منہاج صاحب ، سلام عرض ہے !
آپ کی غزل نظر نواز ہوئی اور پسند آئی . آپ نے عمدہ بندشیں استعمال کی ہیں . میری دلی داد قبول فرمائیے .
میں بند قبا والے شعر پر ذرا چونک گیا تھا . پِھر احباب كے خطوط سے معلوم ہوا کہ یہ ردّ عمل صرف میرا نہیں تھا . آپ نے فاخر صاحب کو اپنے جوابات میں اِس شعر كے دفاع میں کچھ حوالے اور دلائل عنایت فرمائے ہیں . اگر آپ یہ کہتے کہ بطور شاعر آپ کا حق ہے کہ جس مضمون پر چاہیں شعر کہیں تو بات یہیں ختم ہو جاتی . لیکن آپ نے اوروں کی مثالیں دے کر بحث کا دروازہ بند قبا کی طرح وا کر دیا ہے .

میں آپ کے ارشادات پر کچھ عرض کرنا چاہونگا . اِس کم عمری میں آپ کا وسیع مطالعہ اور زبان پر قدرت قابل تعریف ہے . مجھے یقین ہے کہ میری گزارشات آپ كے شعری سفر میں مفید ثابت ہونگی .
آپ كے شعر کا مفہوم سامنے کا ہے اور میرے خیال میں آپ نے کوئی گہری بات کہنے کی کوشش نہیں کی ہے . فاخر صاحب کو آپ كے جواب سے اِس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے . یہاں سب سے پہلے تو یہ عرض ہے کہ حُسْن اور عشق كے معاملے میں شعر میں خوبصورتی کنائے اور اشارے سے پیدا ہوتی ہے . اگر سب کچھ صاف صاف کہہ دیا جائے تو دلکشی ختم ہو جاتی ہے . آپ نے غالب اور میر كے اشعار بطور مثال عنایت فرمائے ہیں . غور کیجیے کہ دونوں اشعار میں کسی وصل کا ذکر نہیں ہے اور عاشق محبوب كے حُسْن کا تصور کر رہا ہے . غرض یہ کہ یہاں ایک فاصلہ ہے جس کا اہتمام آپ كے شعر میں نہیں کیا گیا . میرے خیال میں ہمارا معاشرہ ابھی وصل كے علانیہ ذکر كے لیے تیار نہیں ہے . شاید اسی وجہ سے کچھ قارئین پر یہ شعر گراں گزرا .
آپ کا یہ قول بجا ہے کہ میر كے یہاں گرافک اشعار کی کئی مثالیں ہیں . لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ یہ اشعار میر كے نمائندہ اشعار تسلیم نہیں کیے جاتے . میر کو خدائے سخن کا لقب ان اشعار کی وجہ سے نہیں ملا . میر کی جب مثال دی جاتی ہے تو ان شعروں کا ذکر نہیں ہوتا . غرض یہ کہ اگر آپ کو یادگار اور مثالی شعر تخلیق کرنے کی آرزو ہے تو ایسے مضامین سے شاید یہ ممکن نہیں ہو گا .
آپ نے فرمایا ہے کہ اچھے شعر کا پیمانہ خیال نہیں، زبان و بیان ہے . میری ناچیز رائے میں آپ کو اِس دعوے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے . خیال کا شعر كے حُسْن میں اتنا ہی ہاتھ ہے جتنا زبان و بیان کا . اس ضمن میں مرزا یاس یگانہ کا یہ قول ملاحظہ فرمائیے جو انہوں نے اپنی کتاب ’چراغِ سخن‘ میں رقم کیا ہے: ’شعر كے لیے مقتضائے معنی سب سے پہلی اور ضروری شرط ہے . اِس بنا پر كلام مخیّل و موزوں کا نام شعر ہے .‘
ویسے اِس شعر میں زبان كے علاوہ آپ کو گرمئ انفاس سے بند قبا وا کرنے کی ترکیب پر داد دیتا ہوں . تصور کی یہ پرواز اگر کسی نسبتاََ کم خطرناک مضمون میں نظر آئے تو شاید اثر کچھ اور ہو گا .

مجھے علم ہے کہ ہلال نقوی صاحب نے آپ كے اِس شعر کو پسند فرمایا ہے . میں ان کی رائے کا اِحْتِرام کرتا ہوں ، لیکن میری گزارش ہے کہ آپ میری رائے کو صرف اِس کی مناسبت کی روشنی میں دیکھیں ، کسی اور کی پسند كے تناظر میں نہیں .
نیازمند،
عرفان عابدؔ