شام

زھرا علوی — جون 7، 2008 11:13 صبح
میری پہلی پہلی نظم۔۔۔۔
"ہمارے گھر کے آنگن میں
اترتی شام ہے جب بھی
تو چاروں اور جانے کیوں
بہت خاموش سی
چپ سی
صدائیں گنگناتی ہیں
انوکھے راگ بجتے ہیں
کئی یادوں کے انگارے
کبھی جلتے ہیں
بجھتے ہیں
نہ جانے کتنے ہی الفاظ
ذہن و دل ل صفحے پر
سمٹتے ہیں
بکھرتے ہیں
کبھی کچھ یاد کرنے کی
کوئی الجھن کوئی کوشش
کبھی سب بھول جانے کی
انوکھی سی کوئی خواہش
کبھی بے سوچ سے لمحے
سرک جاتے ہیں ہاتھوں سے
اور ان کو تھام لینے کی
کوئی معصوم سی کاوش
لہو کو منجمد کرتی
اترتی شام کی یہ چپ
پرندوں کے گھروں کو لوٹ جانے کے کئی منظر
ہمیں دھندلا سا الجھا سا
کوئی رستہ سجھاتے ہیں
مگر اک اضطراری میں
نہیں ہم دیکھتے اس کو
کہ دھندلے سے یہی رستے
ادھوری آگہی ہی تو
عذابِ جاں شروع سے ہیں
ہم ہی کیا مبتلائے غم
سبھی انساں شروع سے ہیں
کنارے پر پہنچنے کی ریاضت عمر بھر کی ہے
کنارے پر پہنچ کر بھی سفر نے ساتھ کب چھوڑا
ادھوری آگہی کا دکھ اکیلا ہمسفر میرا
کبھی اے کاش کچھ بولے
یہ چپ چپ سی اترتی شام
کبھی اے کاش کچھ پنچھی نہ گھر کو لوٹ کے جائیں
ہمارے پاس رہ جائیں
اک ایسا راز کہہ جائیں
جو توڑے اس گھنی چپ کو
مکمل جو ہمیں کر دے"۔۔۔۔۔۔۔۔
گرو جی — جون 7، 2008 11:26 صبح
ذہن و دل ل صفحے پہ
اس شعر کو دوبارہ تحریر فرمائیں
شکریہ اور نظم کافی لمبی تھی
مغزل — جون 7، 2008 11:51 صبح
زھرا جی ۔۔ سبحان اللہ ۔ سبحان اللہ
ماشا اللہ کیا خوب نظم ِ معرا لکھی ہے ۔۔
بلاشبہ یہ ایک خوبصورت، کیفیات اور جذبات اور معروضی حقائق پر مشتمل ایک اعلیٰ نظم ہے
میری جانب سے صمیمِ قلب سے مبارکباد،
بس جگہ املا کی غلطی رہ گئی ہے اسے مدون کرلیجئے۔
"ذہن و دل ل صفحے پہ" یہاں ذہن و دل کے صفحے پر۔۔۔ہونا چاہیئے تھا۔۔
ایک بار پھر خلوصِ نیت سے مبارکباد۔
والسلام
زھرا علوی — جون 7، 2008 2:08 شام
ذہن و دل ل صفحے پہ
اس شعر کو دوبارہ تحریر فرمائیں
شکریہ اور نظم کافی لمبی تھی

شکریہ:)
بجا فرمایا آپ نے نظم خاصی طویل ہے اور مجھے پڑھنے والے کی زحمت کا بھی اندازہ تھا۔۔۔ااور اس کے لیے معذرت:)
اب کیا کروں ہو گئی طویل بس یہ ان دنوں کی بات ہے جب اختصار سے کہنےکا ہنر آیا نہیں تھا
زھرا علوی — جون 7، 2008 2:12 شام
زھرا جی ۔۔ سبحان اللہ ۔ سبحان اللہ
ماشا اللہ کیا خوب نظم ِ معرا لکھی ہے ۔۔
بلاشبہ یہ ایک خوبصورت، کیفیات اور جذبات اور معروضی حقائق پر مشتمل ایک اعلیٰ نظم ہے
میری جانب سے صمیمِ قلب سے مبارکباد،
بس جگہ املا کی غلطی رہ گئی ہے اسے مدون کرلیجئے۔
"ذہن و دل ل صفحے پہ" یہاں ذہن و دل کے صفحے پر۔۔۔ہونا چاہیئے تھا۔۔
ایک بار پھر خلوصِ نیت سے مبارکباد۔
والسلام

بہت بہت شکریہ مغل صاحب آپ نے اتنے خوبصورت الفاظ میں تعریف فرمائی:)
گرو جی — جون 7، 2008 2:45 شام
زھرا جی ۔۔ سبحان اللہ ۔ سبحان اللہ
ماشا اللہ کیا خوب نظم ِ معرا لکھی ہے ۔۔
بلاشبہ یہ ایک خوبصورت، کیفیات اور جذبات اور معروضی حقائق پر مشتمل ایک اعلیٰ نظم ہے
میری جانب سے صمیمِ قلب سے مبارکباد،
بس جگہ املا کی غلطی رہ گئی ہے اسے مدون کرلیجئے۔
"ذہن و دل ل صفحے پہ" یہاں ذہن و دل کے صفحے پر۔۔۔ہونا چاہیئے تھا۔۔
ایک بار پھر خلوصِ نیت سے مبارکباد۔
والسلام

جناب معرا کے لفظی معنی تو بتا دیں ہماری بھی معلومات میں اظافہ ہو جائے گا
جیا راؤ — جون 7، 2008 5:04 شام
بہت خوب زھرا جی !
کیفیات اور ان کا اظہار بہت خوبصورت !
زھرا علوی — جون 7، 2008 6:18 شام
شکریہ جیا :):):)
مسٹر گرزلی — جون 7، 2008 6:24 شام
جناب معرا کے لفظی معنی تو بتا دیں ہماری بھی معلومات میں اظافہ ہو جائے گا

اس لفظ کا مادہ ع ر ی ہے۔اسی سے لفظ عریاں(یعنی کپڑوں سے آزاد) مستعمل ہے۔۔اور یہاں پر معرا بمعنی غلطی سے آزاد/خالی ہے۔
واللہ الموفق
محمد وارث — جون 9، 2008 6:27 صبح
بہت اچھی نظم ہے آپ کی زھرا علوی صاحبہ، لا جواب
تفسیر — جون 9، 2008 6:49 صبح
زھرا علوی صاحبہ آپ کی نظم پسند آئی
mfdarvesh — جون 9، 2008 6:56 صبح
زبردست شکریہ
الف عین — جون 10، 2008 5:37 صبح
ارے یہ اب تک میری نظر سے نہیں گزری؟؟؟؟
اچھی نظم ہے زہرا۔۔ پہلی ہونے کے باوجود اس میں لوئی زبان و بیان کی غلطی بھی نہیں ہے۔ کب کی تخلیق ہے یہ؟
زھرا علوی — جون 10، 2008 10:49 صبح
ارے یہ اب تک میری نظر سے نہیں گزری؟؟؟؟
اچھی نظم ہے زہرا۔۔ پہلی ہونے کے باوجود اس میں لوئی زبان و بیان کی غلطی بھی نہیں ہے۔ کب کی تخلیق ہے یہ؟

یہ نظم میں نے بی ایس سی کے پہلے سال میں اپنی زولوجی کی کلاس لیتے ہوئے کہی تھی۔۔۔
چند ایک تبدیلیاں پوسٹ کرتے ہوئے بھی کیں ہیں
فاتح — جون 10، 2008 12:00 شام
واہ۔۔۔ خوبصورت نظم ہے۔ ماشاء اللہ!
سارہ خان — جون 10، 2008 12:14 شام
اتنی خوبصورت نظم لکھنے پر مبارکباد زھرا۔۔۔:)
زھرا علوی — جون 10، 2008 12:17 شام
شکریہ سارہ :)
ایم اے راجا — جون 10، 2008 12:45 شام
زھرا صاھبہ بہت اچھی نظم ہے، جذبات کی حقیقی ترجمان، لیکن یہ بند،
"ہمارے گھر کے آنگن میں
اترتی شام ہے جب بھی
تو چاروں اور جانے کیوں
بہت خاموش سی
چپ سی
صدائیں گنگناتی ہیں
انوکھے راگ بجتے ہیں
کئی یادوں کے انگارے
کبھی جلتے ہیں

خاموش اور چپ صدائیں اور انکا گنگنانا سمجھ نہیں آیا، کیا صدائیں خاموش بھی ہو سکتی ہیں اور کیا خاموش صدائیں گنگنا بھی سکتی ہیں،

آئیں اساتذہ صاحبان سے رجوع کرتے ہیں، شکریہ۔
زھرا علوی — جون 10، 2008 12:58 شام
شاید وہ ایسی صدائیں ہیں جنھیں ہمارے کان نہیں سن سکتے ہاں دل سن سکتا ہے اسی لیے خاموش صدائیں کہا۔۔۔
بہرحال آساتذہ کی رائے یقیننا مقدم ہے
الف عین — جون 10، 2008 6:27 شام
ایک میرا ہی شعر سن لو راجا
ٹوٹی چوڑیاں جیسے بے صدا خموشی میں اک کہانی کہتی ہیں
صرف مدعا یہ ہے برف سے لباسوں میں کوئی روشنی بھر دے
شاعری میں یہ گوارا ہے۔ تصور اور تخیل کی دنیا میں ایسی ترکیبیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%A7%D9%85.12876/