عبید انکل اب دیکھیے ذرا ان مصرعوں کو۔۔۔کیا ٹھیک ہیں یا میں نے مزید بخیئے ادھیڑ دیئے ہیں۔۔۔
جو نویدِ بہارِ نو ہے اسی
ہری رت کی نمو ہو تم شاید
یا پھر
جو بہاروں کے رخ کی یے لالی
اسی رت کی نمو ہو تم شاید
اور
یا مری ذات کا ہے یہ پرتو
یا کہ پھر ہو بہ ہو ہو تم شاید


