عشق! پھر سے مجھے نیا کر دے

ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 28، 2020 3:46 شام
ایک دو غزلہ احباب محفل کے ذوق کی نذر ہے ۔ اس میں پہلی غزل مسلسل ہے ۔ آپ اہل ذوق کی آراء اور تبصرے میرے سخن کے لئے ہمیشہ روشنی اور روشنائی کا کام دیتے ہیں ۔ امید ہے کہ آپ کو کچھ اشعار ضرور پسند آئیں گے ۔

٭٭٭
عشق پھر سے مجھے نیا کر دے
ہر بھرے زخم کو ہرا کر دے
آسرا چھین لے مسیحا کا
مجھے مرہم سے ماورا کر دے
زہر بننے لگا ہے سناٹا
شور مجھ میں کوئی بپا کر دے
میں اک آشوبِ اعتبار میں ہوں
اپنی آنکھیں مجھے عطا کر دے
ترے رستے میں ہم سفر کیسا
مجھے سائے سے بھی جدا کر دے
میں مکمل بھی ہو ہی جائوں گا
تو کسی روز ابتدا کر دے
جذبۂ شوق! انتہا کر دے
ہر تمنا کو بے صدا کر دے
قید اپنی انا کے بُت میں ہوں
کوئی توڑے مجھے رہا کر دے
عمر گزری مری کٹہرے میں
زندگی اب تو فیصلہ کر دے
قد گھٹا دے مری نظر میں مرا
یاالہٰی مجھے بڑا کر دے
فخر کرتی ہے آدمی پہ حیات
جب کسی کا کوئی بھلا کر دے
میرے سر پر نہیں رہے ماں باپ
کوئی میرے لئے دعا کر دے
ہے مبارک وہ سانحہ جو ظہیؔر
بے نواؤں کو ہم نوا کر دے
٭٭٭​

ظہیر احمد ۔۔۔۔ ۲۰۲۰
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 28، 2020 3:56 شام
آسرا چھین لے مسیحا کا
مجھے مرہم سے ماورا کر دے
زہر بننے لگا ہے سناٹا
شور مجھ میں کوئی بپا کر دے
میں اک آشوبِ اعتبار میں ہوں
اپنی آنکھیں مجھے عطا کر دے
ترے رستے میں ہم سفر کیسا
مجھے سائے سے بھی جدا کر دے
میں مکمل بھی ہو ہی جائوں گا
تو کسی روز ابتدا کر دے

قید اپنی انا کے بُت میں ہوں
کوئی توڑے مجھے رہا کر دے
عمر گزری مری کٹہرے میں
زندگی اب تو فیصلہ کر دے
قد گھٹا دے مری نظر میں مرا
یاالہٰی مجھے بڑا کر دے

ہے مبارک وہ سانحہ جو ظہیؔر
بے نواؤں کو ہم نوا کر دے
کیا کہنے ظہیر بھائی۔
لاجواب اشعار ہیں۔
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 29، 2020 3:01 صبح
کیا کہنے ظہیر بھائی۔
لاجواب اشعار ہیں۔
بہت بہت شکریہ! بہت نوازش ، تابش بھائی ! اللہ خوش رکھے ۔
تابش بھائی ، ان میں سے اکثر اشعار ایک ہی نشست کے ہیں ۔ ویسے عام طور پر تو میں اشعار لکھ کر ایک آدھ سال کے لئے پال میں لگادیتا ہوں ۔ اتنے عرصے میں ان کا حسن و قبح واضح ہوجاتا ہے اور انتخاب میں آسانی رہتی ہے ۔ لیکن یہ غزل بس کچی ہی لگا دی ۔ :):):)
عاطف ملک — اکتوبر 29، 2020 4:51 صبح
میں مکمل بھی ہو ہی جائوں گا
تو کسی روز ابتدا کر دے
کمال است
جذبۂ شوق! انتہا کر دے
ہر تمنا کو بے صدا کر دے

قید اپنی انا کے بُت میں ہوں
کوئی توڑے مجھے رہا کر دے

قد گھٹا دے مری نظر میں مرا
یاالہٰی مجھے بڑا کر دے

ہے مبارک وہ سانحہ جو ظہیؔر
بے نواؤں کو ہم نوا کر دے
واہ۔۔۔۔۔۔عمدہ کلام ہے۔بہت داد:applause:
محمد عبدالرؤوف — اکتوبر 29، 2020 4:58 صبح
ایک دو غزلہ احباب محفل کے ذوق کی نذر ہے ۔ اس میں پہلی غزل مسلسل ہے ۔ آپ اہل ذوق کی آراء اور تبصرے میرے سخن کے لئے ہمیشہ روشنی اور روشنائی کا کام دیتے ہیں ۔ امید ہے کہ آپ کو کچھ اشعار ضرور پسند آئیں گے ۔

٭٭٭
عشق پھر سے مجھے نیا کر دے
ہر بھرے زخم کو ہرا کر دے
آسرا چھین لے مسیحا کا
مجھے مرہم سے ماورا کر دے
زہر بننے لگا ہے سناٹا
شور مجھ میں کوئی بپا کر دے
میں اک آشوبِ اعتبار میں ہوں
اپنی آنکھیں مجھے عطا کر دے
ترے رستے میں ہم سفر کیسا
مجھے سائے سے بھی جدا کر دے
میں مکمل بھی ہو ہی جائوں گا
تو کسی روز ابتدا کر دے
جذبۂ شوق! انتہا کر دے
ہر تمنا کو بے صدا کر دے
قید اپنی انا کے بُت میں ہوں
کوئی توڑے مجھے رہا کر دے
عمر گزری مری کٹہرے میں
زندگی اب تو فیصلہ کر دے
قد گھٹا دے مری نظر میں مرا
یاالہٰی مجھے بڑا کر دے
فخر کرتی ہے آدمی پہ حیات
جب کسی کا کوئی بھلا کر دے
میرے سر پر نہیں رہے ماں باپ
کوئی میرے لئے دعا کر دے
ہے مبارک وہ سانحہ جو ظہیؔر
بے نواؤں کو ہم نوا کر دے
٭٭٭​

ظہیر احمد ۔۔۔۔ ۲۰۲۰
بہت خوب، ماشاء اللہ بہت خوب
مقبول — اکتوبر 29، 2020 5:09 صبح
میں مکمل بھی ہو ہی جائوں گا
تو کسی روز ابتدا کر دے
قید اپنی انا کے بُت میں ہوں
کوئی توڑے مجھے رہا کر دے
میرے سر پر نہیں رہے ماں باپ
کوئی میرے لئے دعا کر دے
بہت اعلیٰ
محمداحمد — اکتوبر 29، 2020 5:18 صبح
واہ واہ خوبصورت اشعار ہیں ظہیر بھائی!
کیا کہنے!
زہر بننے لگا ہے سناٹا
شور مجھ میں کوئی بپا کر دے
عمر گزری مری کٹہرے میں
زندگی اب تو فیصلہ کر دے
میرے سر پر نہیں رہے ماں باپ
کوئی میرے لئے دعا کر دے

لاجواب!
بہت سی داد قبول فرمائیے۔
سید عاطف علی — اکتوبر 29، 2020 6:47 صبح
کوئی توڑے مجھے رہا کر دے
واہ- کیا خوب کہا۔ ویسےاب تو دو غزلہ سہ غزلہ دیکھے سنے پڑھے مدتیں گزر جاتی ہیں ۔
سید عاطف علی — اکتوبر 29، 2020 6:52 صبح
پال میں لگادیتا ہوں
ظہیر بھائی ۔ یہ پال لگانے کی روایت بھی زمانے کی تیزی کھا گئی ۔ جیسا کہ دھیمی آنچ پر پکانے کو پریشر ککر کھاگئے ۔ :)
مین بھی غزلوں کو دھیمی آنچ پر چڑھانے کو رکھنے کا قائل ہوں کہ نسیں بھی ہڈیاں چھوڑ دیں ۔ پر اب وہ ماہ و سال کہاں ! :)
عبید انصاری — اکتوبر 29، 2020 6:55 صبح
واہ، سبھی اشعار لاجواب ہیں۔
اکمل زیدی — اکتوبر 29، 2020 6:55 صبح
ماشاءاللہ۔۔۔بہت خوب لکھا ہے۔۔۔ہر شعر ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔۔۔۔۔
اکمل زیدی — اکتوبر 29، 2020 6:56 صبح
قد گھٹا دے مری نظر میں مرا
یاالہٰی مجھے بڑا کر دے
واہ کیا کہنے۔۔۔۔
الف عین — اکتوبر 29، 2020 7:00 صبح
واہ واہ، اچھا دو غزلہ ہے۔ سمت کے لئے چھین لیتا ہوں
محمد احسن سمیع راحلؔ — اکتوبر 29، 2020 10:10 شام
قد گھٹا دے مری نظر میں مرا
یاالہٰی مجھے بڑا کر دے
کیا کہنے! بھئی واہ، سبحان اللہ ... کیا عمدہ خیال ہے
بہت عمدہ کلام ہے ظہیر بھائی، حسب معمول :)
ماشاءاللہ
جاسمن — اکتوبر 30، 2020 7:15 شام
آہ!
کس قدر خوبصورت اور مختلف سے اشعار ہیں۔ ایک سے بڑھ کے ایک۔
بہت خوب!
زبردست پہ ڈھیروں زبریں۔:)
قرۃالعین اعوان — اکتوبر 31، 2020 12:24 صبح
یعنی عشق بے نیاز
بہت ہی خوب!
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 31، 2020 1:48 صبح
کمال است
واہ۔۔۔۔۔۔عمدہ کلام ہے۔بہت داد:applause:
بڑی نوازش ، ذرہ نوازی ہے عاطف بھائی! اللہ آپ صاحبانِ ذوق کو سلامت رکھے ۔
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 31، 2020 1:49 صبح
بہت خوب، ماشاء اللہ بہت خوب
بہت بہت شکریہ عبدالرؤف بھائی ! سپاس گزار ہوں ۔
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 31، 2020 1:50 صبح
بہت نوازش ، شکریہ مقبول بھائی ! اللہ آپ کو خوش رکھے ۔
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 31، 2020 1:52 صبح
واہ واہ خوبصورت اشعار ہیں ظہیر بھائی!
کیا کہنے!
لاجواب!
بہت سی داد قبول فرمائیے۔
نوازش ہے احمد بھائی ! قدر افزائی کے لئے بہت بہت شکریہ ۔ آپ جیسے شاعرِ خوش نوا سے داد پانا باعثِ افتخار ہے ۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B9%D8%B4%D9%82-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D9%86%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%B1-%D8%AF%DB%92.113711/