صحرا صحرا دوپہریں ہیں، بادل بادل شام

محمداحمد — جون 27، 2008 8:12 صبح

غزل حاضرِ خدمت ہے۔
صحرا صحرا دوپہریں ہیں، بادل بادل شام
دل نگری کی رات اداسی، چنچل چنچل شام
ڈالی ڈالی پھول ہیں رقصاں، دریا دریا موج
تتلی تتلی نقش ہیں رنگیں، کومل کومل شام
رنگِ جنوں دل دیوانے پر دید کے پیاسے نین
تیری گلی، تیری دہلیزیں، پاگل پاگل شام
نین ہیں کس کے، یاد ہے کس کی، کس کے ہیں آنسو
کس کی آنکھوں کا تحفہ ہیں، کاجل کاجل شام
رات کی رانی، اوس کا پانی، جگنو ، سرد ہوا
مُسکاتی، خوشبو مہکاتی، جنگل جنگل شام
ڈوبتا سورج، سونا رستہ، آس کے بجھتے دیپ
مایوسی کی گرد میں لپٹی اُتری پل پل شام
رنگ سنہرا، دھوپ سا اُس کا، گیسو جیسے رات
چاند سا اُجلا اُجلا چہرہ، اُس کا آنچل شام
خواب میں جب سے آیا ہے وہ، سوچوں میں گم ہوں
کیا ہو جو تعبیر بتانے آجائے کل شام
احمد کوئی نظم سُناؤ کچھ تو وقت کٹے
تنہا تنہا دل بھی ہے اور بوجھل بوجھل شام
محمداحمد
فاتح — جون 27، 2008 8:38 صبح
بہت خوب محمد احمد صاحب۔ واہ واہ واہ۔ خوبصورت تخلیق پر مبارکباد
مقطع میں غزل کی مناسبت سے "احمد کوئی 'غزل' سناؤ" کر دیں تو کیسا رہے گا؟ خدانخواستہ یہ تنقید نہیں محض ایک رائے ہے۔
امر شہزاد — جون 27، 2008 8:39 صبح
بہت خوب!
خاص کر یہ شعر تو لاجواب ہے
ڈالی ڈالی پھول ہیں رقصاں، دریا دریا موج
تتلی تتلی نقش ہیں رنگیں، کومل کومل شام
زرقا مفتی — جون 27، 2008 10:22 صبح
بہت خوب
احمد صاحب میری جانب سے داد قبول کیجئے
والسلام
زرقا
سارہ خان — جون 27، 2008 10:33 صبح
بہت اچھی غزل ہے ۔۔ بہت خوب ۔۔
ایم اے راجا — جون 27، 2008 10:42 صبح
بہت خوب غزل ہے احمد بھائی، خاص طور پر یہ شعر،
نین ہیں کس کے، یاد ہے کس کی، کس کے ہیں آنسو
کس کی آنکھوں کا تحفہ ہیں، کاجل کاجل شام
واہ واہ کیا بات ہے واہ واہ
محمد وارث — جون 27، 2008 10:52 صبح
رنگِ جنوں دل دیوانے پر دید کے پیاسے نین
تیری گلی، تیری دہلیزیں، پاگل پاگل شام

کیا خوبصورت غزل ہے احمد صاحب، واہ واہ لاجواب۔ بہت داد قبول کیجیئے۔
میرے خیال میں، اسی بندش میں نظم کو غزل کرنے سے وزن بگڑ جائے گا، نظم میں دوسرا حرف ساکن اور غزل میں متحرک ہے۔ ویسے 'غزل' آ سکتا ہے لیکن پھر مصرعے کی بندش بدلنی پڑے گی۔
محمداحمد — جون 27، 2008 11:21 صبح
بہت خوب محمد احمد صاحب۔ واہ واہ واہ۔ خوبصورت تخلیق پر مبارکباد
مقطع میں غزل کی مناسبت سے "احمد کوئی 'غزل' سناؤ" کر دیں تو کیسا رہے گا؟ خدانخواستہ یہ تنقید نہیں محض ایک رائے ہے۔

فاتح بھائی
آپ کی پزیرائی میرے لئے باعثِ اعزاز ہے۔ آپ کی محبتوں کا ممنون ہوں۔
جیسا کہ وارث صاحب نے کہا ہے۔ غزل کی جگہ نظم بحر کی مجبوری کی وجہ سے لکھا ہے اور شاید اسی بہانے کسی نطم کا سامان بھی ہو جائے۔
بہت شکریہ!
مخلص
محمد احمد
خاورچودھری — جون 27، 2008 11:23 صبح
خوب ہے صاحب، واہ وا
محمداحمد — جون 27، 2008 11:23 صبح
بہت خوب!
خاص کر یہ شعر تو لاجواب ہے
ڈالی ڈالی پھول ہیں رقصاں، دریا دریا موج
تتلی تتلی نقش ہیں رنگیں، کومل کومل شام

امر شہزاد صاحب
بہت شکریہ! آپ کی عنایت کے لئےممنون ہوں۔
اللہ آپ کو خوش رکھے (آمین )
مخلص
محمد احمد
محمداحمد — جون 27، 2008 11:34 صبح
بہت خوب
احمد صاحب میری جانب سے داد قبول کیجئے
والسلام
زرقا

زرقا صاحبہ
بہت شکریہ آپ کے قیمتی وقت اور داد کا۔۔۔
مخلص
محمداحمد
محمداحمد — جون 27، 2008 1:06 شام
بہت اچھی غزل ہے ۔۔ بہت خوب ۔۔

بہت شکریہ سارہ صاحبہ، غزل کو آپ نے سراہا بہت ممنون ہوں۔
محمداحمد — جون 27، 2008 1:09 شام
بہت خوب غزل ہے احمد بھائی، خاص طور پر یہ شعر،
نین ہیں کس کے، یاد ہے کس کی، کس کے ہیں آنسو
کس کی آنکھوں کا تحفہ ہیں، کاجل کاجل شام
واہ واہ کیا بات ہے واہ واہ

راجہ بھائی!
غزل آپ کو پسند آئی یہ میری خوش نصیبی ہے۔ آپ کی محبت کے لئے ممنون ہوں۔
مخلص
محمد احمد
الف عین — جون 27، 2008 7:07 شام
واہ احمد ‌صاحب۔ کیا غزل نکالی ہے اور کیا زمین ہے۔۔۔
یہ بات تو درست ہے کہ ’نظم‘ کی جگہ ’غزل‘ آ سکتا تو بہتر تھا لیکن ہائے رے اوزان کی مجبوریاں!!!
محمداحمد — جون 28، 2008 7:21 صبح
رنگِ جنوں دل دیوانے پر دید کے پیاسے نین
تیری گلی، تیری دہلیزیں، پاگل پاگل شام

کیا خوبصورت غزل ہے احمد صاحب، واہ واہ لاجواب۔ بہت داد قبول کیجیئے۔
میرے خیال میں، اسی بندش میں نظم کو غزل کرنے سے وزن بگڑ جائے گا، نظم میں دوسرا حرف ساکن اور غزل میں متحرک ہے۔ ویسے 'غزل' آ سکتا ہے لیکن پھر مصرعے کی بندش بدلنی پڑے گی۔

وارث صاحب
یہ آپ کی محبت ہے کہ آپ نے میری ادنٰٰی کاوش پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیا اور اس ناچیز کی حوصلہ افزائی بھی کی - بے حد ممنون ہوں۔
ساتھ ساتھ آپ سے رہنمائی کی بھی درخواست ہے۔
مخلص
محمد احمد
محمداحمد — جون 28، 2008 7:37 صبح
خوب ہے صاحب، واہ وا

بہت شکریہ خاور صاحب!
محمداحمد — جون 30، 2008 8:13 صبح
واہ احمد ‌صاحب۔ کیا غزل نکالی ہے اور کیا زمین ہے۔۔۔
یہ بات تو درست ہے کہ ’نظم‘ کی جگہ ’غزل‘ آ سکتا تو بہتر تھا لیکن ہائے رے اوزان کی مجبوریاں!!!

بہت شکریہ اعجاز صاحب اس حوصلہ افزائی کا۔
یہ بات تو واقعی ٹھیک ہے کہ غزل میں قافیہ اور ردیف کی مجبوریوں کی وجہ سے شاعر کو سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے پر غزل پھر بھی غزل ہوتی ہے ۔ اور اس دامن کشی کم از کم میرے لئے ممکن نہیں۔
محمد بلال اعظم — جولائی 19، 2012 1:54 شام
واہ احمد بھائی
آپ کی جتنی بھی شاعری پڑھی ہے، یہ سب سے لا جواب ہے۔
جتنی داد لے سکتے ہیں لے لیجیے۔:)
محمداحمد — جولائی 19، 2012 2:11 شام
واہ احمد بھائی
آپ کی جتنی بھی شاعری پڑھی ہے، یہ سب سے لا جواب ہے۔
جتنی داد لے سکتے ہیں لے لیجیے۔:)

آپ بھی جتنی دے سکتے ہیں اس پر ہی دے دیجے کہ اب ہم سے ایسی غزلیں ہوتی نظر نہیں آتیں۔ :D
محمد بلال اعظم — جولائی 19، 2012 2:14 شام
آپ بھی جتنی دے سکتے ہیں اس پر ہی دے دیجے کہ اب ہم سے ایسی غزلیں ہوتی نظر نہیں آتیں۔ :D

ایسی باتیں نہ کریں،
مرشد اقبال نے فرمایا
پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7-%D8%B5%D8%AD%D8%B1%D8%A7-%D8%AF%D9%88%D9%BE%DB%81%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%8C-%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84-%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84-%D8%B4%D8%A7%D9%85.13501/