں ایک سماں باندھ دیتا ہے! بہت خوب!
غدیر زھرا — جولائی 7، 2016 6:57 صبح
شاعر ہے راحیل غضب کا...
ہم آپ کی بات پر صاد کرتے ہیں :)
آوازِ دوست — جولائی 7، 2016 10:49 صبح
راحیل بھائی جی خوش ہوا آپ کی شاعرانہ ترنگ سے. اہل زمانہ کا بے ڈھب وطیرہ تو جیتے جی کسی شاعر کو سرے سے شاعر تسلیم ہی نہ کرنا ہے کجا یہ کہ اُسے غضب کا شاعر قرار دیا جائے. البتہ شاعر کے آنجہانی ہوتے ہی یہ گنگا اُلٹی بہنے لگتی ہے. اُس کے کلام کی ایسی ایسی تاویلیں اور تشریحات گھڑی جاتی ہیں جو شاعر کے وہم و گمان سے بھی بہت دور کی کہانیاں ہوتی ہیں. تو صاحب ایسے کم ذوق اہلِ عصر پر آپ کا عدم اعتماد بر حق ہے. اب تعریف کے دو بول سننے کے لیے کون دمِ آخر تک منتظر رہے . آپ نے کمال کیا ہے جو نا صرف یہ کہ راحیل ہوتے ہوئے راحیل کو غضب کا شاعر قرار دیا ہے بلکہ اِس مسلمہ حقیقت سے راہِ فرار ڈھونڈنے والوں کو ملعون و مرتد اور قابلِ گردن زدنی بھی قرار دے دیا ہے. حضور آپ نا صرف یہ کہ شاعر غضب کے ہیں بلکہ آپ کی معاملہ فہمی اور پیش بینی بھی کمال کے غضبناک مدارج میں ہے. ہمیں پورا یقین ہے شاعری کا یہ نادر انداز آپ کو تاریخ و جغرافیہ میں امر کر دے گا. سب آکھو سبحان اللّہ تے جیہڑا نا آکھے اوہ . . . . .:)
راحیل فاروق — جولائی 7، 2016 3:53 شام
جیتے رہو استاد۔۔۔ خوب خوب ترقی کرو۔۔۔
یہ دعائیں میرے لیے بہت قیمتی ہیں، امین بھائی! :redheart::redheart:
وااہ واااہ
زبردست غزل
شکریہ، پیارے بچے۔:bighug:
واہ بے مثال و باکمال کلام ہے ۔۔۔۔۔۔
عنایت، صفی بھائی۔ :)
واہ بھائی صاحب لکھی بھی غضب کی ہے اور لکھتے ہوئے مزاج بھی پر غضب معلوم ہوتا ہے.
ایک راجپوت، تس پر پنجابی۔ پیار بھی کریں تو لوگوں کا تراہ نکل جاتا ہے۔ شاعری میں بھی اگر یہ اثر آ گیا ہے تو اسے عالی نسبی کی دلیل سمجھیے! :laughing::laughing:
صاحب! ہمیں لغوی معنوں میں بھی کافر ہونا منظور نہ ہے۔سو پڑھ بھی لی، تعریف بھی کر دی اور زبردست کی ریٹنگ بھی دے دی! :)
آپ نے زبردست کی ریٹنگ نہیں دی۔ اللہ پوچھے! :rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor:
ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ کافر کا لفظ پہلی بار شاعری میں اکھٹے دو بار استعمال ہوتے دیکھا ہے! سماعتوں پر گراں گزرنے والا لفظ بھی یہاں ایک سماں باندھ دیتا ہے! بہت خوب!
اکٹھا یہ یوں استعمال ہوا ہے کہ شاعر کی غزل کا کافر یعنی منکر گویا ایمان کے لحاظ سے بھی کافر ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ غزل کوئی آٹھ سال پرانی تو ہو گی۔ اس وقت فتویٰ ہائے کفر اس معراج پر نہ تھے جس پر اب ہیں۔ سو ہم نے بےخطر جڑ دیا۔ کیا معلوم تھا بعد کو اتنا مروج ہو جائے گا! :laughing::laughing::laughing:
ہم آپ کی بات پر صاد کرتے ہیں :)
سراپا سپاس۔ :inlove::inlove:
راحیل بھائی جی خوش ہوا آپ کی شاعرانہ ترنگ سے. اہل زمانہ کا بے ڈھب وطیرہ تو جیتے جی کسی شاعر کو سرے سے شاعر تسلیم ہی نہ کرنا ہے کجا یہ کہ اُسے غضب کا شاعر قرار دیا جائے. البتہ شاعر کے آنجہانی ہوتے ہی یہ گنگا اُلٹی بہنے لگتی ہے. اُس کے کلام کی ایسی ایسی تاویلیں اور تشریحات گھڑی جاتی ہیں جو شاعر کے وہم و گمان سے بھی بہت دور کی کہانیاں ہوتی ہیں. تو صاحب ایسے کم ذوق اہلِ عصر پر آپ کا عدم اعتماد بر حق ہے. اب تعریف کے دو بول سننے کے لیے کون دمِ آخر تک منتظر رہے . آپ نے کمال کیا ہے جو نا صرف یہ کہ راحیل ہوتے ہوئے راحیل کو غضب کا شاعر قرار دیا ہے بلکہ اِس مسلمہ حقیقت سے راہِ فرار ڈھونڈنے والوں کو ملعون و مرتد اور قابلِ گردن زدنی بھی قرار دے دیا ہے. حضور آپ نا صرف یہ کہ شاعر غضب کے ہیں بلکہ آپ کی معاملہ فہمی اور پیش بینی بھی کمال کے غضبناک مدارج میں ہے. ہمیں پورا یقین ہے شاعری کا یہ نادر انداز آپ کو تاریخ و جغرافیہ میں امر کر دے گا. سب آکھو سبحان اللّہ تے جیہڑا نا آکھے اوہ . . . . .:)
کیا تختے شکستہ فرمائے ہیں، حضور (یعنی پھٹے بھن دتے جے)! :ohgoon::ohgoon:
شاعرانہ تعلی بھی کوئی شے ہوتی ہے، سرکار۔ اتنی رعایت تو ہمیں دیں۔ آخر ہم نے ولایت کا دعویٰ تو نہیں کیا! :sneaky::sneaky:
فاتح — جولائی 7، 2016 4:16 شام
واہ واہ کیا کہنے راحیل بھائی۔ شاعر ہے راحیل غضب کا بلا مبالغہ
عباد اللہ — جولائی 7، 2016 5:12 شام
آھا کیا تخاطب ہے لطف آیا :)
شکریہ سر
آوازِ دوست — جولائی 9، 2016 4:20 صبح
یہ دعائیں میرے لیے بہت قیمتی ہیں، امین بھائی! :redheart::redheart:
شکریہ، پیارے بچے۔:bighug:
عنایت، صفی بھائی۔ :)
ایک راجپوت، تس پر پنجابی۔ پیار بھی کریں تو لوگوں کا تراہ نکل جاتا ہے۔ شاعری میں بھی اگر یہ اثر آ گیا ہے تو اسے عالی نسبی کی دلیل سمجھیے! :laughing::laughing:
آپ نے زبردست کی ریٹنگ نہیں دی۔ اللہ پوچھے! :rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor:
اکٹھا یہ یوں استعمال ہوا ہے کہ شاعر کی غزل کا کافر یعنی منکر گویا ایمان کے لحاظ سے بھی کافر ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ غزل کوئی آٹھ سال پرانی تو ہو گی۔ اس وقت فتویٰ ہائے کفر اس معراج پر نہ تھے جس پر اب ہیں۔ سو ہم نے بےخطر جڑ دیا۔ کیا معلوم تھا بعد کو اتنا مروج ہو جائے گا! :laughing::laughing::laughing:
سراپا سپاس۔ :inlove::inlove:
کیا تختے شکستہ فرمائے ہیں، حضور (یعنی پھٹے بھن دتے جے)! :ohgoon::ohgoon:
شاعرانہ تعلی بھی کوئی شے ہوتی ہے، سرکار۔ اتنی رعایت تو ہمیں دیں۔ آخر ہم نے ولایت کا دعویٰ تو نہیں کیا! :sneaky::sneaky:
اجی آپ کے تخیل کا شاہین سر زمینِ ولایت سے اجنبی تو نہیں ہے. آپ کی تعلی پر بھی تجلی کا رنگ غالب ہے. اب ہم دل پہ ہاتھ نہ رکھیں تو کیا کریں.
نکتہ ور — جولائی 9، 2016 6:36 صبح
کبھی آپ حد کرتے ہیں اور کبھی غضب کرتے ہیں ایک ہی دفعہ بتا دیں کہ یہ نازک جان کیا کیا سہے گی
جاسمن — جولائی 12، 2016 1:28 صبح
شاعر ہے راحیل غضب کا....
اور ہم کافر نہیں ہیں.:)
اَبُو مدین — اگست 9، 2016 7:13 شام
شاعر ہے راحیلؔ غضب کا، اس کی غزل کا کافر کافر
پر ظالم سودائی ہے اور سودائی پھر سودائی ہے!
واہ واہ کیا غزل ہے۔ لاجواب۔ آخری شعر میں تو حد سے زیادہ کمال کر دیا ہے۔ ڈھیروں دعائیں اور داد۔
محمد حفیظ الرحمٰن — اگست 15، 2016 11:06 صبح
واہ راحیل صاھب ۔ کیا خوبصورت غزل ہے ۔ مبارکباد قبول کیجیئے۔ اور ہاں ایک مشورہ ہے اگر پسند آئے۔ آخری شعر میں لفظ کافر کی تکرار ہے۔ اگر اسے یوں کر دیا جائے تو کیسا رہے۔
شاعر ہے راحیل غضب کا ، اس کی غزل کا منکر کافر
اتنی اچھی غزل کہنے پر ایک بار پھر مبارکباد قبول کیجئے۔
الف عین — اگست 15، 2016 12:51 شام
زبردست اور
کافر
غزل ہے میرا مطلب ہے راحیل فاروق
محمداحمد — اگست 15، 2016 1:13 شام
واہ واہ واہ!
خوبصورت غزل!
ماشاءاللہ۔
سبحان اللہ۔ :)
حسن محمود جماعتی — اگست 15، 2016 1:26 شام
راحیل بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت خوب!!
فیضان قیصر — نومبر 27، 2016 8:10 صبح
زورِ قلم اور زیادہ
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%DB%81%DB%92-%D8%B1%D8%A7%D8%AD%DB%8C%D9%84%D8%94-%D8%BA%D8%B6%D8%A8-%DA%A9%D8%A7%D8%8C-%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%D8%A7-%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1-%DA%A9%D8%A7%D9%81%D8%B1.90836/