"خواہشِ جستجو ،ہو تم شاید
حاصلِ آرزو ،ہو تم شائد نیم تاریک شب کی خاموشی
شام کی گفتگو ،ہو تم شاید یا تو یہ عکسِ ذات ہے میرا
یا تو پھر ہو بہ ہو ،ہو تم شاید آج پھر حرف سانس لینے لگے
آج پھر رو برو ،ہو تم شاید وہ نویدِ صبحِ بہار ہے جو
اسی رت کی نمو ،ہو تم شاید"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن علوی — جون 9، 2008 6:36 شام
بہت خوب زھرا۔ میرا شاعری کا اتنا کوئی تجربہ تو نہیں مگر آپ کا مقطع شاید کچھ تھوڑا سا وزن میں نہیں۔ نظر ثانی کیجیئے گا۔
خوبصورت کلام ہے۔ ماشاء اللہ! خصوصآ ذیل کے اشعار تو کمال ہیں:
یا تو یہ عکسِ ذات ہے میرا
یا تو پھر ہو بہ ہو ،ہو تم شائد آج پھر حرف سانس لینے لگے
آج پھر رو برو ،ہو تم شائد حسن صاحب کی بات درست ہے مقطع کے مصرع اولیٰ میں "صبح" کچھ کھٹک رہا ہے۔ "نویدِ رُخِ بہار" کیسا رہے گا؟
خوبصورت کلام ہے۔ ماشاء اللہ! خصوصآ ذیل کے اشعار تو کمال ہیں:
یا تو یہ عکسِ ذات ہے میرا
یا تو پھر ہو بہ ہو ،ہو تم شائد آج پھر حرف سانس لینے لگے
آج پھر رو برو ،ہو تم شائد حسن صاحب کی بات درست ہے مقطع کے مصرع اولیٰ میں "صبح" کچھ کھٹک رہا ہے۔ "نویدِ رُخِ بہار" کیسا رہے گا؟
ارے واقعی۔۔۔
مجھے پتہ ہی نہیں تھا۔۔۔
میں ٹھیک کرتی ہوں۔۔۔
فرخ منظور — جون 9، 2008 8:46 شام
درست املا شاید ہے اور یہ باید کے وزن پر ہے - یعنی شا-ید
گرو جی — جون 9، 2008 9:02 شام
یا تو یہ عکسِ ذات ہے میرا
یا تو پھر ہو بہ ہو ،ہو تم شائد اس شعر میں شایر وزن کی کمی ہے
یا تو یہ عکسِ ذات ہے میری
یا پھر میں، ہو بہ ہو تم شاید معافی چاہتا ہوںپر مجھے جو کمی محسوس ہوئی عرض کر دی
یا تو یہ عکسِ ذات ہے میرا
یا تو پھر ہو بہ ہو ،ہو تم شائد اس شعر میں شایر وزن کی کمی ہے
یا تو یہ عکسِ ذات ہے میری
یا پھر میں، ہو بہ ہو تم شاید معافی چاہتا ہوںپر مجھے جو کمی محسوس ہوئی عرض کر دی
پہلی بات معذرت کی قطعا ضرورت نہیں
دوسرا یہاں میرا "عکس" کی نسبت استعمال ہوا ہے"ذات" کی نسبت نہیں۔۔۔۔
لہذا یہاں "میرا" ہی درست ہے۔۔۔۔۔
الف عین — جون 10، 2008 6:37 صبح
اچھی غزل ہے زہرا۔۔ گرو نے وزن یعنی عروض کی بات کی ہے جو غلط ہے بلکہ شعر کو عروض سے آزاد بنا دیا ہے انہوں نے۔ لیکن ان کے اعتراض سے قطعِ نظر مجھے یہ محسوس ہوا کہ عکسِ ذات کی جگہ اگر ’میرا ہی عکس‘ کہو تو کیسا رہے؟
اور نویدِ صبحِ بہار بحر میں نہیں آتا اور فاتح کی اصلاح یوں تو درست لگتی ہے لیکن رخِ بہار کی ترکیب ابھی اچھی نہیں لگ رہی۔
زھرا علوی — جون 10، 2008 10:12 صبح
شکریہ اصلاح کے لیے عبید انکل
میں ان چیزوں پر غور کرتی ہوں۔۔۔
محسن حجازی — جون 10، 2008 11:01 صبح
فرخ بھائی آپ پھر وزن منظوم کی باتیں کرتے پکڑے گئے ہیں! یاد ہے ناں ہمارا جو مکالمہ ہوا تھا؟
زھرا علوی — جون 10، 2008 12:19 شام
یہ کون سے خفیہ مکالمے چل رہے ہیں یہاں
ایم اے راجا — جون 10، 2008 12:20 شام
زہرا جی بہت خوب غزل ہے یہ شعر بہت ہی خوبصورت ہے، آج پھر حرف سانس لینے لگے
آج پھر رو برو ،ہو تم شاید
یا تو یہ عکسِ ذات ہے میرا
یا تو پھر ہو بہ ہو ،ہو تم شائد اس شعر میں شایر وزن کی کمی ہے
یا تو یہ عکسِ ذات ہے میری
یا پھر میں، ہو بہ ہو تم شاید معافی چاہتا ہوںپر مجھے جو کمی محسوس ہوئی عرض کر دی