غزل:پیار سارا دکھا نہیں دیں گے! (مہدی نقوی حجازؔ)

مہدی نقوی حجاز — جنوری 28، 2014 10:43 صبح
غزل (تازہ)
پیار سارا دکھا نہیں دیں گے
ہم تمہیں آسرا نہیں دیں گے
تم ہمیں پیارے ہو سو ہم تم کو
جینے کی بد دعا نہیں دیں گے
ہم سے جاں مانگی اس فرشتے نے
اور ہم نے کہا نہیں دیں گے
اس کو جاں دے کے اس سے دل چاہا
اور صنم نے کہا نہیں دیں گے!
آسمانی ہیں، ہم کو چھیڑو گے!؟
کیا زمیں کو ہلا نہیں دیں گے!
ہم سخی ہیں، رضائے رب مانگو
کیا سمجھتے ہو؟ کیا نہیں دیں گے؟
ہم پیمبر کی آل میں سے ہیں
کیسے بوئے خدا نہیں دیں گے؟
بندے تیرے ہیں اور تو یار اپنا
یار کو ہم دغا نہیں دیں گے
آسماں ٹوٹے میرے دشمن پر
ہم زمینی سزا نہیں دیں گے
ہم بھی حضرت حجازؔ ہیں، مالک!
جان ہم بے بہا نہیں دیں گے
مہدی نقوی حجازؔ
عندلیب — جنوری 28، 2014 10:45 صبح
عمدہ !!
مہدی نقوی حجاز — جنوری 28، 2014 10:48 صبح
آداب، بہت شکریہ۔
نیرنگ خیال — جنوری 28، 2014 11:30 صبح
تم ہمیں پیارے ہو سو ہم تم کو
جینے کی بد دعا نہیں دیں گے
واہ۔۔۔ کیا خوبصورت غزل ہے۔۔ لاجواب حضور۔۔ بہت سی داد قبول فرمائیے۔۔۔
اس کو جاں دے کے اس سے دل چاہا
اور سنم نے کہا نہیں دیں گے!
یہ "سنم" کا کیا مطلب ہے۔۔ میں نے یہ لفظ پہلی بار پڑھا ہے۔
مہدی نقوی حجاز — جنوری 28، 2014 11:33 صبح
تم ہمیں پیارے ہو سو ہم تم کو
جینے کی بد دعا نہیں دیں گے
واہ۔۔۔ کیا خوبصورت غزل ہے۔۔ لاجواب حضور۔۔ بہت سی داد قبول فرمائیے۔۔۔
اس کو جاں دے کے اس سے دل چاہا
اور سنم نے کہا نہیں دیں گے!
یہ "سنم" کا کیا مطلب ہے۔۔ میں نے یہ لفظ پہلی بار پڑھا ہے۔
جناب بہت شکریہ۔ بہت محبت۔
یہ "سنم" در اصل ٹائپو زدہ "صنم" ہے۔ :) تدوین شدہ!
مقدس — جنوری 28، 2014 12:16 شام
واہ واہ واہ
ابن رضا — جنوری 28، 2014 12:25 شام
واہ واہ کیا بات ہے جناب بہت خوب۔شاد رہیں
اس شعر پہ ذرا نظر فرمالیں کہ میرا اور ہم کا امتزاج ہے یہاں
آسماں ٹوٹے میرے دشمن پر
ہم زمینی سزا نہیں دیں گے
اور اس شعر کی ذرا صراحت سے وضاحت فرما دیں
ہم سخی ہیں، رضائے رب مانگو (یہاں سخاوتِ ذاتی کی بات ہے بمعنی ہم اور مانگنےکے لیے رضائے رب کہا جا رہا ہے۔)
کیا سمجھتے ہو؟ کیا نہیں دیں گے؟ (لاجواب)
تمام ابیات میں آپ نے تم سے تکلم فرمایا ہے سوائے اس شعر کے
بندے تیرے ہیں اور تو یار اپنا
یار کو ہم دغا نہیں دیں گ
نایاب — جنوری 28، 2014 4:19 شام
واہہہہہہہہہہہہہہہ
بہت خوب
بہت سی دعاؤں بھری داد ۔۔۔۔۔۔
یہ "دعوی دوستی " تو دل کے تار چھیڑ گیا ۔ محترم نقوی بھائی
بندے تیرے ہیں اور تو یار اپنا
یار کو ہم دغا نہیں دیں گے
مزمل شیخ بسمل — جنوری 28، 2014 4:27 شام
بہت خوب۔ کیا بات ہے۔
ماہی احمد — جنوری 28، 2014 4:42 شام
بہت عمدہ! :)
مہدی نقوی حجاز — جنوری 28، 2014 4:49 شام
آداب! سلامت رہیں!
مہدی نقوی حجاز — جنوری 28، 2014 4:52 شام
واہ واہ کیا بات ہے جناب بہت خوب۔شاد رہیں
اس شعر پہ ذرا نظر فرمالیں کہ میرا اور ہم کا امتزاج ہے یہاں
آسماں ٹوٹے میرے دشمن پر
ہم زمینی سزا نہیں دیں گے
اور اس شعر کی ذرا صراحت سے وضاحت فرما دیں
ہم سخی ہیں، رضائے رب مانگو (یہاں سخاوتِ ذاتی کی بات ہے بمعنی ہم اور مانگنےکے لیے رضائے رب کہا جا رہا ہے۔)
کیا سمجھتے ہو؟ کیا نہیں دیں گے؟ (لاجواب)
تمام ابیات میں آپ نے تم سے تکلم فرمایا ہے سوائے اس شعر کے
بندے تیرے ہیں اور تو یار اپنا
یار کو ہم دغا نہیں دیں گ
محبت حضور! :)
شترگربہ متکلم میں لاگو نہیں ہوتا جناب، یعنی میں، ہم (میرے ہمارے) دونوں کا استعمال ایک ہی شعر میں جائز ہے۔
شعر کی وضاحت چاہی ہے تو عرض ہے کہ وہی:
بات بین السطور ہوتی ہے
شعر میں حاشیہ نہیں ہوتا
توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک اشارہ یہ ہے کہ ہم رضائے الٰہی کے مالک ہیں۔ یعنی ہم جس سے خوش ہیں رب اس سے راضی۔
مہدی نقوی حجاز — جنوری 28، 2014 4:53 شام
واہہہہہہہہہہہہہہہ
بہت خوب
بہت سی دعاؤں بھری داد ۔۔۔ ۔۔۔
یہ "دعوی دوستی " تو دل کے تار چھیڑ گیا ۔ محترم نقوی بھائی
بندے تیرے ہیں اور تو یار اپنا
یار کو ہم دغا نہیں دیں گے
سرکار بہت محبت، مسلسل خیر۔
مہدی نقوی حجاز — جنوری 28، 2014 4:54 شام
بہت خوب۔ کیا بات ہے۔
شکریہ جناب۔ آداب! :)
مہدی نقوی حجاز — جنوری 28، 2014 4:54 شام
بہت آداب محترمہ! :)
الف عین — جنوری 29، 2014 2:28 صبح
خوب غزل کہی ہے۔ لیکن حاصل غزل شعر میں حروف کا حذف ہونا اچھا نہیں لگ رہا۔ درست تو ہے۔۔ جینے اور پیارے کی ’ےُ کا اسقاط ناگوار ہوا مجھے تو۔
محمد بلال اعظم — جنوری 29، 2014 2:46 صبح
واہ واہ مہدی بھائی
اس خوبصورت غزل پہ ڈھیروں داد
لا جواب
بہت مزہ آیا پڑھ کے۔
مہدی نقوی حجاز — جنوری 29، 2014 8:33 صبح
خوب غزل کہی ہے۔ لیکن حاصل غزل شعر میں حروف کا حذف ہونا اچھا نہیں لگ رہا۔ درست تو ہے۔۔ جینے اور پیارے کی ’ےُ کا اسقاط ناگوار ہوا مجھے تو۔
تعریف کے لیے شکریہ جناب۔ میں دیکھتا ہوں اس شعر کو۔
مہدی نقوی حجاز — جنوری 29، 2014 8:34 صبح
واہ واہ مہدی بھائی
اس خوبصورت غزل پہ ڈھیروں داد
لا جواب
بہت مزہ آیا پڑھ کے۔
بہت شکریہ، شاد و آباد رہیں۔ مسلسل خیر۔
محمد علم اللہ — جنوری 29، 2014 10:11 صبح
بندے تیرے ہیں اور تو یار اپنا
یار کو ہم دغا نہیں دیں گے
دل جیت لیا آپ نے تو سرکار
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%D8%B3%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92-%D9%85%DB%81%D8%AF%DB%8C-%D9%86%D9%82%D9%88%DB%8C-%D8%AD%D8%AC%D8%A7%D8%B2%D8%94.71620/