شامِ وحشت سے کہو، دے مجھے لمحوں کا حساب

نیرنگ خیال — مارچ 30، 2015 6:03 صبح
نہال ہو گیا ہوں نین بھیا
بہت شکریہ :)
جتنے عرصہ بعد تم نے جواب دیا ہے اب تک تو برگد کا درخت بن گئے ہوگے۔
عبدالحسیب — مارچ 30، 2015 7:45 شام
ہائے افسوس!یہ شاہکار بھی میری کوتاہی کا شکار ہوا:(
محمد بلال اعظم ، سرکار ، اعلیٰ ترین۔ کیا کہوں کہ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ ملک صاحب سے اتفاق رکھتا ہوں۔کہ ظالم یہ کیا لکھ دیا ہے۔
:):)
عبدالحسیب — مارچ 30، 2015 7:46 شام
جتنے عرصہ بعد تم نے جواب دیا ہے اب تک تو برگد کا درخت بن گئے ہوگے۔
شکر ہے ریڈ ووڈ ٹری نہیں کہا :)
قرۃالعین اعوان — مارچ 30، 2015 8:41 شام
واہ چھوٹے بھيا واہ
کیا کہنے !
اسقدر لطف آمیز !
احسان اللہ سعید — مارچ 30، 2015 8:51 شام
بہت ہی اعلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ زور قلم مزید دوچند کرے۔آمین
نیرنگ خیال — مارچ 31، 2015 6:20 صبح
شکر ہے ریڈ ووڈ ٹری نہیں کہا :)
وہ اگلے جواب کے لیے بچا چھوڑا تھا۔۔۔ :p
عبدالحسیب — مارچ 31، 2015 6:42 شام
وہ اگلے جواب کے لیے بچا چھوڑا تھا۔۔۔ :p
دور اندیشی کا جواب نہیں :)
محمد بلال اعظم — اپریل 5، 2015 4:07 صبح
جتنے عرصہ بعد تم نے جواب دیا ہے اب تک تو برگد کا درخت بن گئے ہوگے۔
اور یقیناً اب تو پورا روز گارڈن ہو گیا ہوں گا :D
محمد بلال اعظم — اپریل 5، 2015 4:13 صبح
ہائے افسوس!یہ شاہکار بھی میری کوتاہی کا شکار ہوا:(
محمد بلال اعظم ، سرکار ، اعلیٰ ترین۔ کیا کہوں کہ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ ملک صاحب سے اتفاق رکھتا ہوں۔کہ ظالم یہ کیا لکھ دیا ہے۔
:):)
ہاہاہا۔۔۔۔ "افسوس" کی بھی خوب کہی o_O
حضور اس قدر حوصلہ افزائی و پذیرائی پہ تہِ دل سے ممنون ہوں
بہت شکریہ آپ کا
:):):)
محمد بلال اعظم — اپریل 5، 2015 4:15 صبح
واہ چھوٹے بھيا واہ
کیا کہنے !
اسقدر لطف آمیز !
بہت شکریہ آپی
:)
محمد بلال اعظم — اپریل 5، 2015 4:19 صبح
بہت ہی اعلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ زور قلم مزید دوچند کرے۔آمین
ثم آمین
متشکرم
محمد بلال اعظم — اپریل 5، 2015 4:20 صبح
دور اندیشی کا جواب نہیں :)
ان کی "قریب اندیشی" کا بھی کوئی جواب نہیں ہے ;)
مہدی نقوی حجاز — اپریل 5، 2015 6:03 صبح
اچھی نظم ہے۔
میرا ذاتی خیال ہے، نظم میں آپ کی طبیعت زیادہ رواں تا غزل! البتہ خیال ہے۔
بہت خوبصورت ہے۔
عبدالحسیب — اپریل 5، 2015 11:58 صبح
ہاہاہا۔۔۔۔ "افسوس" کی بھی خوب کہی o_O
حضور اس قدر حوصلہ افزائی و پذیرائی پہ تہِ دل سے ممنون ہوں
بہت شکریہ آپ کا
:):):)
آپ کی محبت ہے سرکار :)
ان کی "قریب اندیشی" کا بھی کوئی جواب نہیں ہے ;)
ایسے ہی تو ہم نے میرِ کارواں نہ بنایا ہوگا :)
سید شہزاد ناصر — اپریل 6، 2015 10:54 صبح
منے میاں کمال کر دیا :)
شامِ وحشت مرے آنگن میں اتر آئی ہے
مونسِ غم ہے میسر، نہ ہی تنہائی ہے
پھر وہی رات کا عالم ہے مری آنکھوں میں
اور رگِ جاں میں بھٹکتی ہوئی بینائی ہے
اس بند میں غزل کا رنگ نمایاں ہے روانی ترنم بہاؤ خوب ہے :)
میرے ہمدرد، مرے یار چلے آئے ہیں
ہاتھ میں آگ ہے، پر آگ میں ہیں پھول کھِلے
اے رفیقانِ مَن و تُو، یہ نظر کا دھوکہ
گرچہ سیماب صفت ہے، پہ کسے کیا معلوم
کس کا گھر بار جلائے، یہ کسے راکھ کرے
اس بند میں لہجہ نظم کا محسوس ہوا پہلے بند میں چلے آئے ہیں کی جگہ اگر چلے آتے ہیں کر دیا جائے تو کیسا رہے گا؟
سرخ کشیدہ سطر میں کچھ بکھراؤ اور الجھاؤ محسوس ہوا
میں نے دنیائے محبت سے کنارہ کر کے
آگ اور خون کے دریا میں قدم رکھا ہے
اس قدر حبس کے عالم میں بھی دل کہتا ہے
چار سو دشتِ عدم، دشتِ عدم پھیلا ہے
یہ بند بہت خوب ہے
مگر میاں ایک بات تو بتاؤ
اس عمر میں یہ بن باس لینے کی کیا سوجھی :)
آج صدیوں کی مسافت پہ کھڑا سوچتا ہوں
میرے احباب تو منزل کے قدم چوم بھی آئے
اور میں گنتا رہا پاؤں کے چھالے اپنے
میں کہ گفتار سراپا تھا مگر کیا معلوم
عمر باتوں کے سہارے نہیں گزرا کرتی
راکھ کی تہہ میں شرارہ بھی تو ہو سکتا ہے
آگ بجھ جائے بھی تو ہاتھ جلا دیتی ہے
یہ بند بلاشبہ حاصلِ نظم ہے کیا کہنے واہ :)
میرے کاسے کی طلب تھی مرے پندار سے کم
میں نے سمجھا تجھے دنیا مرے معیار سے کم
پہلا مصرعہ کمال کا ہے مگر دوسرا مصرعہ متاثر نہ کر سکا
اپنا اپنا خیال ہے :)
شامِ وحشت کہ جو آنگن میں اتر آئی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ آنکھوں میں اتر سکتی ہے
لیکن آنکھوں میں اتر آئے بھی تو کیا ہو گا
بہت خوب کیا کہنے لطف آ گیا :)
شامِ وحشت کو خبر تک ہی نہیں ہے شاید
کرب کی خاک سے خلوت میں تراشیدہ جسم
اپنی آنکھوں میں سمیٹے ہوئے خوابوں کا دھواں
مثلِ آشفتہ سراں، نوحہ بہ لب، گریہ کناں
اور صفِ چارہ گراں میں ہے وہ شعلہ بجاں
اپنی تنہائی کے زنداں میں پڑا ہے کب سے
اور تنہائی کے زنداں میں پڑا مانگتا ہے
شامِ وحشت سے وہ گزرے ہوئے لمحوں کا حساب
شامِ وحشت کو خبر تک ہی نہیں ہے شاید
ہے کئی اور خرابے مری آنکھوں سے پرے
جن میں اب راکھ ہے باقی نہ دھواں ماضی کا
اُن میں مدفون ہے صدیوں کے تحیر کا غبار
اُن میں باقی ہے بس اب خاکِ رہِ ہم سفراں
اُن میں باقی ہے تو بس آہِ رہِ لیل و نہار
کمال ہو گیا بھائی کمال ہو گیا :)
آج وحشت نے مری باندھا ہے کیسا یہ خیال
جس کا ہر شعر لہو رنگ ہے لیکن پھر بھی
حرفِ تاثیر سے خالی ہیں یہ باتیں ساری
حرفِ احساس سے عاری ہیں یہ قصے سارے
شامِ وحشت نے کہاں دینا ہے لمحوں کا حساب
یہ بند بھی خوب ہے مگر سرخ کشیدہ سطر میں کچ الجھاؤ محسوس ہوا
آخری کی دو سطریں بلاوجہ کی تکرار ہیں
بلاشبہ یہ نظم بہت اعلیٰ معار کی ہے مگر میں سید عاطف علی کی بات سے اتفاق کروں گا کہ کہیں کہیں الجھن محسوس ہو رہی ہے
اسی طرح لکھتے رہو
اللہ کرے زور قلم زیادہ :)
محمد یعقوب آسی — اپریل 8، 2015 11:20 صبح
منے میاں کمال کر دیا :)
اس بند میں غزل کا رنگ نمایاں ہے روانی ترنم بہاؤ خوب ہے :)
اس بند میں لہجہ نظم کا محسوس ہوا پہلے بند میں چلے آئے ہیں کی جگہ اگر چلے آتے ہیں کر دیا جائے تو کیسا رہے گا؟
سرخ کشیدہ سطر میں کچھ بکھراؤ اور الجھاؤ محسوس ہوا
یہ بند بہت خوب ہے
مگر میاں ایک بات تو بتاؤ
اس عمر میں یہ بن باس لینے کی کیا سوجھی :)
یہ بند بلاشبہ حاصلِ نظم ہے کیا کہنے واہ :)
پہلا مصرعہ کمال کا ہے مگر دوسرا مصرعہ متاثر نہ کر سکا
اپنا اپنا خیال ہے :)
بہت خوب کیا کہنے لطف آ گیا :)
کمال ہو گیا بھائی کمال ہو گیا :)
یہ بند بھی خوب ہے مگر سرخ کشیدہ سطر میں کچ الجھاؤ محسوس ہوا
آخری کی دو سطریں بلاوجہ کی تکرار ہیں
بلاشبہ یہ نظم بہت اعلیٰ معار کی ہے مگر میں سید عاطف علی کی بات سے اتفاق کروں گا کہ کہیں کہیں الجھن محسوس ہو رہی ہے
اسی طرح لکھتے رہو
اللہ کرے زور قلم زیادہ :)

تبصرہ اچھا ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%A7%D9%85%D9%90-%D9%88%D8%AD%D8%B4%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%DA%A9%DB%81%D9%88%D8%8C-%D8%AF%DB%92-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D9%84%D9%85%D8%AD%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8.79958/page-2