غزل: بات جو کہنی نہیں تھی کہہ گئے ٭ محمد تابش صدیقی

محمد تابش صدیقی — اکتوبر 4، 2017 11:25 صبح
ایک کاوش احباب کے ذوق کی نذر اور نقد و تبصرہ کے لیے حاضر
بات جو کہنی نہیں تھی کہہ گئے
اشک جو بہنے نہیں تھے بہہ گئے
راہِ حق ہر گام ہے دشوار تر
کامراں ہیں وہ جو ہنس کر سہہ گئے
زندگی میں زندگی باقی نہیں
جستجو اور شوق پیچھے رہ گئے
سعیِ پیہم جس نے کی، وہ سرخرو
ہم فقط باتیں ہی کرتے رہ گئے
اے خدا! دل کی زمیں زرخیز کر
ابرِ رحمت تو برس کر بہہ گئے
شاد رہنا ہے جو تابشؔ، شاد رکھ
بات یہ آباء ہمارے کہہ گئے

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
ہادیہ — اکتوبر 4، 2017 11:39 صبح
آخری نصیحت "ابا حضور" نے اچھی کی ۔۔۔اچھی ہے
ایک ہمارے@محمد احمد بھیا ہوتے تھے جن کو کچھ نکما شاعری نے بنا دیا باقی کی کسر اب پوری ہوگئی۔۔ ان کی شادی کی صورت میں۔۔ :(
محمد عدنان اکبری نقیبی — اکتوبر 4، 2017 11:41 صبح
واہ واہ بھائی زبردست ۔کافی دنوں بات آپ کی غزل آئی ہے۔ایسے ہی اپنی خوبصورت کاوشیں پیش کرتے رہیں اور ڈھیروں داد سمیٹتے رہیں۔:)
عینی مروت — اکتوبر 4، 2017 11:48 صبح
راہِ حق ہر گام ہے دشوار تر
کامراں ہیں وہ جو ہنس کر سہہ گئے
زندگی میں زندگی باقی نہیں
جستجو اور شوق پیچھے رہ گئے

کیا خوووووب جناب ۔۔۔۔بہت سی داد (y)
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 4، 2017 12:50 شام
آخری نصیحت "ابا حضور" نے اچھی کی ۔۔۔اچھی ہے
نصیحت ابا حضور کی نہیں، آباء کی یعنی بزرگوں کی ہے۔ :)
ایک ہمارے@محمد احمد بھیا ہوتے تھے جن کو کچھ نکما شاعری نے بنا دیا باقی کی کسر اب پوری ہوگئی۔۔ ان کی شادی کی صورت میں۔۔ :(
اسی لیے میں نے شادی کے بعد شاعری شروع کی۔ :p
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 4، 2017 12:52 شام
واہ واہ بھائی زبردست ۔کافی دنوں بات آپ کی غزل آئی ہے۔ایسے ہی اپنی خوبصورت کاوشیں پیش کرتے رہیں اور ڈھیروں داد سمیٹتے رہیں۔:)
بہت شکریہ عدنان بھائی۔ اب شاعر تو ہوں نہیں کہ روز روز غزل لکھ ڈالوں۔
کبھی کوئی احساس گزر جائے اور چار سطریں سیدھی ہو جائیں، تو اساتذہ کی محنت شامل کر کے اس کو غزل کا نام دے دیتا ہوں۔ :)
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 4، 2017 12:52 شام
کیا خوووووب جناب ۔۔۔۔بہت سی داد (y)
بہت شکریہ بہن۔
سید عمران — اکتوبر 4، 2017 12:53 شام
بات جو کہنی نہیں تھی کہہ گئے
ارے بھائی آپ تو جو بات کہنی ہوتی ہے وہ بھی نہیں کہتے۔۔۔
چپ چاپ درگزر کرجاتے ہیں!!!
ویسے ہر شعر اچھا ہے۔۔۔
خصوصاً نصیحت آمیز مقطع!!!
محمد عدنان اکبری نقیبی — اکتوبر 4، 2017 12:56 شام
بہت شکریہ عدنان بھائی۔ اب شاعر تو ہوں نہیں کہ روز روز غزل لکھ ڈالوں۔
کبھی کوئی احساس گزر جائے اور چار سطریں سیدھی ہو جائیں، تو اساتذہ کی محنت شامل کر کے اس کو غزل کا نام دے دیتا ہوں۔ :)
بھائی ہم نے کب آپ کو شاعر کے خطاب سے نواز ہے لیکن آپ کی کاوشیں بھی اساتذہ کی استادیوں سے کم نہیں۔:LOL:
محمد وارث — اکتوبر 4، 2017 12:57 شام
قافیہ تنگ ہے، اشعار اچھے ہیں، بہت خوب! :)
فرحان محمد خان — اکتوبر 4، 2017 1:14 شام
واہ واہ واہ بہت خوب
اے خان — اکتوبر 4، 2017 1:54 شام
بہت خوب :redheart::redheart:
یوسف سلطان — اکتوبر 4، 2017 2:14 شام
سعیِ پیہم جس نے کی، وہ سرخرو
ہم فقط باتیں ہی کرتے رہ گئے
اے خدا! دل کی زمیں زرخیز کر
ابرِ رحمت تو برس کر بہہ گئے
شاد رہنا ہے جو تابشؔ، شاد رکھ
بات یہ آبا ہمارے کہہ گئے
بہت عمدہ
فرقان احمد — اکتوبر 4، 2017 2:22 شام
خوب صورت غزل پر بے پناہ داد! قبول فرمائیے گا! :)
محمد عدنان اکبری نقیبی — اکتوبر 4، 2017 2:27 شام
شاد رہنا ہے جو تابشؔ، شاد رکھ
بات یہ آبا ہمارے کہہ گئے
آباء کی یعنی بزرگوں کی ہے۔
بھائی۔:)
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 4، 2017 2:30 شام
اب املا میں ء لکھنے کا تردد نہیں کیا جاتا۔
لکھ دیا جائے تب بھی حرج نہیں۔
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 4، 2017 2:32 شام
قافیہ تنگ ہے، اشعار اچھے ہیں، بہت خوب! :)
بس دو اشعار بیٹھے بٹھائے ہو گئے، تو اسی قافیہ اور بحر کو اختیار کر لیا۔ تنگی کا احساس بہرحال رہا۔ :)
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 4، 2017 2:33 شام
ارے بھائی آپ تو جو بات کہنی ہوتی ہے وہ بھی نہیں کہتے۔۔۔
چپ چاپ درگزر کرجاتے ہیں!!!
ویسے ہر شعر اچھا ہے۔۔۔
خصوصاً نصیحت آمیز مقطع!!!
بہت شکریہ۔
انہونی کا ہی تو خاص طور سے ذکر کیا جاتا ہے۔ :)
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 4، 2017 2:33 شام
واہ واہ واہ بہت خوب
بہت شکریہ
محمد تابش صدیقی — اکتوبر 4، 2017 2:34 شام
بہت شکریہ
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%D8%AC%D9%88-%DA%A9%DB%81%D9%86%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%DA%A9%DB%81%DB%81-%DA%AF%D8%A6%DB%92-%D9%AD-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B4-%D8%B5%D8%AF%DB%8C%D9%82%DB%8C.98526/