شام کی گفتگو ،ہو تم شائد

زھرا علوی — جون 10، 2008 12:24 شام
اچھی غزل ہے زہرا۔۔ گرو نے وزن یعنی عروض کی بات کی ہے جو غلط ہے بلکہ شعر کو عروض سے آزاد بنا دیا ہے انہوں نے۔ لیکن ان کے اعتراض سے قطعِ نظر مجھے یہ محسوس ہوا کہ عکسِ ذات کی جگہ اگر ’میرا ہی عکس‘ کہو تو کیسا رہے؟
اور نویدِ صبحِ بہار بحر میں نہیں آتا اور فاتح کی اصلاح یوں تو درست لگتی ہے لیکن رخِ بہار کی ترکیب ابھی اچھی نہیں لگ رہی۔

عبید انکل اب دیکھیے ذرا ان مصرعوں کو۔۔۔کیا ٹھیک ہیں یا میں نے مزید بخیئے ادھیڑ دیئے ہیں۔۔۔:(
جو نویدِ بہارِ نو ہے اسی
ہری رت کی نمو ہو تم شاید
یا پھر
جو بہاروں کے رخ کی یے لالی
اسی رت کی نمو ہو تم شاید
اور
یا مری ذات کا ہے یہ پرتو
یا کہ پھر ہو بہ ہو ہو تم شاید
محسن حجازی — جون 10، 2008 12:35 شام
یہ ہمارے اور فرخ بھائی کے سفارتی تعلقات جو ہیں! :grin:
ہم نے محفل پر اپنے لیے اساتذہ کا پینل زبردستی آپ ہی آپ مقرر کر رکھا ہے جس میں فرخ بھائی بھی شامل ہیں اعجاز انکل، وارث بھائی، قادری صاحب اور فاتح بھائی کے علاوہ! :grin:
زھرا علوی — جون 10، 2008 12:40 شام
زہرا جی بہت خوب غزل ہے یہ شعر بہت ہی خوبصورت ہے،
آج پھر حرف سانس لینے لگے
آج پھر رو برو ،ہو تم شاید

شکریہ راجا صاحب:)
زھرا علوی — جون 10، 2008 12:43 شام
یہ ہمارے اور فرخ بھائی کے سفارتی تعلقات جو ہیں! :grin:
ہم نے محفل پر اپنے لیے اساتذہ کا پینل زبردستی آپ ہی آپ مقرر کر رکھا ہے جس میں فرخ بھائی بھی شامل ہیں اعجاز انکل، وارث بھائی، قادری صاحب اور فاتح بھائی کے علاوہ! :grin:

ہممممم سفارتی تعلقات ہیں تو پھر خفیہ باتوں کے حوالے سرِ عام نہیں دیتے ورنہ لوگ شک میں پڑ جاتے ہیں۔۔۔
محسن حجازی — جون 10، 2008 1:17 شام
زھرا آپ کی بھی لوگوں سی باتیں؟ ویسے اس مضمون پر بھی ایک لمب ڈھینگ قسم کی غزل کہی جا سکتی ہے کہ تم بھی لوگوں سی باتیں کرتے ہو تم سے یہ تو امید نہ تھی کم سے کم ہم کو پوچھ تو لیا ہوتا نگوڑے کم بخت اللہ مارے سارے ہی ایسے ہیں جانے قیامت کب آئے گی عارض تمتمارہے ہیں زلفیں لہرا رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔:grin:
زھرا خیال تو ہم نے آپ کو دے دیا اب آپ طبع آزمائی کیجئے کہ ندرت خیال نامی سبزی غالب کے بعد ہمیں کامیابی سے اگا پائے ہیں۔:grin:
گرو جی — جون 10، 2008 1:21 شام
ہممممم سفارتی تعلقات ہیں تو ہھر خفیہ باتوں کے حوالے سرِ عام نہیں دیتے ورنہ لوگ شک میں پڑ جاتے ہیں۔۔۔

عموماً یہ حرکت حزبِ اختلاف میں‌آنے کے بعد کی جاتی ہے
زھرا علوی — جون 10، 2008 1:29 شام
زھرا آپ کی بھی لوگوں سی باتیں؟ ویسے اس مضمون پر بھی ایک لمب ڈھینگ قسم کی غزل کہی جا سکتی ہے کہ تم بھی لوگوں سی باتیں کرتے ہو تم سے یہ تو امید نہ تھی وغیرہ وغیرہ۔:grin:

جی میں بھی عام لوگوں جیسی ہی ہوں کیا کروں:chill:
ویسے آپ کو مجھ سے کیا امید تھی:rolleyes:
زھرا علوی — جون 10، 2008 1:36 شام
زھرا آپ کی بھی لوگوں سی باتیں؟ ویسے اس مضمون پر بھی ایک لمب ڈھینگ قسم کی غزل کہی جا سکتی ہے کہ تم بھی لوگوں سی باتیں کرتے ہو تم سے یہ تو امید نہ تھی کم سے کم ہم کو پوچھ تو لیا ہوتا نگوڑے کم بخت اللہ مارے سارے ہی ایسے ہیں جانے قیامت کب آئے گی عارض تمتمارہے ہیں زلفیں لہرا رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔:grin:
زھرا خیال تو ہم نے آپ کو دے دیا اب آپ طبع آزمائی کیجئے کہ ندرت خیال نامی سبزی غالب کے بعد ہمیں کامیابی سے اگا پائے ہیں۔:grin:

جی وہ تو لگ رہا ہے آپ خاصے کامیاب سبزی فروش ہیں۔۔۔۔:)
لیکن میرا موڈ اس وقت کچھ ایساہے :boxing:
لہذا اس وقت آپکی دی ہوئی سبزی پکانے کی کوشش کی تو وہ خاصی غیر ہضم قسم کی ثابت ہو سکتی ہے۔۔۔۔
محسن حجازی — جون 10، 2008 2:22 شام
اچھی طرح دھو کر پکانی چاہئے سبزی۔:( ہمیں آپ سے تو کیا کسی سے بھی کوئی امید نہیں۔
اللہ آپ کا موڈ بہتر کرے۔
دخل در معقولات کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ نیز گر کچھ برا لگا تو اس کے لیے بھی درگزر کی درخواست ہے۔
زھرا علوی — جون 10، 2008 2:29 شام
اچھی طرح دھو کر پکانی چاہئے سبزی۔:( ہمیں آپ سے تو کیا کسی سے بھی کوئی امید نہیں۔
اللہ آپ کا موڈ بہتر کرے۔
دخل در معقولات کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ نیز گر کچھ برا لگا تو اس کے لیے بھی درگزر کی درخواست ہے۔

ارے ارے آپ کس لیے معذرت خواہ ہیں ؟
فرخ منظور — جون 10، 2008 2:45 شام
فرخ بھائی آپ پھر وزن منظوم کی باتیں کرتے پکڑے گئے ہیں! :grin: یاد ہے ناں ہمارا جو مکالمہ ہوا تھا؟:(

قبلہ!
پکڑے جاتے ہیں "محفل" کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا
;)
گرو جی — جون 10، 2008 2:52 شام
واہ بات کو کہاں‌سے کہاں پہنچا دیا آپ نے
الف عین — جون 10، 2008 6:58 شام
خوب زہرا۔۔ خود ہی اچھے مصرعے لگائے ہیں تم نے۔۔ مجھے ذاتی طور پر بہاروں کے رخ والا زیادہ پسند آیا۔ وہ کچھ اس باعث بھی کہ پہلے متبادل شعر میں ’ہری رت‘ میں ’ی‘ گرنے کے بعد۔ ’ہررت‘ میں ر کی تکرار کچھ گراں گزر رہی ہے۔ میں بڑا نازک طبع واقع ہوا ہوں نا۔۔ برا نہ ماننا۔
ہو بہو والا شعر بھی اب بہت بہتر ہو گیا ہے۔ شکریہ۔۔۔
جیا راؤ — جون 10، 2008 8:07 شام
آج پھر حرف سانس لینے لگے
آج پھر رو برو ،ہو تم شاید
واہ زھرا جی۔
بہت پیارا لگا یہ شعر !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B4%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88-%D8%8C%DB%81%D9%88-%D8%AA%D9%85-%D8%B4%D8%A7%D8%A6%D8%AF.12935/page-2