غزل:- مثلِ روشن سحر نکھرتے ہیں

محمد تابش صدیقی — مارچ 16، 2016 5:56 صبح
ویسے تو یہ غزل اصلاح ِ سخن میں پوسٹ کر چکا ہوں۔ مگر اب جبکہ ابن رضا بھائی اور استادِ محترم الف عین صاحب کی مہربانی سے درست ہو چکی ہے، تو سوچا کہ یہاں بھی ٹانک دیتا ہوں۔
احبابِ محفل کی بصارتوں کی نذر میری پہلی خالص کاوش:
مثلِ روشن سحر نکھرتے ہیں
عشق کی راہ میں جو مرتے ہیں
یاد اس کی سمیٹ لیتی ہے
جب بھی ہم ٹوٹ کر بکھرتے ہیں
دوستوں کو فریب دے کر ہم
کیوں بھروسے کا خون کرتے ہیں
جھوٹ ہے مصلحت کے پردے میں
دُور سے سچ کے ہم گزرتے ہیں
پیرویِ نبیؐ تو عنقا ہے
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں
ہے یہ احساں اسی کا اے تابشؔ
کہ بگڑ کر جو ہم سنورتے ہیں
ابن رضا — مارچ 16، 2016 6:03 صبح
پیرویِ نبیؐ تو عنقا ہے
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں
ہے یہ احساں اسی کا اے تابشؔ
کہ بگڑ کر جو ہم سنورتے ہیں

واہ محترمی ! سبحان اللہ۔۔۔۔ بہت عمدہ خیالات سے مزین فرمایا ہے آپ نے اس غزل کو۔ جزاکم اللہ خیرا
کاشف اختر — مارچ 16، 2016 7:08 صبح
واہ۔واہ بہت خوب کیا تابش بھائی! بہت عمدہ!
محمد تابش صدیقی — مارچ 16، 2016 8:43 صبح
واہ محترمی ! سبحان اللہ۔۔۔۔ بہت عمدہ خیالات سے مزین فرمایا ہے آپ نے اس غزل کو۔ جزاکم اللہ خیرا
آپ کی محبتوں پر سپاس گزار ہوں۔
نیرنگ خیال — مارچ 16، 2016 8:45 صبح
اعلیٰ۔۔۔ بہت خوب
محمد تابش صدیقی — مارچ 16، 2016 8:45 صبح
واہ۔واہ بہت خوب کیا تابش بھائی! بہت عمدہ!
پسندیدگی پر ممنون ہوں۔ آداب، کاشف بھائی
محمد تابش صدیقی — مارچ 16، 2016 8:52 صبح
آداب۔ بہت شکریہ جناب۔
اب آپ نے شاعروں جیسا کہہ ہی دیا تھا تو میں نے سوچا کب تک لوگوں کی توقعات پر شرمندہ ہوتا رہوں گا۔ رجسٹری کروا لوں۔ :p
اکمل زیدی — مارچ 16، 2016 9:42 صبح
او ...ہوو ...تابش صاحب کیا بات ہے یہ تو ابھی نظر آئی کیا بات ہے ...بھائی ...خوب کہی ...
محمد تابش صدیقی — مارچ 16، 2016 11:51 صبح
او ...ہوو ...تابش صاحب کیا بات ہے یہ تو ابھی نظر آئی کیا بات ہے ...بھائی ...خوب کہی ...
شکریہ اکمل بھائی، آپ کی محبت ہے۔
نور وجدان — مارچ 16، 2016 1:08 شام
اعلیٰ جناب ۔۔۔ خوب ہے منظوم
محمد وارث — مارچ 16، 2016 1:23 شام
خوب غزل ہے صدیقی صاحب، لاجواب۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 16، 2016 2:08 شام
اعلیٰ جناب ۔۔۔ خوب ہے منظوم
بہت شکریہ بہن. پسندیدگی پر ممنون ہوں.
محمد تابش صدیقی — مارچ 16، 2016 2:09 شام
خوب غزل ہے صدیقی صاحب، لاجواب۔
بہت شکریہ محترم. آپ کی طرف سے داد مل گئی، گویا اعلیٰ نمبروں سے پاس ہو گیا. :)
نیرنگ خیال — مارچ 17، 2016 7:03 صبح
آداب۔ بہت شکریہ جناب۔
اب آپ نے شاعروں جیسا کہہ ہی دیا تھا تو میں نے سوچا کب تک لوگوں کی توقعات پر شرمندہ ہوتا رہوں گا۔ رجسٹری کروا لوں۔ :p
بہت اچھا کیا نا۔۔۔۔ فائدہ ہوگیا۔۔۔۔ اب جب لوگ نکما کہیں گے تو دکھ نہیں ہوگا۔۔۔ کیوں کہ وجہ سب نے یہی دینی ہے۔۔۔ شاعری کرتا ہے جی۔۔۔ :p
ظہیراحمدظہیر — مارچ 21، 2016 4:10 صبح
ہائیں! یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں تابش بھائی؟!:)
یعنی ہم ٹھیک ہی کہتے تھے ۔ لاکھ انکار کے باوجود پکڑے ہی گئے نا آپ آخر۔ :):):)
مذاق برطرف! غزل اچھی ہے ۔ بہت داد آپ کے لئے ۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 21، 2016 6:00 صبح
ہائیں! یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں تابش بھائی؟!:)
یعنی ہم ٹھیک ہی کہتے تھے ۔ لاکھ انکار کے باوجود پکڑے ہی گئے نا آپ آخر۔ :):):)
مذاق برطرف! غزل اچھی ہے ۔ بہت داد آپ کے لئے ۔
آپ کی طرف سے داد پا کر بہت خوشی ہوئی۔
بس یہ آپ لوگ گھیر گھار کر لے آئے ہیں۔
پچھلے کچھ ماہ میں اتنی شاعری پڑھی اور لکھی ہے کہ اتنی تو آ ہی جانی چاہئے تھی۔ :)
من — مارچ 24، 2016 4:44 شام
ویسے تو یہ غزل اصلاح ِ سخن میں پوسٹ کر چکا ہوں۔ مگر اب جبکہ ابن رضا بھائی اور استادِ محترم الف عین صاحب کی مہربانی سے درست ہو چکی ہے، تو سوچا کہ یہاں بھی ٹانک دیتا ہوں۔
احبابِ محفل کی بصارتوں کی نذر میری پہلی خالص کاوش:
مثلِ روشن سحر نکھرتے ہیں
عشق کی راہ میں جو مرتے ہیں
یاد اس کی سمیٹ لیتی ہے
جب بھی ہم ٹوٹ کر بکھرتے ہیں
دوستوں کو فریب دے کر ہم
کیوں بھروسے کا خون کرتے ہیں
جھوٹ ہے مصلحت کے پردے میں
دُور سے سچ کے ہم گزرتے ہیں
پیرویِ نبیؐ تو عنقا ہے
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں
ہے یہ احساں اسی کا اے تابشؔ
کہ بگڑ کر جو ہم سنورتے ہیں
زبردست
محمد تابش صدیقی — مارچ 24، 2016 5:49 شام
پسندیدگی پر ممنون ہوں منصورہ بہن۔
نایاب — مارچ 25، 2016 5:51 شام
پیرویِ نبیؐ تو عنقا ہے
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں
حق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلاشبہ بہت خوبصورت غزل
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
ہادیہ — مارچ 25، 2016 5:57 شام
بہت عمدہ:)
بہت خوب:)
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%D8%AB%D9%84%D9%90-%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86-%D8%B3%D8%AD%D8%B1-%D9%86%DA%A9%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.88667/