شامِ وحشت سے کہو، دے مجھے لمحوں کا حساب

محمد بلال اعظم — جنوری 26، 2015 2:17 شام
شامِ وحشت سے کہو، دے مجھے لمحوں کا حساب
شامِ وحشت مرے آنگن میں اتر آئی ہے
مونسِ غم ہے میسر، نہ ہی تنہائی ہے
پھر وہی رات کا عالم ہے مری آنکھوں میں
اور رگِ جاں میں بھٹکتی ہوئی بینائی ہے
میرے ہمدرد، مرے یار چلے آئے ہیں
ہاتھ میں آگ ہے، پر آگ میں ہیں پھول کھِلے
اے رفیقانِ مَن و تُو، یہ نظر کا دھوکہ
گرچہ سیماب صفت ہے، پہ کسے کیا معلوم
کس کا گھر بار جلائے، یہ کسے راکھ کرے
میں نے دنیائے محبت سے کنارہ کر کے
آگ اور خون کے دریا میں قدم رکھا ہے
اس قدر حبس کے عالم میں بھی دل کہتا ہے
چار سو دشتِ عدم، دشتِ عدم پھیلا ہے
آج صدیوں کی مسافت پہ کھڑا سوچتا ہوں
میرے احباب تو منزل کے قدم چوم بھی آئے
اور میں گنتا رہا پاؤں کے چھالے اپنے
میں کہ گفتار سراپا تھا مگر کیا معلوم
عمر باتوں کے سہارے نہیں گزرا کرتی
راکھ کی تہہ میں شرارہ بھی تو ہو سکتا ہے
آگ بجھ جائے بھی تو ہاتھ جلا دیتی ہے
میرے کاسے کی طلب تھی مرے پندار سے کم
میں نے سمجھا تجھے دنیا مرے معیار سے کم
شامِ وحشت کہ جو آنگن میں اتر آئی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ آنکھوں میں اتر سکتی ہے
لیکن آنکھوں میں اتر آئے بھی تو کیا ہو گا
شامِ وحشت کو خبر تک ہی نہیں ہے شاید
کرب کی خاک سے خلوت میں تراشیدہ جسم
اپنی آنکھوں میں سمیٹے ہوئے خوابوں کا دھواں
مثلِ آشفتہ سراں، نوحہ بہ لب، گریہ کناں
اور صفِ چارہ گراں میں ہے وہ شعلہ بجاں
اپنی تنہائی کے زنداں میں پڑا ہے کب سے
اور تنہائی کے زنداں میں پڑا مانگتا ہے
شامِ وحشت سے وہ گزرے ہوئے لمحوں کا حساب
شامِ وحشت کو خبر تک ہی نہیں ہے شاید
ہے کئی اور خرابے مری آنکھوں سے پرے
جن میں اب راکھ ہے باقی نہ دھواں ماضی کا
اُن میں مدفون ہے صدیوں کے تحیر کا غبار
اُن میں باقی ہے بس اب خاکِ رہِ ہم سفراں
اُن میں باقی ہے تو بس آہِ رہِ لیل و نہار
آج وحشت نے مری باندھا ہے کیسا یہ خیال
جس کا ہر شعر لہو رنگ ہے لیکن پھر بھی
حرفِ تاثیر سے خالی ہیں یہ باتیں ساری
حرفِ احساس سے عاری ہیں یہ قصے سارے
شامِ وحشت نے کہاں دینا ہے لمحوں کا حساب
شامِ وحشت سے کہو، دے مجھے لمحوں کا حساب
شامِ وحشت سے کہو، دے مجھے لمحوں کا حساب
(محمد بلال اعظم)​
محمد بلال اعظم — جنوری 27، 2015 12:01 شام
ٹیگ نامہ
:)
اوشو — جنوری 27، 2015 12:09 شام
ہائے ظالم یہ کیا لکھ دیا ۔۔۔!!!!
محمد بلال اعظم — جنوری 27، 2015 12:14 شام
ہائے ظالم یہ کیا لکھ دیا ۔۔۔!!!!
اس محبت اور حوصلہ افزائی پہ ممنون ہوں :)
کیا لکھ دیا اوشو بھائی :ROFLMAO:
اور پھر آپ مجھے ظالم o_O بھی کہہ رہے ہیں :sleep:
جائیے میں نہیں بولتا :unsure:
اوشو — جنوری 27، 2015 12:18 شام
نہ جانے کون کون سے تار چھیڑ دیے
ظالم نہ کہوں تو کیا کہوں
تبصرہ و تنقید صاحبانِ علم کریں گے۔
میری طرف سے بہت سی داد قبول فرمائیے۔
نیرنگ خیال — جنوری 28، 2015 5:30 صبح
کیا کہنے۔۔۔ کیا ہی کہنے۔۔۔ مدت کے بعد واپسی اور وہ بھی اس قدر شاندار۔۔۔ لطف آگیا۔۔۔۔ منے شاد رہو۔۔۔ کیا کہوں۔۔۔ بہت ہی عمدہ۔۔۔
فرخ — جنوری 28، 2015 5:34 صبح
بہت اعلٰی، بہت خوب۔۔۔۔۔
محمد حفیظ الرحمٰن — جنوری 28، 2015 9:30 صبح
کیا کہنے بھائی محمد بلال اعظم صاحب۔ واہ۔ بہت عمدہ۔ ڈھیر ساری داد قبول کیجئے۔
نظام الدین — جنوری 28، 2015 10:55 صبح
شامِ وحشت سے کہو، دے مجھے لمحوں کا حساب
بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔ لاجواب
سید عاطف علی — جنوری 28، 2015 11:38 صبح
بہت اچھا لکھا ہے بلال ۔ بہت سادہ و رواں لہجہ ۔البتہ منظوم اور توانا ہو نے کے باوجود ذرا منظم اور مرکوز نہیں کچھ بکھراؤ سا محسوس ہوا اورہاں ایک جگہ ایک مصرع لہجے میں شستہ نہیں لگا بقیہ اشعار کی طرح ۔۔۔۔شامِ وحشت نے کہاں دینا ہے لمحوں کا حساب۔۔۔۔یہاں وحشت ًنےً کا استعمال کچھ ناہموار سا لگا (مجھے)۔ بہت ساری داد البتہ واجب ہے۔ویسے یہ میری ذاتی رائے یا احساس ہے۔
محمداحمد — جنوری 28، 2015 12:54 شام
سبحان اللہ !
بہت خوب بلال! بلا کا نکھار آ گیا ہے آپ کی شاعری میں۔ لفظ لفظ مترنم ہے اور اپنی جگہ نگینے کی طرح جڑا ہے۔
نظم گو بہت عمدہ ہے لیکن جیسا کہ عاطف بھائی نے کہا کہ اگر مضامین کچھ زیادہ (باہم) مربوط ہوتے تو اور بھی لطف آتا۔ بہرکیف اس ایک بات کے علاوہ باقی ہر بات کے لئے تعریف ہی تعریف ہے۔
ماشاءاللہ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
ناعمہ عزیز — فروری 2، 2015 10:03 صبح
بہت خو ب :)
ڈھیروں داد قبول کریں :)
علی عباسی — فروری 22، 2015 4:24 صبح
feb21p1_133973.jpg

محمد بلال اعظم صاحب کی نظر میری ایک کاوش۔۔۔۔۔
محمد بلال اعظم — مارچ 27، 2015 5:59 شام
کیا کہنے۔۔۔ کیا ہی کہنے۔۔۔ مدت کے بعد واپسی اور وہ بھی اس قدر شاندار۔۔۔ لطف آگیا۔۔۔۔ منے شاد رہو۔۔۔ کیا کہوں۔۔۔ بہت ہی عمدہ۔۔۔
نہال ہو گیا ہوں نین بھیا
بہت شکریہ :)
محمد بلال اعظم — مارچ 27، 2015 5:59 شام
بہت اعلٰی، بہت خوب۔۔۔۔۔
ممنون ہوں فرخ بھائی
محمد بلال اعظم — مارچ 27، 2015 6:00 شام
کیا کہنے بھائی محمد بلال اعظم صاحب۔ واہ۔ بہت عمدہ۔ ڈھیر ساری داد قبول کیجئے۔
سراپا سپاس ہوں محترم حفیظ الرحمٰن صاحب
سلامت رہیے
:)
محمد بلال اعظم — مارچ 27، 2015 6:00 شام
شامِ وحشت سے کہو، دے مجھے لمحوں کا حساب
بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔ لاجواب
تشکر نظام الدین صاحب
محمد بلال اعظم — مارچ 27، 2015 6:03 شام
بہت اچھا لکھا ہے بلال ۔ بہت سادہ و رواں لہجہ ۔البتہ منظوم اور توانا ہو نے کے باوجود ذرا منظم اور مرکوز نہیں کچھ بکھراؤ سا محسوس ہوا اورہاں ایک جگہ ایک مصرع لہجے میں شستہ نہیں لگا بقیہ اشعار کی طرح ۔۔۔۔شامِ وحشت نے کہاں دینا ہے لمحوں کا حساب۔۔۔۔یہاں وحشت ًنےً کا استعمال کچھ ناہموار سا لگا (مجھے)۔ بہت ساری داد البتہ واجب ہے۔ویسے یہ میری ذاتی رائے یا احساس ہے۔
سبحان اللہ !
بہت خوب بلال! بلا کا نکھار آ گیا ہے آپ کی شاعری میں۔ لفظ لفظ مترنم ہے اور اپنی جگہ نگینے کی طرح جڑا ہے۔
نظم گو بہت عمدہ ہے لیکن جیسا کہ عاطف بھائی نے کہا کہ اگر مضامین کچھ زیادہ (باہم) مربوط ہوتے تو اور بھی لطف آتا۔ بہرکیف اس ایک بات کے علاوہ باقی ہر بات کے لئے تعریف ہی تعریف ہے۔
ماشاءاللہ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔

یہی باتیں مجھے بار بار محفل پہ کھینچ لاتی ہیں کہ ہر لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا رہتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ سید عاطف علی بھائی اور احمد بھائی
میں کوشش جاری رکھتا ہوں۔
امید ہے اگلی کوشش مزید بہتر ہو گی۔
کیونکہ طبیعت ہی ایسی ہے کہ اس میں ترمیم کرنے سے زیادہ بہتر قلمزد کرنا لگتا ہے۔۔۔ اب نجانے کب طبیعت ہو ایسی
:) :) :)
محمد بلال اعظم — مارچ 27، 2015 6:05 شام
بہت خو ب :)
ڈھیروں داد قبول کریں :)
حوصلہ افزائی پہ بیحد ممنون ہوں آپی :)
محمد بلال اعظم — مارچ 27، 2015 6:06 شام
feb21p1_133973.jpg

محمد بلال اعظم صاحب کی نظر میری ایک کاوش۔۔۔۔۔
واہ
خوبصورت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)
بہت بہت شکریہ علی عباسی صاحب
اس پذیرائی پہ بیحد ممنون ہوں۔
سدا سلامت رہیے
:) :) :)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%A7%D9%85%D9%90-%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%DA%A9%DB%81%D9%88%D8%8C-%D8%AF%DB%92-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D9%84%D9%85%D8%AD%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8.79958/