غزل: جمالِ یار ، تو ہے ، اور میں ہوں

عرفان علوی — جولائی 25، 2021 7:28 شام
احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
کچھ عرصہ قبل سرور راز سرو رؔ صاحب کی یہ غزل نگاہ سے گزری " کسی کی جستجو ہے ، اور میں ہوں . " مجھے زمین اچھی لگی لہٰذا میں نے بھی اِس میں طبع آزمائی کی . غزل پیش خدمت ہے . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی رائے سے نوازیے .
جمالِ یار ، تو ہے ، اور میں ہوں
کمالِ آرزو ہے ، اور میں ہوں
مری تنہائی بزم آرائی سی ہے
وہ میرے چار سو ہے ، اور میں ہوں
نہیں جنبش لبوں کو چاہ کر بھی
مقامِ گفتگو ہے ، اور میں ہوں
مری خاموشیاں بھی چیختی ہیں
صدائے ہا و ہو ہے ، اور میں ہوں
نہ پوچھو حاصلِ صحرا نوردی
قبائے بے رفو ہے ، اور میں ہوں
عذابِ تشنہ کامی اوج پر ہے
تلاشِ آب جو ہے ، اور میں ہوں
تعاقب میں ہیں جھگڑے دو جہاں كے
مرے پیچھے عدو ہے ، اور میں ہوں
بہرصورت یہیں جینا ہے ، اے دِل
جہانِ تند خو ہے ، اور میں ہوں
سخاوت تیری ، اے ساقی ، کہاں ہے
مرا خالی سبو ہے ، اور میں ہوں
جیالوں کا یہی تمغہ ہے عابدؔ
چُھری زیبِ گلو ہے ، اور میں ہوں
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
صریر — جولائی 25، 2021 8:05 شام
بہت خوب جناب! (y)
ظہیراحمدظہیر — جولائی 27، 2021 4:09 شام
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں علوی صاحب!
بہت داد!
یاسر شاہ — اگست 1، 2021 12:20 شام
بہت خوب۔ ماشاءاللہ
ہر شعر عمدہ۔داد قبول کیجیے۔
سید عاطف علی — اگست 1، 2021 12:24 شام
نہیں جنبش لبوں کو چاہ کر بھی
مقامِ گفتگو ہے ، اور میں ہوں
واہ ۔ بہت خوب علوی صاحب ۔
ایس ایس ساگر — اگست 1، 2021 1:55 شام
ماشاءاللہ۔ عرفان علوی بھائی۔
ہر شعر لاجواب۔ خوبصورت غزل۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ آمین۔
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 1، 2021 2:08 شام
احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
کچھ عرصہ قبل سرور راز سرو رؔ صاحب کی یہ غزل نگاہ سے گزری " کسی کی جستجو ہے ، اور میں ہوں . " مجھے زمین اچھی لگی لہٰذا میں نے بھی اِس میں طبع آزمائی کی . غزل پیش خدمت ہے . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی رائے سے نوازیے .
جمالِ یار ، تو ہے ، اور میں ہوں
کمالِ آرزو ہے ، اور میں ہوں
مری تنہائی بزم آرائی سی ہے
وہ میرے چار سو ہے ، اور میں ہوں
نہیں جنبش لبوں کو چاہ کر بھی
مقامِ گفتگو ہے ، اور میں ہوں
مری خاموشیاں بھی چیختی ہیں
صدائے ہا و ہو ہے ، اور میں ہوں
نہ پوچھو حاصلِ صحرا نوردی
قبائے بے رفو ہے ، اور میں ہوں
عذابِ تشنہ کامی اوج پر ہے
تلاشِ آب جو ہے ، اور میں ہوں
تعاقب میں ہیں جھگڑے دو جہاں كے
مرے پیچھے عدو ہے ، اور میں ہوں
بہرصورت یہیں جینا ہے ، اے دِل
جہانِ تند خو ہے ، اور میں ہوں
سخاوت تیری ، اے ساقی ، کہاں ہے
مرا خالی سبو ہے ، اور میں ہوں
جیالوں کا یہی تمغہ ہے عابدؔ
چُھری زیبِ گلو ہے ، اور میں ہوں
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
خوبصورت، خوبصورت!
بہت سی دادقبول فرمائیے!
عرفان علوی — اگست 1، 2021 10:20 شام
صریر صاحب ، جواب میں تاخییر كے لیے معذرت اور داد کا بہت بہت شکریہ !
عرفان علوی — اگست 1، 2021 10:24 شام
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں علوی صاحب!
بہت داد!
ظہیر صاحب ، آپ کی داد میرے لیے بڑا اعزاز ہے ! بہت بہت شکریہ !
عرفان علوی — اگست 1، 2021 10:26 شام
بہت خوب۔ ماشاءاللہ
ہر شعر عمدہ۔داد قبول کیجیے۔
یاسر صاحب ، آپ کی داد سے بے حد خوشی ہوئی . نوازش کا شکریہ !
عرفان علوی — اگست 1، 2021 10:28 شام
واہ ۔ بہت خوب علوی صاحب ۔
عاطف صاحب ، کل آپ سے ملاقات خوب رہی . داد کا شکریہ !
عرفان علوی — اگست 1، 2021 10:30 شام
ماشاءاللہ۔ عرفان علوی بھائی۔
ہر شعر لاجواب۔ خوبصورت غزل۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ آمین۔
ساگر صاحب ، عنایت كے لیے بے حد ممنون ہوں . بہت بہت شکریہ !
عرفان علوی — اگست 1، 2021 10:31 شام
خوبصورت، خوبصورت!
بہت سی دادقبول فرمائیے!
خلیل صاحب ، کل آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی . آپ کی داد سَر آنكھوں پر ! شکریہ !
صابرہ امین — اگست 2، 2021 2:07 شام
احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
کچھ عرصہ قبل سرور راز سرو رؔ صاحب کی یہ غزل نگاہ سے گزری " کسی کی جستجو ہے ، اور میں ہوں . " مجھے زمین اچھی لگی لہٰذا میں نے بھی اِس میں طبع آزمائی کی . غزل پیش خدمت ہے . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی رائے سے نوازیے .
جمالِ یار ، تو ہے ، اور میں ہوں
کمالِ آرزو ہے ، اور میں ہوں
مری تنہائی بزم آرائی سی ہے
وہ میرے چار سو ہے ، اور میں ہوں
نہیں جنبش لبوں کو چاہ کر بھی
مقامِ گفتگو ہے ، اور میں ہوں
مری خاموشیاں بھی چیختی ہیں
صدائے ہا و ہو ہے ، اور میں ہوں
نہ پوچھو حاصلِ صحرا نوردی
قبائے بے رفو ہے ، اور میں ہوں
عذابِ تشنہ کامی اوج پر ہے
تلاشِ آب جو ہے ، اور میں ہوں
تعاقب میں ہیں جھگڑے دو جہاں كے
مرے پیچھے عدو ہے ، اور میں ہوں
بہرصورت یہیں جینا ہے ، اے دِل
جہانِ تند خو ہے ، اور میں ہوں
سخاوت تیری ، اے ساقی ، کہاں ہے
مرا خالی سبو ہے ، اور میں ہوں
جیالوں کا یہی تمغہ ہے عابدؔ
چُھری زیبِ گلو ہے ، اور میں ہوں
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
بہت خوب، پختہ شاعری اور خوبصورت خیالات ۔ آپ کے مشاعرہ پڑھنے کے شاندار پلس جاندار انداز نے بے حد متاثر کیا ۔ اللہ آپ کے قلم کو اور طاقت دے۔ آمین
عاطف ملک — اگست 3، 2021 8:52 شام
خوبصورت۔۔۔۔بہت عمدہ
بالخصوص
نہیں جنبش لبوں کو چاہ کر بھی
مقامِ گفتگو ہے ، اور میں ہوں

عذابِ تشنہ کامی اوج پر ہے
تلاشِ آب جو ہے ، اور میں ہوں
عرفان علوی — اگست 6، 2021 6:43 صبح
بہت خوب، پختہ شاعری اور خوبصورت خیالات ۔ آپ کے مشاعرہ پڑھنے کے شاندار پلس جاندار انداز نے بے حد متاثر کیا ۔ اللہ آپ کے قلم کو اور طاقت دے۔ آمین
صابرہ صاحبہ ، بہت نوازش ! آپ کا كلام بھی بہت پسند آیا . اللہ آپ كے سخن کو مقبول کرے ( آمین . )
عرفان علوی — اگست 6، 2021 6:46 صبح
خوبصورت۔۔۔۔بہت عمدہ
بالخصوص
عاطف صاحب ، داد كے لیے بے حد ممنون ہوں . مشاعرہ میں آپ كے كلام نے خوب لطف دیا . امید ہے پِھر ملاقات ہوگی .
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 6، 2021 8:15 صبح
خلیل صاحب ، کل آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی . آپ کی داد سَر آنكھوں پر ! شکریہ !
آداب عرض ہے عرفان بھائی۔ یونہی اردو محفل کی شان بڑھاتے رہیے۔
صابرہ امین — اگست 6، 2021 9:35 صبح
آمین
صابرہ صاحبہ ، بہت نوازش ! آپ کا كلام بھی بہت پسند آیا . اللہ آپ كے سخن کو مقبول کرے ( آمین . )
اللہ آپ کی زبان مبارک کرے۔آمین۔
زوجہ اظہر — اگست 6، 2021 12:36 شام
واہ اچھے اشعار ہیں
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84%D9%90-%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%D8%8C-%D8%AA%D9%88-%DB%81%DB%92-%D8%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%DA%BA.117060/