غزل:- مثلِ روشن سحر نکھرتے ہیں

محمد تابش صدیقی — مارچ 25، 2016 7:14 شام
حق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلاشبہ بہت خوبصورت غزل
بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
محبت ہے آپ کی نایاب بھائی۔
بڑے عرصے بعد آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 25، 2016 7:15 شام
بہت شکریہ ہادیہ بہن۔
محمداحمد — مارچ 26، 2016 2:05 شام
ارے واہ۔۔۔! یعنی آپ بھی شعر کہتے ہیں۔
ماشاءاللہ۔ ویسے ایسا اچھا ذوق کسی شاعر کا ہی ہو سکتا ہے یا یوں کہہ لیجے کہ ایسے اچھے ذوق والے کو شاعری کیا دشوار ہے۔
ماشاءاللہ۔
اللہ کرے زورِ قلم، مشقِ سخن تیز!
پیرویِ نبیؐ تو عنقا ہے
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں

اس اچھے شعر پر اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمیں اس کے پیغام پر سوچنے سمجھنے اور بعد ازاں اخذ کردہ عمل کی توفیق! آمین یا رب العالمین۔
محمد تابش صدیقی — مارچ 26، 2016 3:21 شام
ارے واہ۔۔۔! یعنی آپ بھی شعر کہتے ہیں۔
ماشاءاللہ۔ ویسے ایسا اچھا ذوق کسی شاعر کا ہی ہو سکتا ہے یا یوں کہہ لیجے کہ ایسے اچھے ذوق والے کو شاعری کیا دشوار ہے۔
ماشاءاللہ۔
اللہ کرے زورِ قلم، مشقِ سخن تیز!
اس اچھے شعر پر اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمیں اس کے پیغام پر سوچنے سمجھنے اور بعد ازاں اخذ کردہ عمل کی توفیق! آمین یا رب العالمین۔
آمین۔ جزاک اللہ احمد بھائی۔
بس یہاں محفل پر آپ اور دیگر معقول شعراء کی شاعری اور شاعری کے رموز پڑھ پڑھ کر ہی کچھ خیالات شعر کی صورت میں بن گئے۔ پھر اساتذہ کی مہربانی سے تھوڑا نکھر گئے۔ :)
ہادیہ — مارچ 26، 2016 3:28 شام
بہت شکریہ ہادیہ بہن۔
شکریہ سر جی:)
محمدظہیر — مارچ 26، 2016 5:07 شام
مثلِ روشن سحر نکھرتے ہیں
عشق کی راہ میں جو مرتے ہیں
واہ بہت خوب : )
محمد تابش صدیقی — مارچ 27، 2016 4:05 شام
آداب ۔ ظہیر بھائی
قمرآسی — اپریل 5، 2016 7:58 شام
ویسے تو یہ غزل اصلاح ِ سخن میں پوسٹ کر چکا ہوں۔ مگر اب جبکہ ابن رضا بھائی اور استادِ محترم الف عین صاحب کی مہربانی سے درست ہو چکی ہے، تو سوچا کہ یہاں بھی ٹانک دیتا ہوں۔
احبابِ محفل کی بصارتوں کی نذر میری پہلی خالص کاوش:
مثلِ روشن سحر نکھرتے ہیں
عشق کی راہ میں جو مرتے ہیں
یاد اس کی سمیٹ لیتی ہے
جب بھی ہم ٹوٹ کر بکھرتے ہیں
دوستوں کو فریب دے کر ہم
کیوں بھروسے کا خون کرتے ہیں
جھوٹ ہے مصلحت کے پردے میں
دُور سے سچ کے ہم گزرتے ہیں
پیرویِ نبیؐ تو عنقا ہے
ہم محبت کا دم ہی بھرتے ہیں
ہے یہ احساں اسی کا اے تابشؔ
کہ بگڑ کر جو ہم سنورتے ہیں
بہت اعلیٰ
فرخ نوازفرخ ۔ صوابی — اپریل 6، 2016 4:12 صبح
بہت اعلیٰ جناب۔
محمد تابش صدیقی — اپریل 6، 2016 4:16 صبح
بہت شکریہ قمر بھائی
پسندیدگی پر ممنون ہوں فرخ بھائی
سید شہزاد ناصر — اپریل 7، 2016 7:59 شام
ماشاءاللہ ☺
بہت خوب کلام
داد حاضر ہے
شاد و آباد رہیں
محمد تابش صدیقی — اپریل 8، 2016 7:05 صبح
ماشاءاللہ ☺
بہت خوب کلام
داد حاضر ہے
شاد و آباد رہیں
بہت شکریہ شاہ صاحب۔ پسندیدگی پر ممنون ہوں۔ آداب
محمد یعقوب آسی — اپریل 8، 2016 7:10 صبح
مضمون اور خیال کی خوبی سے شعر کی خوبی تک کچھ اور مراحل بھی ہوتے ہیں۔
مثلِ روشن سحر نکھرتے ہیں
عشق کی راہ میں جو مرتے ہیں
مطلع پر پھر سے توجہ فرمائیے گا۔ ترکیب بنانے میں فارسی اسلوب یا اردو اسلوب کسی ایک کو اپنائیے، دونوں کو ملا دینا درست نہیں ہے۔
یا تو "مثلِ سحرِ روشن" ہو یا "روشن سحر کی مثل" یا پھر "سحرِ روشن کی مثل"۔
محمد تابش صدیقی — اپریل 8، 2016 7:16 صبح
مضمون اور خیال کی خوبی سے شعر کی خوبی تک کچھ اور مراحل بھی ہوتے ہیں۔
مطلع پر پھر سے توجہ فرمائیے گا
محترم آپ کےتوجہ فرمانے پر ممنون ہوں۔
جیسا کہ میں نے آغاز میں لکھا کہ یہ میری پہلی کاوش ہے، لہٰذا اس میں کئی سقم ہو سکتے ہیں۔
مجھے خوشی ہو گی اگر آپ تفصیل سے اس غزل کا پوسٹ مارٹم کریں۔
اور اپنا نقطۂ نظر وضاحت سے بیان کر دیں، تاکہ میں کچھ اچھا سیکھ سکوں۔ جزاک اللہ
محمد تابش صدیقی — اپریل 8، 2016 7:32 صبح
ترکیب بنانے میں فارسی اسلوب یا اردو اسلوب کسی ایک کو اپنائیے، دونوں کو ملا دینا درست نہیں ہے۔
یا تو "مثلِ سحرِروشن" ہو یا "روشن سحر کی مثل" یا پھر "سحرِ روشن کی مثل"۔
اگر مصرع تبدیل کر کے یوں کر لوں:
مثلِ خورشید وہ ابھرتے ہیں
محمد یعقوب آسی — اپریل 8، 2016 10:43 صبح
اگر مصرع تبدیل کر کے یوں کر لوں:
مثلِ خورشید وہ ابھرتے ہیں
مناسب ہے، بہر کیف دوسرے آپشن بھی دیکھ لیجئے۔
یاد رکھنے کی ایک بات! خود تنقیدی، ترمیم وغیرہ میں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔ اپنے اشعار کے ساتھ کچھ وقت گزاریئے: ہفتہ، ڈیڑھ ہفتہ، مہینہ حتیٰ کہ بات برسوں تک بھی جا سکتی ہے۔ جہاں کوئی بہتر اظہار سوجھ جائے اس کو اختیار کر لیجئے۔ میں تو اس میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا، احباب جانتے ہیں کہ میں نے ایک دو مقامات پر بیس برس بعد بھی ترمیم کی ہے۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 8، 2016 10:45 صبح
محترم آپ کےتوجہ فرمانے پر ممنون ہوں۔
جیسا کہ میں نے آغاز میں لکھا کہ یہ میری پہلی کاوش ہے، لہٰذا اس میں کئی سقم ہو سکتے ہیں۔
مجھے خوشی ہو گی اگر آپ تفصیل سے اس غزل کا پوسٹ مارٹم کریں۔
اور اپنا نقطۂ نظر وضاحت سے بیان کر دیں، تاکہ میں کچھ اچھا سیکھ سکوں۔ جزاک اللہ
نہیں بھائی! پوسٹ مارٹم بہت نامناسب لفظ ہے۔ تجاویز کہہ لیجئے! کہ رد و قبول کا اختیار بہر حال شاعر کے پاس ہوتا ہے۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 8، 2016 10:48 صبح
کسی وقت میری یہ گزارشات دیکھ لیجئے گا۔
محمد تابش صدیقی صاحب
محمد تابش صدیقی — اپریل 8، 2016 10:58 صبح
ضرور ان شاء اللہ۔
جزاک اللہ
سعیدالرحمن سعید — اپریل 8، 2016 1:26 شام
بہت خوب تابش بھائی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%D8%AB%D9%84%D9%90-%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86-%D8%B3%D8%AD%D8%B1-%D9%86%DA%A9%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.88667/page-2