برابر اردو شاعری میں اکثر “مسلسل“ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ حسرت موہانی کا شعر تو سب کو یاد ہو گا
الٰہی ترکِ الفت پر وہ کیوں کر یاد آتے ہیں
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن
برابر یاد آتے ہیں
یا پھر فیض ہی کو لے لیجیے
رندوں کے دم سے آتشِ مے کے بغیر بھی
ہے مے کدے میں آگ
برابر لگی ہوئی
مغل صاحب: میں جاگیر والی زمین کی نہیں بلکہ غزل کی زمین (بحر+ قافیہ + ردیف) کی بات کر رہا تھا۔

سنگلاخ زمین سے مراد یہ تھی کہ اس ردیف “بنا رہا ہے مجھے“ میں شعر کہنا آسان نہیں ہے کیوں کہ ہر شعر میں “مجھے بنانے“ کے التزام کے ساتھ ساتھ فعل جاریہ “رہا ہے“ کا بھی اہتمام کرنا پڑتا ہے۔لیکن آپ کی غزل میں کہیں یہ گمان نہیں گزرتا کہ شاعر کو کسی قسم کا تردد کرنا پڑا ہو۔ (سوائے مطلعے کے مصرع اولیٰ کے)۔
یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ لازمی نہیں ہے کہ شعر زبردست آمد کے وفور ہی میں لکھا ہوا ہو ۔۔۔ ایسا کم کم ہی ہوتا ہے ۔۔۔ بلکہ پڑھنے والے کو ایسا لگے کہ شعر ڈھلا ڈھلایا اوپر سے اترا ہوا ہے ۔۔۔ چاہے اس کے لیے شاعر کو کتنے ہی پاپڑ نہ بیلنے پڑے ہوں ۔۔۔ یا بیگم کی طرف سے بیلنے کھانے پڑے ہوں کہ کوئی ڈھنگ کا کام کیوں نہیں کرتے!!!

زیف